تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 11

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 11
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 11

  

دارا نے ہونٹوں پر زہر آگیں مسکراہٹ لا کر رانا کو دیکھا اور تیکھے لہجے میں بولا ۔

’’سعداللہ خاں اور اورنگ زیب کی یہ سازش میواڑ کے خلاف نہیں قندھار کی مہم کے خلاف ہے۔مابدولت کے خلاف ہے۔لیکن اس کا تدار ک کیا جائے گا۔سرزنش کی جائے گی۔‘‘

اس کی تالی کی آواز سنتے ہی جعفر حاضر ہوا۔

’’منشی اور کاتب طلب ہوں۔‘‘

’’رانا ہمارا مہمان ہوا۔‘‘اور رانا بخت سنگھ سلام کرتا ہوا الٹے پیروں چلتا ہوا غلاموں کے جھرمٹ میں باہر چلا گیا۔

’’حضوری‘‘سے نکلتے ہی بھوری آنکھوں اور بھورے بالوں والا جعفر اپنے دل کی جلن سے بے قرار نچلی منزل کے اس حصے میں آیا جہاں’’دولت خانے ‘‘کے صحن کے اس پار سرخ حجروں کی قطار کھڑی تھی۔یہاں کنیزوں کے قیام کا انتظار تھا۔حجروں کے آگے مشعلوں کے ہجوم کی روشنی میں حبشی خواجہ سراؤں کی تلواریں پہرہ دے رہی تھیں ۔پہلا حجرہ لالہ کا تھا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کنیزیں طعام خانے میں کھانا کھا رہی تھیں۔اس کا جی چاہا کہ طعام خانے میں گھس کر اپنی مضطرب آنکھوں کو لالہ کے جمال سے تسکین دے لیکن خواجہ سرا بسنت کی تلوار کے خوف سے باز رہا۔غلاموں نے اس کے کوشک کے پردے ڈال دیئے تھے۔تخت پر چمڑے کا دستر خوان بچھا تھا۔اس پر زرد کپڑا لگا تھا اور چاندی کی قابوں میں بھنے ہوئے تیتر اور تر ترائے ہوئے پراٹھے مہک رہے تھے۔وہ آب ونمک سے بے نیاز لقمے اور لالہ کے حصول کے منصوبے بنانے لگا۔

اس رات جب عشاء کی نماز ہوچکی تھی اور لالہ دارا کی محفل میں اپنے جسم کی لوچ کے کمالات دکھلا رہی تھی اور جعفر کا راز دار خواجہ سرا کنیزوں کے حجروں پر اپنا دستہ لئے پہرہ دے رہا تھا ، جعفر بیماری کا بہانہ کرکے اپنے کوشک میں سونے کے لئے آچکا تھا اور خواجہ سرا بسنت دارا کا خفیہ خط لے کر شاہ جہاں آباد سدھار چکا تھا کہ جعفر کا غلام ایک گٹھڑی لے کر اندر آیا۔

جعفر نے شمع کی روشنی میں لمبا کُرتا اور تنگ پائجاموں کا گھیردار سیاہ پائجامہ پہنا،چہرے پر نقاب ڈالی ،ہاتھوں میں سیاہ دستانے پہنے ،کمر بند میں خنجر لگایا اور سرخ الوان کا جھونپا منہ پر ڈال کر باہر نکلا ۔معمول کے خلاف دور دور پر کھڑی ہوئی چند مشعلوں کی مدہم روشنی میں الف لیلیٰ کی داستان سنتے ہوئے خواجہ سرا ؤں کے پہلو سے گزر کر وہ حجروں کی قطار میں آیا ۔کسی خواجہ سرا نے گردن موڑ کر ادھر دیکھا لیکن عنبر نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔جعفر نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔اندر گھپ اندھیرا تھا ۔اس نے ٹٹول ٹٹول کر تخت کے نیچے ننگے فرش پر اپنا الوان بچھایا اور دیوار کی طرف کھسک کر لیٹ رہا۔باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔لیکن حجرہ گرم تھا۔اوپر اکلوتا روشن دان لوہے کی سلاخوں کی پلکیں بند کئے سو رہا تھا۔جعفر اپنی سانس کی آوازوں سے چونک اٹھتا اور دم سادھ لیتا ۔بڑی دیر کے بعدبڑی مدت کے بعد دروازے پر چاپ ہوئی۔دروازہ کھلا ۔شمع کی لرزتی روشنی کے ساتھ لالہ کے جسم کی خوشبو سے حجرہ چھلکنے لگا۔پھر دروازہ بند ہوا۔بھاری آہنی زنجیر چھنچھناکر چھڑھ گئی۔تپائی پر رکھے ہوئے شمع دان میں لالہ نے شمع لائی ۔قد آدم آئینے کے سامنے فارسی کا کوئی مصرعہ گنگنانے لگی اور سر کے زیور کھولنے لگی۔

