مظلوم شامی معصوم بچوں کی پکار پر امت مسلمہ لبیک کہے،مولانا سجاد شاہد

مظلوم شامی معصوم بچوں کی پکار پر امت مسلمہ لبیک کہے،مولانا سجاد شاہد

مظفرآباد(بیورورپورٹ)مظلوم شامی معصوم بچوں کی پکار پر امت مسلمہ لبیک کہے شامی بچوں کی آہ و پکار عرش عظیم کو ہلارہی ہیں اگر ان مظلوم کی حمایت و نصرت نہ کی گی تو امت مسلمہ اجتماعی عذاب کا شکار ہو جائے گی مسلمان یہودی و عیسائی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں موجودہ وقت میں شامی مسلمانوں کی مالی امداد انتہائی ضروری ہے ان خیالات کا اظہار فلاح امہ ٹرسٹ آزادکشمیر کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد سجاد شاہد نے کوٹلی راولاکوٹ فاروڈ کہوٹہ کے دورہ کے دوران مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ وقت کے فرعون اسرائیل امریکہ اور روس اکھٹے ہو کر نہتے و مظلوم شامی مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں وہاں کارپٹ بمباری کی جارہی ہے اور زہریلی گیس چھوڑی جا رہی ہے جسکی وجہ سے بچے عورتیں اور بوڑھے ہزاروں کی تعداد میں شہید ہو چکے ہیں ظا لموں نے ہسپتالوں سکولز و کالجز کو بھی نہیں بخشا مہاجرین کی تعداد کروروں میں ہے جن میں سے 50لاکھ تو صرف ترکی میں پناہ گزین ہیں اور کئی لاکھ دیگر پڑوسی ممالک کی سڑکوں فٹ پاتھوں اور گلیوں میں بے یارو مدد گار پرے ہوئے ہیں ان مظلوم مسلمانوں کے پاس نہ تو تن ڈھاپنے کیلے کپڑے ہیں اور نہ ہی اوڑنے بچھونے کیلے بستر ہیں اور نہ ہی کھانے پینے کیلے اشیاء خوردونوش نہ ہی علاج معالجے کیلے ادویات ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت مظلوم مسلمان ہماری مدد کے منتظر ہیں اور ہم سب چین و سکون کی نیند سو رہے ہیں یہ لمحہ فکرئیۂ ہے عالم کفر امت مسلمہ کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے کفار سارے متحد ہیں اور ہم عربی و عجمی کالے و گورے میں تقسیم ہیں اور رہی سہی کسر فرقہ واریت نے پوری کر دی ہے یہ وقت برادریوں فرقوں اور گروھوں میں بٹنے کا نہیں ہے بلکہ یہ وقت مثالی اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کا ہے علماء کا فرض بنتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو وحدت امت کا درس دیں اور تمام اختلافات کو با لائے طاق رکھکر اپنے مظلوم مسلمان بھایؤں کی امداد کیلے اٹھ کھڑے ہوں انہو ں نے کہا کہ کشمیر ہو یا افغانستان برما ہو یا فلسطین اور عراق ہو یا شام وہا ں پر بہنے والا خون مسلم بڑا ہی پاکیزہ ہے اور ان مظلوموں کے پاکیزہ روح کا بدلہ لینا ہر مسلمان کی زمہ داری ہے یہی نہیں بلکہ مظلوم مہاجرین کی ہر طرح امدا دکرنا بھی تمام مسلمانوں کا دینی ملی و اسلامی فریضہ بھی ہے فلاح امہ ٹرسٹ نے اپنی بساط کے مطابق برما کے مسلمانوں کی آباد کاری میں حصہ لیا تھا اب شام کے مجبور و مقہور مسلمانوں کی بحالی و آباد کا ری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تمام مسلمانوں سے گزرش ہے کہ وہ اپنے مظلوم مسلمانوں کی کھلے دل کے ساتھ امداد کریں انہوں نے کہا کہ یہ مال و دولت دنیا کی زیب و زینت ہے یہ دنیا میں ہی رہ جانا ہے اگر ہمارا یہ مال کسی مجبور کے کا م آگیا تو ہماری آخرت سنور جا یئگی انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو اور دوسرا حصہ مطمئن رہ سکے

مزید : رائے /راولپنڈی صفحہ آخر