کشمیری مہاجیرن کی نشستوں کے خاتمے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

کشمیری مہاجیرن کی نشستوں کے خاتمے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

مظفرآباد(بیورورپورٹ)مہاجرین نشستوں کے خاتمے کے متعلق ہائی کورٹ کی طرف سے رٹ خارج کیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر کے دوبارہ ہائی کورٹ کو سماعت کے لیے بھیج دی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے لیے معروف وکلاء کرم داد خان ایڈووکیٹ اور راجہ امجد علی خان نے اکتوبر 2014میں ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تھی ہائی کورٹ نے 31مارچ 2016کو رٹ پٹیشن اس بنیاد پر خارج کردی تھی کہ رٹ میں زیر بحث لائے گئے جملہ نکات کا فیصلہ شاہ غلام قادر کیس میں ہوچکا ہے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سنیئر وکلاء نے 28مئی 2016کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جسے سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا سنیئر وکلاء سردار کرم داد خان اور راجہ امجد علی خان نے اپنی رٹ میں موقف اختیار کیا تھا کہ مہاجرین مقیم پاکستان ملک پاکستان کے اندر لوکل باڈی سے سینٹ تک کا الیکشن لڑنے کا حق رکھتے ہیں وہ پاکستان کی علاقائی حدود میں رہتے ہیں عبوری آئین 1974کے تحت آزاد کشمیر کی علاقائی حدود ریاست تک محدود ہیں الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر کا اختیار ریاستی حدود تک ہے پاکستان کی حدود کے اندر الیکشن کروانے کے لیے کسی بھی آفیسر کو حکم یا اس کے خلاف فیصلہ یا داندلی پر کاروائی کا حق الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے پاس نہیں جس کی واضع مثال لاہور ویلی کا حلقہ ہے جو 2011سے2016تک خالی رہا سنیئر وکلاء نے اپنی رٹ میں آئینی نکات کے حوالے سے جو نکات اٹھائے ہیں ان میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے مطابق جو باشندہ ریاست کے اندر رہائش پزیر نہ ہو وہ ریاست سے سیاسی حقوق حاصل کرنے کا مجاز نہ ہے ریاست کے لوگوں کے ٹیکسز زسے حاصل ہونے والی رقم بھی ریاست کی حدود سے باہر خرچ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی ایسا آئینی و انتظامی ادارہ پاکستان کی حدود میں قائم ہے جو آزاد کشمیر کی عدالتوں کے سامنے جواب دے ہو مہاجرین مقیم پاکستان جمعلہ ٹیکسزز صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ادا کرتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے لوگ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ ان پر خرچ کیے جاتے ہیں،آئین کی دفع اکتیس3اور الیکشن آرڈی نینس 1970کی دفع دو اور تین کا اہم قانونی معاملہ عدالت کے روبرو رکھتے ہوئے مہاجرین کی نشستوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا،سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ ان قانونی نکات پر آئین اور قانون کی منشا کے مطابق ازسرنو فیصلہ کرے سپریم کورٹ نے وکلاء کی جانب سے پیش کردہ تحریری دلائل اور ریکارڈ بھی ہائی کورٹ کو بیجھتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ مقدمہ کے متعلقہ آئینی معاملات کو زیر غور لایا جائے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضع طور پر لکھا کہ شاہ غلام قادر کیس میں جو قانونی اصول واضع کیے گئے وہ اپیل ہذا میں اٹھائے گے نکات سے بلکل مختلف ہیں لہذا ہائی کورٹ ان تمام امور کا جائزہ لے جو آئین اور قانون کی منشا کے مطابق ہیں

مزید : رائے /راولپنڈی صفحہ آخر