نواز شریف کا بیانہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ مقبول ہو چکا: فضل الرحمٰن

نواز شریف کا بیانہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ مقبول ہو چکا: فضل الرحمٰن

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ اداروں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ دھرنے کے دنوں میں جس طرح سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا وہ اب نہیں ہے، نواز شریف کا بیانیہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘عوام میں مقبول ہو چکا ہے، بڑے بڑے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے۔ وہ جمعہ کو پارلیمنٹ میں نماز جمعہ کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن 2018میں مسلم لیگ (ن)کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں، ایم ایم اے بحالی کی شکل میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں لیکن یہ باتیں ابھی قبل از وقت ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بہ نسبت شہباز شریف کا رویہ نرم ہے، شاید ان کے ذہن میں ہے کہ پنجاب اور وفاق میں حکومت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف کا رویہ جارحانہ ہے، جسے اب وہ برقرار رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا بیانیہ منوالیا ہے، وہ اپنے جلسے جلوس میں کہتے پھرتے ہیں کہ مدعی نے خود تسلیم کرلیا ہے کہ فیصلہ غلط آیا ہے، ان کی بات کو اب سنجیدہ طبقے نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اداروں کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کا تاثر نہیں ابھرنا چاہیے لیکن نیب کی پوری تاریخ دیکھ لیں کسی کی ایک ماہ میں دو پیشیاں ہوں لیکن میاں نواز شریف کی ہفتے میں دو دو پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ چیف جسٹس کی جانب سے خدا کی قسم کھانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ کسی کو قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی اگر وہ اپنے کام سے مطمئن ہیں تو پھر انہیں یقین دہانیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر