ہندو برادری نے ہولی کا تہوار منایا ‘ رنگوں کی بہار‘ موج مستی

ہندو برادری نے ہولی کا تہوار منایا ‘ رنگوں کی بہار‘ موج مستی

ملتان (سٹی رپورٹر)ہندو برادری نے ہولی کا تہوار اپنے مذہبی جوش و خروش سے منایا۔ رنگوں کی بہار اور موج مستی کے علاوہ ہندو برادری نے پاکستان کی سلامتی کے لئے پرارتھنا بھی کی۔ اس سلسلے میں ملتان میں واقع مختلف مندروں کبیر نواس مندر باغ لانگے خان، بالمیک مندر چوک ڈبل پھاٹک(بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

، بیل احاطہ مندر شیر شاہ روڈ کینٹ، دیوی مندر لودھی کالونی، پرانا شجاع آباد روڑ پر بھٹہ کالونی اور دیگر مقامات پر رنگوں کی ہولی منانے کے ساتھ ساتھ خصوصی پوجا کی گئی اور بھجن گائے گئے۔ تقریبات میں سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ تقریبات کا آغاز مندروں میں پوجا پاٹ کرکے اور بھجن گا کر کیا گیا، اس موقع پر ہندو برادری نے پر شاد تقسیم کیا اور گھروں میں طرح طرح کے پکوان تیار کرکے رشتہ داروں، احبابوں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا۔ بعد ازاں ہندو مرد و خواتین نے کی ٹولیوں کی شکل میں ہولی کھیلی اور مٹکی توڑنے کے مقابلہ جات میں حصہ لیا۔ ہولی کی رنگ بھری مٹکی توڑنے کا سب سے بڑا مقابلہ بالمیک مندر ڈبل پھاٹک میں ہوا جس میں مختلف علاقوں میں مقیم ہندو نوجوانوں کی 7سے زائد ٹولیو ں نے حصہ لیا۔ علاوہ ازیں ہولی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، ہولی کی تقریب میں شرکت کرنے والے افراد کو چیکنگ کے بعد اندر جانے دیا گیا۔ دریں اثناء مذہبی تہوار کے موقع پر ہندو برادری کی جانب سے ایک دوسرے کو تحفے تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا اور مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ واضح رہے کہ ہولی کے تہوار کا آغاز ایک رات قبل آگ جلا کر کیا ہوتا ہے، ہندو برادری کا ماننا ہے کہ وہ اس آگ میں اپنی تمام برائیوں کو جلا کر ختم کرتے ہیں۔ اگلے روز موسم بہار کی آمد اور نئی فصل کی آنے کی خوشی میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے اور رنگوں سے کھیلا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہندو برادری کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ سب ہی ایک دوسرے کے چہروں پر رنگ ملتے اور پھینکتے ہیں۔ اس روز ہندو برادری کے افراد ایک دوسرے کو تحفے تحائف بھی پیش کرتے ہیں جب کہ گھروں پر تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ہندو مت میں ہولی کو دیوالی کے بعد سب سے بڑا تہوار تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز ہولی کے موقع پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے چاہنے والوں کے گھر گئیاور اس دن کی مبارکباد دی۔ دریں اثناء گزشتہ روز ہولی کے موقع پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ، پیلے، نیلے اور سبز جیسے خوبصورت رنگوں کا یہ تہوار بچوں اور بڑوں سب کا پسندیدہ تہوار ہے، ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری بھی آزادانہ اپنے تہوار منا سکتے ہیں کیونکہ اپنا ملک آزاد ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہولی کا تہوار بدی پر نیکی کی فتح کی یاد دلاتا ہے، ہولی کے تہوار پر ایک دوسرے کے پر مختلف رنگ پھینک کر خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بالمیک مندر ڈبل پھاٹک چوک میں رنگوں کی مٹکی توڑنے والے دو گروپوں میں جھگڑا بھی ہوا تاہم بعد میں معاملہ رفع دفع کرا دیا گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر