کیرئیر کونسلنگ پر ایک کالم

کیرئیر کونسلنگ پر ایک کالم
کیرئیر کونسلنگ پر ایک کالم

  

دیکھو! تم میٹرک کے امتحانات دینے کے ساتھ ہی میرے پاس یہ پوچھنے کے لئے آ گئے ہو کہ تمہیں کیا بننا چاہئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا فیصلہ توتمہارے امتحانی نتائج کریں گے کہ تم کس شعبے میں جا سکتے ہو مگراس سے پہلے بھی مختلف آپشن ضرور ڈسکس کئے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم سب سے برے آپشن پر جاتے ہیں کہ اگر تمہارا سی یا ڈی گریڈآجائے اور یہ خیال ہو کہ تمہیں اب کسی بھی اچھے کالج میں داخلہ نہیں ملے گا تو دل میں ٹھان لینا کہ ایک دھانسو زندگی گزارنے کے لئے تمہیں وکیل یا صحافی بننا ہے۔ ان دونوں شعبوں کا چناو وہی کرتے ہیں جو معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور آج کل عزت دار وہی ہے جو طاقت ور ہے۔

تم وکیل بنو اوراس کے بعد کسی طاقتور چیمبر سے وابستہ ہونے کے بعد براہ راست کسی بڑی عدالت کے جج بھی بن سکتے ہو، جج بننے کے بعد تہارے مرتبے اور عزت کی حفاظت خود ملک کا آئین کرے گا چاہے تم جس طرح کے مرضی فیصلے کرو کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی جج کو احتساب کے ذریعے نہیں ہٹایا جا سکا اور موجودہ صورتحال میں یہی لگتا ہے کہ اگلے پچاس سے سو برس تک کوئی نئی روایت قائم نہیں ہوگی ، ہاں ، اگر تم وکیل بھی نہ بن سکو تو پھر تم صحافی اور کسی طاقتور پرچی کی بنیاد پر اینکر بھی بن سکتے ہیں۔ اینکر بننے کے بعد تم کسی بھی رات اپنے پروگرام میں جس کی چاہو اور جتنی چاہو بے عزتی کر سکتے ہو اور اگر تم یہ پوچھو کہ کسی شاہد مسعود کی طرح تمہیں جھوٹا بھی قرار دیا جا سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ، اس وقت صحافتی بیک گراونڈ رکھنے والے طاقت ور اینکرز بھی کسی اخلاقی نہیں محض برادری کی بنیاد پر انہیں معافی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تم بھی وہاں سے ہی پوچھ کے پروگرام کرنا جہاں سے پوچھ کے ڈاکٹر شاہد مسعود کرتا ہے تو پھر تمہارے لئے ستے ای خیراں ہیں۔ تم بہت آسانی کے ساتھ آزادی صحافت کے نام پر بہت بڑے بلیک میلر بن سکتے ہو، دولت اورشہرت اس پیکج میں مفت ملتی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارا اے یا اے پلس گریڈ آجائے تو ایسی صورت میں تم ڈاکٹر ، انجینئر یا سول سرونٹ بھی بن سکتے ہو کہ ہر ماں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر ، انجینئر اور پائلٹ ہی بنانے کے خواب دیکھتی ہے۔ دیکھو اگر ڈاکٹر بنو تو وائی ڈی اے کے عہدیدار ضرور بننا جس کے بعد تمہاری نوکری ذرا بھی مشکل نہیں رہے گی اور جب تم ساٹھ برس کے ہوجاو گے اور وائی ڈی اے چھوڑو گے تو اس وقت پروفیسر بن چکے ہوگے، پروفیسر بننے کے بعد بھی تمہارا کام صرف فیسیں لینا ہو گا ورنہ سرکاری ہسپتال میں نہ تم نے پہلے کبھی کام کیا ہو گا اور نہ ہی آگے کرنے کی کوئی ضرورت ہو گی۔ تم پروفیسر بننے کے بعد بڑے بڑے جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹوں کے پاپاوں اور ماماوں کے معالج ہوگے اور کوئی مائی کا لعل تمہیں سرکاری ہسپتال میں گندے مندے غریبوں کا علاج کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ اگر تم بیوروکریٹ بن جاو تو کوشش کرنا کہ ڈی ایم جی گروپ میں چلے جاو تاکہ حکمرانی کا اصل میں مزا چکھ سکو ، بیٹا اس ملک میں اصل حکمرانی بیوروکریسی کو ہی زیبا ہے چاہے حکومت جمہوری ہو یا غیر جمہوری، یہ سدابہار حکمران رہتے ہیں جبکہ عوامی مینڈیٹ کے نام پر حکومتیں کرنے والے انہی کے سہارے اپنے حکمرانی انجوائے کرتے ہیں، ہاں، اگراینٹی کرپشن اور نیب جیسے کسی ادارے میں داو لگ جائے تو کیا ہی بات ہے پھر تم اس ملک میں دوسرے نمبر پر سب سے طاقت ور شعبے سے وابستہ ہوجاو گے۔ اب تم پوچھو گے کہ پہلا طاقتور ادارہ کون سا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ تمہارے پاس اتنا دماغ تو ہونا چاہئے کہ یہ سوال مجھ سے مت پوچھو۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ نتیجہ آنے پر ابا جان تمہیں ا پنی دکان پر بٹھا دیں ، دکان کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ اپنے کاروبار سے بہتر کیا بات ہے مگر پھر ممکن ہے تمہارے ذہن میں سیاست کا کیڑا رینگنے لگے۔ دیکھو سیاست اس ملک میں سب سے مشکل کام ہے اور ایسے ایسے لوگوں کی ووٹوں کے لئے خوشامد کرنا پڑتی ہے جسے تم کبھی منہ بھی لگانا پسند نہ کرو، ہر ایرا غیرا نتھو خیرا تمہارے سر پر چڑھ جاتا ہے، لوگوں کے کام بیوروکریسی نہیں کرتی اور جھوٹ تمہیں بولنے پڑتے ہیں۔ اگر تم سیاست کرنا ہی چاہو تو ایسی سیاسی جماعت جوائن کرنا جس کے لیڈروں کا مالش اور پالش کا اچھا چلتا ہوا کاروبار ہو، جو عوامی حمایت کی بجائے امپائر کی انگلی پر ایمان رکھتے ہوں، جو سب سے زیادہ بدتمیز اور بدلحاظ ہوں۔

