حالات کا ضبر،ایم کیو ایم کے دھڑے مل بیٹھے ،کارکن پر امید

حالات کا ضبر،ایم کیو ایم کے دھڑے مل بیٹھے ،کارکن پر امید

کراچی (رپورٹ/نعیم الدین) متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں اور رہنماؤں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوگئی ہے ۔ سینٹ کے انتخابات کیلئے ایم کیو ایم کے دونوں گروپ ایک جگہ بیٹھنے پر مجبور ہوگئے اور سینٹ کے معاملات کو طے کرلیا جبکہ رابطہ کمیٹی کے معاملات اپنی جگہ باقی ہیں۔ اس وقت صورتحال بہت دلچسپ ہوگئی ہے ، کارکنوں اور رہنماؤں نے سکھ کا سانس لیا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں کیا ایم کیو ایم سینٹ میں اپنی ٹارگٹ کی گئی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ کیونکہ اس وقت سندھ اسمبلی میں 165 ارکان اسمبلی 12 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالیں گے۔ اس طرح پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تعداد 94ہے۔ اگر مجموعی طور پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی نشستوں کی بات کریں تو وہ ہوں گی 72، متحدہ قومی موومنٹ کی تعداد 50ہے، فنکشنل کی تعداد 9، مسلم لیگ (ن) 7، تحریک انصاف 4، نیشنل پی پی کا ایک اور آزاد رکن بھی ایک ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم پاکستان کے دس اراکین منحرف ہو کر مستعفی ہوگئے تھے، جن کے استعفے ابھی تک منظور نہیں ہوئے۔ ان میں سے آٹھ اراکین پی ایس پی اور ایک پیپلز پارٹی میں شامل ہوگیا ہے۔ جبکہ ایک نے کہیں بھی شمولیت اختیار نہیں کی، اسی طرح تحریک انصاف کا ایک رکن پی ایس پی میں شامل ہونے کا اعلان کرچکا ہے، تاہم ان منحرف ہونے والے اراکین کے استعفے ابھی تک منظور نہیں ہوئے، سات جنرل نشستوں کیلئے ایک امیدوار کو 24 ووٹ لینا ضروری ہے، پیپلز پارٹی کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ ان حالات کا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرے۔ کیونکہ سیاست میں یہ چیز جائز ہے، لیکن مصطفی کمال کی پارٹی اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ وہ ہرگز ہرگز ان حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کریگی ۔ آج کی فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس سے اس بات کے واضح اشارے مل رہے تھے اور متحدہ پاکستان کے دونوں دہڑوں کے سربراہوں کی باڈی لینگویج سے اندازہ ہورہا تھا کہ دونوں بے دلی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سینٹ کی نشستوں کے انتخابات ہونگے تو اس میں کیا صورتحال بیٹھی ہے ،پیپلز پارٹی اور متحدہ کو کتنی سیٹیں ملتی ہیں، کیا ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے جو کہ بظاہر ایک ہوگئے ہیں کیا یہ دونوں دھڑے اپنے اراکین کو ایک کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ ماضی میں ایم کیو ایم دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتی تھی، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم اپنے ہی ایک دھڑے سے انتخابی اتحاد کررہی ہے، سیاسی حلقے بہت پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکے تھے کہ یہ دونوں دھڑے بہت جلد یا سینٹ کے انتخابات کے بعد ایک ہوجائیں گے ۔ لیکن اتفاق سے یہ دونوں دھڑے فوری طور پر ایک ہوگئے ہیں۔ جو کہ متحدہ کیلئے خوش آئند بات ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا رابطہ کمیٹی بھی الیکشن کے بعد ایک ہوجائیگی۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا فائدہ پیپلز پارٹی کو مل سکتا ہے جو کہ متحدہ پاکستان کیلئے ایک المیہ ہوگا اور اس کو ٹارگٹ پورا کرنے میں مشکل نہیں ہوگی، ان تمام باتوں میں ایک اہم بات کامران ٹیسوری جو کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کیلئے بہت مشکل حالات پیدا کئے ہوئے تھے ،جس کی وجہ سے اتنا بڑا تنازع کھڑا ہوا ، لیکن چونکہ سینٹ کے انتخابات آج ہورہے ہیں ، جس کی وجہ سے دونوں دھڑوں کو متحد ہو کر بیٹھنا پڑا تاکہ تمام ارکان اسمبلی کے فوری طور پر یکسوئی لائی جاسکے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے میں مشکل پیش نہ آئے، آج کی ان دونوں کی بیٹھک سے اندازہ یہ ہوا کہ یہ بیٹھک صرف اور صرف سینٹ کے الیکشن کی وجہ سے ہوسکی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ ہم کبھی بھی نشستوں کیلئے نہیں بھاگتے بلکہ اپنے ووٹر کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور ان ہی کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ بیٹھنے کا نتیجہ آج برآمد ہوجائے گا۔ الیکشن کے بعد عوامی حلقے کسی بھی یہ خواہش ہے کہ کراچی میں سکون رہے ، سیاسی پارٹیاں صرف عوام کیلئے ہی کام کریں۔

مزید : رائے /کراچی صفحہ اول