نہال ہاشمی کی نشست ،ن لیگ نے سیمی فائنل جیت لیا

نہال ہاشمی کی نشست ،ن لیگ نے سیمی فائنل جیت لیا

پنجاب اسمبلی میں یکم مارچ کو نہال ہاشمی کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک سیمی فائنل ثابت ہوا ہے اور سینٹ کے اس ضمنی الیکشن میں حکمرن جماعت مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے تا حیات صدر میاں محمد نواز شریف اور نو منتخب قائم مقام صدر وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں پوری طرح سے متحد کھڑے ہیں اس ضمنی الیکشن سے ایک روز قبل وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ایوان وزیراعلی میں پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کی اور ہدائت کی کہ سارے کے سارے ارکان اسمبلی ووٹ ڈالنے کے لئے ضرورآئیں اور پھر ایسا ہی ہوا مسلم لیگ (ن) کے صرف وہی ارکان ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں آئے جو شدید بیمار تھے یا پھر ملک میں موجود نہیں تھے اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے تمام کے تمام ووٹ کاسٹ ہوئے اور ان سب نے اپنی ہی پارٹی کے حمائت یافتہ امیدوار ڈاکٹر اسد اشرف کو یکسوئی کے ساتھ ووٹ دیا ۔

 

یہاں پر یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ ڈاکٹر اسد اشرف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والی امیدوار ڈاکٹر زرقا اور ان کے قائد عمران خان نے بھی اس ضمنی الیکشن سے ایک روز قبل مال روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں پی ٹی آئی کی پارلمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ دوسری جماعتوں کے لوگ بھی ان کو ووٹ دیں گے ان کا درپڑدہ اشارہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی طرف تھ اکہ وہ بھی ان کوووٹ دیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور صرف مسلم لیگ (ن) کے حممائت یافتہ امیدوار ڈاکٹر اسد اشرف کو ہی ووٹ دیا البتہ پی ٹی آئی مسلم لیگ (ق) کے آٹھ ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی نے تحریک انصاف کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کردیا یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی کی امیدوار اٹتیس ووٹ لینے کے باوجود اس لئے ہار گئیں کہ ان کی اپنی جماعت کے صرف تیس ووٹ تھے اور پیپلز پارٹی نے بھی اپنے آٹھ ووٹ نہ تو پی ٹی آئی کو دئیے اور نہ ہی (ن) لیگ کو دئیے ۔

 

یہاں پر یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ تقریبا ساڑھے چار سال منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر ارکا ن اسمبلی کو اسمبلی کے ایوان میں بلانے کے لئے نہ تو اسمبلیاں کی گھنٹیاں بجانے کی ضرورت پیش آئی اور نہ ہی ان کے لئے (ن) لیگ کو کوئی خاص جدوجہد کرنا پڑی بلکہ ارکان اسمبلی خود ہی آتے رہے اور اپنا ووٹ کاسٹ کرکے گھروں کو جاتے رہے اور اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کااتحاد دیدنی تھا اس لئے راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ یہ ضمنی الیکشن مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک سیمی فائنل ثابت ہوا ہے اور آج تین مارچ کا فائنل بھی مسلم لیگ (ن) با آسانی جیتنے مین کامیاب ہو جائے گی اور مسلم لیگ (ن) کی یہ کامیابی صرف پنجاب اسمبلی میں ہی نہیں بلکہ کی پی کے اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں بھی نظر آئے گی البتہ سندھ سے پیپلز پارٹی اپنی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اگر یہ کہا جائے کہ اس سینٹ کے الیکشن میں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان نہیں ہے تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا ۔

 

یہاں پر یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) ووٹ کے میدان میں تو واضح برتری حاصل کر پائے گی لیکن اگر جس طرح سے پی ٹی آئی نے اس جماعت کے آزاد امیدواروں کو چیلنج کررکھا ہے اگر اس پر الیکشن کمیشن یا عدالت کی طرف سے کوئی فیصلہ آ گیا تو پھر (ن) لیگ کی یہ اکثریت اقلیت میں بھی بد ل سکتی ہے تاہم اس بات کا تو ابھی کوئی امکان ہے ۔

مزید : رائے /کالم