تم چاہے خود جتنے مرضی بڑے محل میں رہنا مگر بات ہمیشہ انقلاب کی کرنا۔اگرکبھی انقلابی شاعری پڑھتے ہوئے دل میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور عوامی حاکمیت کے قیام جیسے خیالات آنے لگیں تو پہلے ان شاعروں کی حقیقی زندگی کے حالات ضرور پڑھ لینااور پھر ان کے بارے بھی جان لینا جو ایسی خواہشات رکھتے ہوئے دنیا سے چلے گئے۔ دیکھو بیٹا اپنا کاروبار کرتے ہوئے عوام اور سچ کی سیاست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم نیب کے ہاتھوں دھر لئے جاو ، تمہارے کاروبار کا بیڑہ غرق ہوجائے اور تمہارے بیوی بچے ہر وقت خوفزدہ رہیں۔ ویسے بھی قومی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں آئین اور عوام کی بات کرنے والے ہمیشہ کافر اور غدار قرار پاتے ہیں جبکہ محب وطن اور مذہب پسند حلقے ایسی بے وقوفی کبھی نہیں کرتے۔ مذہب پسند حلقوں سے یاد آیا کہ اگرکچھ نہ بن سکو تو مولوی بن جانا اوراس کے بعد جس کو چاہو ماں اور بہن کی گالی دویا قتل کے فتوے کہ پھر وہ بھی تم سے جواب طلبی نہیں کریں گے جن کے ہاتھوں دستاروں کا تار تار ہونا روایت ہو چکا ہو۔

یاد رکھنا کہ اگر کاروبار کرنا ہی ضروری ٹھہرے توتعلیم یا صحت کے شعبے میں ہی کاروبار کرنا کہ اس میں تم جتنی بھی لوٹ مار کر لو تمہیں عوامی خدمت کا سرٹیفیکیٹ حاصل رہے گا جیسے ہمارے ایک سیاستدان کے بارے میں کسی نے لکھا کہ انہوں نے اپنی قوم کی محبت میں کوئی کاروبار نہیں کیا، کوئی صنعتیں نہیں لگائیں، کسی دل جلے نے انہیں جواب دیا کہ انہوں نے ہسپتال بنائے اور یونیورسٹیاں بنائیں، بھلا اس سے بہتر کاروبار کون سے ہیں جو موٹرسائیکلوں پر گھومنے والوں کو مرسیڈیز یں تقسیم کرنے والا بنا دیتے ہیں ،یہ تو وہ کاروبار ہیں جن کی آمدن بارے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہاں ضائع کی جائے، پہلے فلمیں بنائی جاتی تھیں اور اب ان کی جدید ترین شکل میڈیا انڈسٹری کی صورت میں وجود میں آ گئی ہے جو محض کاروبار ہی نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سارے کاروباروں کی انشورنس بھی ہے۔

دیکھو بیٹا اگر ڈی یا ایف گریڈ آجائے تو تب بھی کبھی چور یا ڈاکو بننے کی کوشش مت کرنا بلکہ اوپر دی گئی بی یا سی گریڈ والی تجویز پر عمل کر لینا۔ اگر تم چور یا ڈاکو بنے تو تمہارا انجام وہی ہو گا جوایک حقیقی عوامی ، جمہوری سیاسی رہنما بننے کی صورت ہو سکتا ہے، تمہیں جیل میں ڈالا جا سکتا ہے اور پھانسی بھی دی جا سکتی ہے جبکہ لوگوں سے گالیاں مفت میں کھانے کو ملیں گی لہذ اکوئی چول مت مارناپلیز۔

مزید : رائے /کالم