فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر374

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر374
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر374

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ممبئی کے فلمی پرستان میں شیام کو اور بھی کئی پریاں نظر آگئیں چنانچہ انہوں نے کلدیپ کور سے پرانا تعلق ختم کرکے نئی دوستیاں قائم کرلیں۔ کلدیپ کور کون سی ان کے نام پر وقف ہوچکی تھیں۔ انہوں نے بھی نئی چراگاہیں تلاش کرلیں۔ اس طرح یہ دونوں ایک دوسرے سے آزاد و بے تعلق ہوگئے۔ 

ممبئی میں شیام کے رومانی تعلقات کے حوالے سے کئی فلم ایکٹریسوں کا نام لیا جاتا رہا جن میں نگار سلطانہ بھی شامل تھیں۔ نگار سلطانہ بھی مزاج اور طبیعت کے حساب سے عورتوں کی شیام ہی تھیں۔ وہ کبھی ڈال ڈال ، کبھی پات پات محوِ پرواز رہا کرتی تھیں۔ شیام کے سکینڈلز تو بہت سے بنے مگر انہوں نے اپنی شریکِ حیات بنانے کے لیے جس ہستی کا انتخاب کیا وہ تاج قریشی تھیں جو فلمی حلقوں میں تاجی کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ 

تاجی کوئی بڑی اور معروف اداکارہ نہیں تھیں۔ چند فلموں میں انہوں نے معمولی کردار کئے تھے۔ اداکار ظہور راجا سے غالباً ان کی شادی بھی ہوئی تھی مگر جب شیام ان کی زندگی میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی باقی زندگی شیام کے نام وقف کردی اور شیام سے شادی کرلی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر373 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں  

شیام اور تاجی کی پہلی ملاقات لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کی ایک تقریب میں ہوئی تھی جس میں تاجی اپنی بہن زیب قریشی کے ہمراہ شریک تھیں۔ زیب قریشی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوبصورت دوشیزہ تھیں۔ انہوں نے صرف ایک فلم میں کام کیا تھا جو ہدایت کار محبوب نے ’’انوکھی ادا‘‘ کے نام سے بنائی تھی۔ اس فلم کی ہیروئن پری چہرہ نسیم بانو تھیں۔ بعد میں یہ دونوں بہنیں لاہور سے ممبئی چلی گئی تھیں۔

شیام سے شادی کے بعد تاجی اور شیام ایک خوش و خرمّ زندگی بسر کررہے تھے کہ 1950ء میں اچانک وہ حادثہ پیش آیا جس نے شیام کی زندگی کا سفر مختصر کردیا اور تاجی کو زندگی کی نئی راہوں پر ڈال دیا۔

اپریل کا مہینہ تھا۔ فلمستان کی فلم ’’شبستان‘‘ کی شوٹنگ کی غرض سے شیام اور نسیم بانو لوکیشن پر گئے ہوئے تھے جو ممبئی سے تیس چالیس میل کے فاصلے پر تھی۔ ایس مکرجی اس فلم کے ہدایت کار تھے۔ منظر یہ تھا کہ فلم کا ہیرو شیام اپنی محبوبہ (نسیم بانو) سے ملاقات کے لیے ایک مقام پر جاتا ہے۔ فلم کے ویلن (سپرو) کو اس کا علم ہوجاتا ہے اور وہ اسے گھیرنے کی کوشش کرتا ہے مگر شیام گھوڑے پر سوار ہوکر نکل جاتا اور ویلن کے ہاتھ نہیں آتا۔ اس سین کے لیے فلم ساز کو تربیت یافتہ گھوڑا نہ مل سکا تو انہوں نے ایک نئے گھوڑے کا بندوبست کیا۔

شیام بہت اچھا گُھڑسوار تھا اور منہ زور گھوڑوں کو بھی قابو میں کرلیا کرتاتھا مگر اس روز یہ اناڑی گھوڑا اس کے قابو میں نہ آسکا۔

جب شاٹ فلمانے کے لیے شیام نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑایا تو اچانک توازن بگڑگیا۔ اس نے بھاگتے ہوئے گھوڑے کو روکنے اور خود سنبھلنے کی کوشش کی مگر فلم یونٹ کے ارکان یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے کہ شیام کا ایک پاؤں رکاب میں سے نکل چکا ہے اور وہ گھوڑے کی ایک جانب جھکا ہوا ہے۔ کوشش کے باوجود وہ نہ سنبھل سکا اور گھوڑے سے نیچے گرگیا مگر ستم یہ ہوا کہ اس کے باوجود گھوڑا نہ رکا اور شیام کو گھسیٹتا ہوا کافی دور تک لے گیا۔ لوگوں نے دوڑ کر گھوڑے کو روکا تو پتا چلا کہ ایک طرف کی رکاب کا بند ٹوٹ گیا تھا۔ شیام کا دوسرا پیر دوسری رکاب میں پھنس گیا تھا جس کی وجہ سے وہ زمین پر گرجانے کے بعد بھی نہ سنبھل سکا تھا۔ اس کے سر سے خون جاری تھا اور وہ بے ہوش تھا۔ فلم والوں کی روایت کے مطابق فلم یونٹ کے پاس فرسٹ ایڈ کا کوئی سامان نہ تھا ورنہ ابتدائی طبی امداد دی جاسکتی تھی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

شیام کو فوری طور پر ایک قریبی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جایا گیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے ممبئی میں پھیل گئی اور شیام کے پرستار ہسپتال پہنچ گئے۔ شیام پر جارحانہ کیفیت طاری تھی۔ پُرسکون کرنے کے لیے ڈاکٹروں نے کئی انجکشن لگائے جس کے بعد وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں رہے اور پھر انتقال کرگئے۔ 

بھارت کی فلم انڈسٹری میں اس اچانک موت نے ہلچل مچادی تھی کیونکہ شیام اس وقت کا مشہور ہیرو تھا اور کئی فلموں میں کام کررہا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر375 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