کراچی ،کالعدم القاعدہ کا نیٹ ورک چلانے والا روپوش دہشت گرد گرفتار

کراچی ،کالعدم القاعدہ کا نیٹ ورک چلانے والا روپوش دہشت گرد گرفتار

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی پولیس نے کہ مومن آباد کے علاقے سے القاعدہ کا نیٹ ورک چلانے والے روپوش دہشت گرد احسن مسعود فریدی عرف روشن ولد راس محمد کو گرفتار کر لیا ہے ۔ یہ بات ایس ایس پی ویسٹ عمر شاہد حامد نے جمعہ کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار دہشت گرد احسن مسعود فریدی کے تانے بانے سانحہ صفورہ میں ملوث دہشت گردووں سعد عزیز اور طاہر سے ملتے ہیں ۔ ملزم مسعود فریدی کورنگی کے علاقے میں 2013 میں رینجرز افسر بریگیڈیئر باسط پر خود کش حملے کی منصوبہ بندی کا سرغنہ تھا ۔ جبکہ 2013-14 میں صدر میں پولیس موبائل پر حملہ سمیت 9 سے زائد لیسز میں شامل تھا ۔ ملزم کا 2014 کے بعد طاہر سائیں اور سعد عزیز کے گرپوں سے نظرثانی اختلافات ہو گیا تھا ، جس کے بعد اس نے علیحدگی اختیار کرکے روپوشی اختیار کر لی تھی اور اب اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں القاعدہ کے ہیلپر سیلز کے طور پر کام کر رہا تھا اور ایک نئے گروپ کو بنانے کی نیت سے کراچی واپس آیا ۔ دہشت گرد نے اسلحہ ، بارود ، ایک مقام پر ڈیپ کیا ہوا تھا ۔ دہشت گرد نے ایم کیو ایم کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی ۔ ایس ایس پی عمر شاہد حامد نے دعوی کیا ہے کہ ملزم کا بھائی علی مسعود فریدی عرف معافر ورچچا ریڈ بک میں انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں ، جو کہ 2016 ء میں شکارپور بم دھماکے میں مطلوب ہیں ۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ جنوری 2013 میں ملزم کے بھائی علی مسعود نے طاہر سائیں سے بہادر آباد میں تعارف کرایا جبکہ ملزم نے اس کے بعد تنظیم میں شامل ہو کر اپنا حلیہ تبدیل کر لیا ۔ فروری 2013 ء میں ملزم اپنے ساتھ کامران گجر ، طاہر سائیں سے لیاقت نیشنل اسپتال کی مسجد میں ملاقات کی اور وہاں انہیں 4 سے 5 پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنے کی ہدایت دی گئی اور ساتھ رابطہ کرنے کے لیے فون اور موبائل کی سم بھی دی گئی ۔ 2013 ء میں ہی ملزم اپنے ساتھی کامران گجر ، طاہر سائیں سے متین سینٹر ناظم آباد میں ملا ، جہاں اسے ایم کیو ایم الطاف کے ایم این اے اور ایم پی اے کی نقل و حرکت کی اطلاع اکٹھی کرنے کی ہدایت دی گئی اور باالخصوص ڈاکٹر فاروق ستار کی ریکی کرنے کو کہا گیا ۔ 2013 ء میں ہی ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اکبر روڈ صدر سوزوکی شوروم پر فائرنگ کی ، جبکہ 2013 میں بوہری جماعت کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا ۔ بعد ازاں اپنے ساتھی طاہر سائیں کے ہمراہ سوک سینٹر کے قریب کھڑی پولیس موبائل میں ایک پولیس اہلکار کو ٹارگٹ کیا ۔ ایک اور کارروائی میں طاہر سائیں کے ہمراہ ایم اے جناح روڈ پر ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بنایا ۔ طاہر سائیں کے ہمراہ حیدر آباد میں ایک رینجرز اہلکار کو بھی ٹارگٹ کیا ۔ 2013 میں ہی اپنے ساتھی طاہر سائیں کامران گجر اور دیگر کے ہمراہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جبکہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایم کیو ایم الطاف گروپ سے تعلق رکھنے والے محمد عثمان کو اغواء اور تشدد کے بعد قتل کیا ۔ ملزم نے 2013 ء میں اپنے ساتھی طاہر سائیں کے ہمراہ برنس روڈ پر میٹنگ کی ، جہاں ایک پٹھان 25 سالہ نوجوان کا تعارف کرایا گیا ۔ اس موقع پر سعد عزیز اور حافظ عمر بھی موجود تھے ۔ بعد ازاں لڑکے نے بریگیڈیئر باسط پر خود کش حملہ کیا ۔ ملزم سعد عزیز اور طاہر سائیں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ ہے ۔ ملزم کے قبضے سے کلاشنکوف ، پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ۔ ملزم سیاسی جماعتوں کے مخالفین سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنانا چاہتا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں ایس ایس پی عمر شاہد حامد نے بتایا کہ القاعدہ اور ان جیسی دوسری تنظیموں سے متاثر افراد کا اورنگی ٹاؤن میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود تھا ۔ جسے ختم کیا جا چکا ہے ۔ تاہم اب بھی کچھ افراد سیلپر سیلز کے طور پر علاقے میں موجود ہیں ۔ اطلاع ملنے پر ان سیلپرز سیلز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ داعش میں شامل افراد کا بیک گراؤنڈ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس گروپ کے اکثر افراد سیکولر بھی ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے سندھ کی تمام یونیورسٹی سے رابطہ کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ تشدد پسندانہ سوچ کے حامل افراد کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے تاہم اس حوالے سے کام جاری ہے ۔

مزید : رائے /کراچی صفحہ اول