سینٹ الیکشن،سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کا پلڑابھاری

سینٹ الیکشن،سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کا پلڑابھاری

(تجزیہ:کامران چوہان)

سندھ میں سینٹ کی نشستوں کے حصول کیلئے سیاسی جماعتیں مسلسل سرگرداں ہیں۔امیدواروں سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے جوڑتوڑکا سلسلہ زوروشورسے جاری ہے۔ایک جانب گذشتہ3ہفتوں سے دست وگریباں متحدہ دھڑے بھی مل بیٹھے ،وہیں وفاقی کی برسراقتدارجماعت مسلم لیگ(ن)نے بھی مسلم لیگ(ف)سے ہاتھ ملالیا۔سیٹ کے حصول کیلئے کوشاں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے بھی کنگری ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ(ف) کے سربراہ پیرصبغت اﷲ راشدی سے ملاقات کی۔بظاہر صورت حال دیکھی جائے تو پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے اور وہ پر امید ہے کہ کم از کم 9اور زیادہ سے زیادہ تمام 12نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے ۔جمعہ کی شام تک پیپلزپارٹی کاسندھ کے سینٹ الیکشن میں کلین سوئپ کا خواب حقیقت بنتا ہوا نظر آرہا تھا تاہم فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کے مل بیٹھنے سے حالات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔اگر ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کے ارکان نے پارٹی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے امیدواروں کو ووٹ دیئے تو ایم کیو ایم سینیٹ کی 3نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے لیکن اس کے لئے اس کوپاکستان مسلم لیگ(ن) کا تعاون بھی درکار ہوگا جس کے امیدوار مشاہد حسین سید کی انہوں نے وفاق میں حمایت کی ہے ۔سندھ سے سینیٹ کی ایک نشست کے لیئے امیدوار کو 21ووٹ حاصل کرنا ہوں گے ۔پاک سرزمین پارٹی ،ایم کیو ایم پاکستان اورپاکستان تحریک انصاف کے منحرف 8ارکان کی مدد سے سینیٹ کی نشست حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن 21کا جادوئی ہندسہ کیسے پوراکرے گی اس پر کئی سوالیہ نشان موجود ہیں ۔پیر پگارا نے اب تک سید مصطفی کمال کو اس حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے اس ہی طرح تحریک انصاف کے تین ارکان نے بھی اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔مسلم لیگ (فنکشنل)،پی ایس پی اور تحریک انصاف کسی ایک امیدوار پر اتفاق کرلیتی ہیں تو یقینی طور پر ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تین جماعتوں میں سے کوئی کون سی دو جماعتیں قربانی دینے کے لئے تیار ہوتی ہیں ورنہ دوسری صورت میں پیپلزپارٹی مزید ایک جنرل سیٹ حاصل کرسکتی ہے ۔ایم کیو ایم کے تمام گروپوں سمیت اگر اپوزیشن کی تمام جماعتیں اپنے کارڈز درست انداز سے کھیلیں تو پیپلزپارٹی کی نشستوں کو 7تک بھی محدود کیا جاسکتا ہے لیکن بظاہر اس طرح کی صورت حال نظر نہیں آرہی ہے ۔صوبہ سندھ میں ہونے والے سینٹ الیکشن میں صوبے کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی حاوی رہے گی مگروفاق کی حکمران جماعت مسلم لیگ(ن)کا چیئرمین سینٹ کاخواب اس بار بھی خواب ہی رہے گا۔چیئرمین سینٹ کے لئے بلوچستان اور فاٹاکے منتخب سینیٹرز کلیدی کرداراداکریں گے ۔عین ممکن ہے کہ آئندہ چیئرمین سینٹ کا تعلق بھی پیپلزپارٹی سے ہواور اگر یہ کسی صورت ممکن نہ بھی ہواپھر بھی ایوان بالا کی حکمرانی اپوزیشن کے پاس ہی ہوگی۔

مزید : رائے /راولپنڈی صفحہ آخر