جعفرنے آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کردیا۔تخت کی چھت سے نکلتے نکلتے کئی لمحے بیت گئے ۔وہ اچانک نیزے کی طرح کھڑا ہوگیا۔کپڑوں کی سر سراہٹ پر لالہ نے چونک کر پیچھے دیکھا تو خوف سے آنکھیں پھیل گئیں اور ہاتھوں سے برہنہ جسم چھپا لیا ۔جعفر نے اپنا خنجر اس کی ناف پر رکھ دیا اور کانپتی ہوئی مدہم آواز میں بولا۔

’’چیخ کے حجرے سے نکلنے سے قبل یہ کمر کے باہر تیر جائے گا۔‘‘

پھر دستانہ پوش انگلیاں چاندی کے بازوؤں پر پھسلنے لگیں ۔لالہ حکم کی تعمیل میں تخت پر بیٹھ گئی۔جعفرنے ایک طاق میں ڈھیر تمام شمعیں اٹھائیں اور روشن کردیں ۔لالہ جس نے مردوں کے ہول ناک ستم سہنے ہی میں جوانی اوڑھی اور حسن پہنا تھا ،آج ڈر گئی تھی۔کسی نے آج تک اسے خنجر کی نوک پر حکم نہیں دیا تھا۔اسے اپنی عصمت کا کچھ ایسا احساس نہیں تھا لیکن اندیشہ ضرور تھا کہ یہ جاسوس دیواریں کہیں شاہزادے کے کانوں میں کڑوی اور کندی داستان نہ اُنڈیل دیں اور اس کا التفات غضب میں بدل جائے ۔

’’تم جانتی ہومیں کون ہوں ؟‘‘

’’نہیں !‘‘

لالہ نے انسانی آواز اور فارسی کا نفیس لہجہ سنا تو ذرا مطمئن ہوئی ۔

’’میں سیّد جعفر صولت جنگ میر آتش توپ خانہ شاہی کا غلام ہوں ۔مجھے حکم ہے کہ تم تک اپنے ولی نعمت کی بے پایاں محبت کا پیغام پہنچادوں اور اگر تم انکار کرو تو یہ خنجر سینے میں اتاردوں ۔‘‘

’’میں ۔۔۔میں حاضر ہوں ۔‘‘اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔

جعفر نے اپنی آستین سے رومال نکالا اور لالہ کی آنکھوں پر باندھنے لگا۔

’’مجھے اپنے کپڑے پہن لینے دو ۔‘‘

’’انتظار کرو۔‘‘

پھر جعفر نے اپنا نقاب اتارا اور کُرتا تخت کے کونے پر ڈال دیا اور درجن بھرشمعوں کی روشنی میں خدا کی صنعت کا تماشہ دیکھنے لگا۔

جب لالہ کی آنکھیں کھلیں اور اس نے اپنے سامنے سیّد جعفر کو کھڑا پایا تو نفرت سے ابرو سمیٹ کر حقارت سے نگاہ کی اور بے باکی سے اٹھ کر اپنا کُرتا پہننے لگی۔جعفر نے قریب پہنچ کر اپنا خنجر چمکایا۔اس نے خنجر کو تیز نگاہ سے گھورا اور زہر میں بجھے لہجے میں بولی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میر آتش صاحب !اگر میرے منہ سے ایک چیخ نکل گئی تو دروازے پر کھڑی ہوئی تلواریں آپ کے ٹکڑے اڑا کر پھینک دیں گی۔‘‘

اور وہ اسی طرح بے نیاز سے کھڑی ہوئی بالوں میں پھنسے ہوئے جھالوں کی زنجیریں سلجھانے لگی۔

’’لالہ میں اپنی جان پر کھیل کر تم تک آیا ہوں ۔مجھے نامراد نہ کرو۔ورنہ اپنی اور تمہاری دونوں کی زندگیاں برباد کردوں گا۔‘‘

’’توبہ توبہ!‘‘اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی۔’’مجھے تو معاف رکھئے ۔اپنی البتہ برباد کیجئے ۔آپ کے سر کی قسم ! کسی سے نہ کہوں گی ۔‘‘

’’میں تمہیں ایک بار پھر موقع دیتا ہوں ۔مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘

’’کنیز فی الحال شاہِ بلند اقبال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس لئے آپ اپنا چار جامہ چڑھا یئے اور دفعان ہوجایئے ۔‘‘

جعفر نے اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلتے دیکھیں تو سچ مچ چار جامہ چڑھانے لگا۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 12 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