سکندر اعظم کی فتح میں مشکلات پیدا کرنیوالا ’’قلعہ منکیرہ‘‘ زوال پذیر

سکندر اعظم کی فتح میں مشکلات پیدا کرنیوالا ’’قلعہ منکیرہ‘‘ زوال پذیر

ملتان (سٹی رپورٹر)سکندر اعظم کی فتح میں مشکلات پیدا کرنے والا ’’قلعہ منکیرہ‘‘ زوال پذیر ہو گیا۔ حکمرانوں کی عدم توجہ کی وجہ سے تین ہزار سال پرانا قلعہ زمین بوس ہونے کے قریب ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے جامع رپورٹ تیار کرنے کے باوجود قلعہ کی بحالی کا کام شروع نہیں کرایا(بقیہ نمبر44صفحہ7پر )

جا سکا۔ واضح رہے کہ ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ میں واقع قلعہ منکیرہ ایک ہزار سال قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا۔ قلعہ کو فتح کرنے کے لئے سکندر اعظم کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا، سکندر اعظم کے بعد مسلم جرنیل محمد بن قاسم کے نائب اسود زوہیر، مغل بادشاہ اور راجہ رنجیت سنگھ بھی اس قلعہ کو فتح کرنے والوں میں شامل ہیں۔ قلعہ قدیمی ریاست منکیرہ کی واحد یاد گار ہے جو دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ آثار قدیمہ نے بھکر شہر میں واقع ’’باغ دلکشا‘‘ کی بحالی کے لئے بھی رپورٹ تیار کی تھی مگر تاحال یہ دونوں رپورٹس سرخ فیتے کی نذر کی ہوئی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے منکیرہ فورٹ کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی کہا گیا تھا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر