برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو 1981 میں قتل کرنیکی سازش بے نقاب

برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو 1981 میں قتل کرنیکی سازش بے نقاب

ڈونیڈن(آئی این پی) برطانوی ملکہ ایلزبتھ کو قتل کرنیکی سازش بے نقاب ہوگئی ،تازہ افشا کردہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے 1981میں نیو زی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ملک برطانیہ الزبتھ دوم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کی سکیورٹی انٹیلی جنس سروس(ایس آئی ایس)نے تصدیق کی ہے 17سالہ کرسٹوفر لیوس نے نیوزی لینڈ کے شہر ڈونیڈن میں ملکہ پر گولی چلائی تھی،اسوقت پولیس نے اس بات کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا جو آواز آئی تھی وہ گولی چلنے کی نہیں بلکہ ایک سائن بورڈ کے گرنے کی آ و از تھی،ایک سابق پولیس اہلکار اور مقامی میڈیا نے کہا ہے پردہ پوشی کی اس کوشش کے پیچھے یہ ڈر تھا کہ آئندہ برطانیہ سے شاہی مہمان یہاں آنا چھوڑ دیں گے۔ڈونیڈن میں 14اکتوبر 1981کو شاہی پریڈ ہوئی تھی۔لیوس کو تھوڑی ہی دیر بعد گرفتار کر لیا گیا اور پولیس نے پریڈ کے مقام کے قریب ایک عمارت سے ایک رائفل اور چلی ہوئی گولی کا کھوکھا برآمد کیا تھا۔لیوس پر ملکہ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد نہیں کیا گیا، اس کی بجائے ان پر غیرقانونی طور پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔لیوس نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا وہ ایک مسلح تنظیم کے سربراہ ہیں لیکن ایس آئی ایس کو اس کے کوئی شواہد نہیں ملے اور کہا یہ لیوس کا 'ہذیان' تھا۔قید کی سزا کاٹنے کے بعد لیوس نے کئی ڈکیتیاں کی اور بالآخر 1997میں جیل میں خودکشی کر لی۔

مزید : صفحہ آخر