گور پیا کوئی ہور

گور پیا کوئی ہور
گور پیا کوئی ہور

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بابا بلھے شاہ (1680 - 1757) پنجابی زبان کے مشہور شاعر ہیں ۔ وہ لوک شاعری کے کلاسیکل طرزِ کلام یعنی ’کافی‘ میں اشعار کہا کرتے تھے ۔ بلھے شاہ کی کافیاں صدیوں سے عوام میں مقبول رہی ہیں ۔ اس کا سبب ان کے کلام کی سادگی اور خوبصورتی ہی نہیں بلکہ اس میں پائے جانے والے حکیمانہ نکات اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ گرہوں کا خوبصورت  بیان بھی ہے ۔ اس کا ایک خوبصورت نمونہ ان کی مشہور کافی ’میرا رانجھن ہن کوئی ہور‘ کا یہ لافانی مقطع (آخری شعر) ہے :

بلھے شاہ  اساں مرنا   ناہیں گور پیا کوئی ہور

(بلھے شاہ ہمیں مرنا نہیں ہے ، قبر میں کوئی اور پڑا ہے )

یہ حقیقت ہے کہ انسان کبھی اپنے آپ کو قبر میں پڑا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ کیوں کہ ایسا صرف انسان کی  موت کے بعد ہوتا ہے جب انسان کچھ دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ انسان زندگی بھر دوسروں ہی کو قبر میں جاتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ آخرکار ایک روز وہ خود بھی قبر میں جا پہنچتا ہے ۔ مگر انسان زندگی بھر اس طرح جیتا ہے جیسے کہ اسے مرنا ہی نہیں ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ قبر صرف دوسروں کے لیے بنی ہے ، اسے کبھی قبر کے گڑھے کو نہیں بھرنا۔

انسان کی یہ سوچ دو طرح کے نتائج پیدا کرتی ہے ۔ ایک یہ کہ وہ غفلت کا شکار ہوکر ساری زندگی دنیا کی رونق اور اس کی فراخی کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور قبر کی وحشت اور تنگی کو بھول جاتا ہے ۔ وہ اپنے وقت، دولت اور صلاحیت کا تمام تر استعمال صرف دنیا کے فوائد کے لیے کرتا ہے ۔ وہ آخرت کے فائدوں اور نعمتوں کو بھولے رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ موت کا سفیر قبر کا بلاوا لیے اس کے دروازے پر آکھڑا ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان کو ہوش آتا ہے ، مگر اب ہوش کا کیا فائدہ۔

اس سوچ کا دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان احتسابِ غیر کی نفسیات میں جیتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ قبر صرف دوسروں کے لیے ہے ۔ اس لیے احتساب بھی انھی کا ہونا چاہیے اور وہ خود ہر احتساب سے پاک ہے ۔ اس پر جب کرپشن کے الزام لگتے ہیں تو وہ چلا اٹھتا ہے کہ دوسروں کا احتساب کیوں نہیں ہورہا؟ اس کی غلطی اور زیادتی جب اس پر واضح کی جاتی ہے تو وہ دوسروں کو اصلاح کا درس دینا شروع ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی کمزوری اس پر کھولی جاتی ہے تو وہ دوسروں کے عیوب گنوانے لگتا ہے ۔

دنیا پرستی اور احتساب غیر دونوں عادتیں قبر کو بھولنے کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ ان میں سے احتساب غیر کی عادت کی اصلاح زیادہ مشکل کام ہے ۔ اس لیے کہ یہ کرنے والا درحقیقت ایک سیاسی سوچ کو اصول کے لبادے میں چھپادیتا ہے ۔ ایسا آدمی بظاہر اصول پسندی اور قانون ضابطے کی بات کر رہا ہوتا ہے ، مگر یہ محض اپنی بڑائی اور طاقت، اپنے مفادات اور بادشاہی کو قائم رکھنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے ۔ یہ اصول کے نام پر سب سے بڑ  ی بے اصولی ہوتی ہے جو اس وقت بالکل کھل کر سامنے آ جاتی ہے جب کوئی طاقتور سامنے آکھڑ  ا ہو یا جب اپنے کسی عزیز اور پیارے کا کوئی مسئلہ سامنے آجائے ۔ ایسے میں احتساب کی بات کرنے والوں کو قانون اور اصول سب بھول جاتے ہیں ۔ اور انھیں طرح طرح کی حکمتیں اور مصلحتیں یاد آنے لگتی ہیں ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

افراد کی شخصیت کی کمزوریاں ڈھونڈنے والے خدائی فوجدار، سڑک پر لوگوں کو بلاوجہ روکنے والے سپاہی، دفتروں میں عام آدمی پر رشوت نہ دینے کے جرم میں جرمانہ کرنے والے کلرک، دفتروں میں تاخیر سے آنے والوں کی سرزنش کرنے والے افسر،  بظاہر سب اصول کی بات کرتے ہیں ۔ مگر اصول کی بات صرف اُسے زیب دیتی ہے جس کا پیمانہ سب لوگوں کے لیے یکساں ہو۔ جو دوسروں کا احتساب کرنے سے قبل اپنا احتساب کر چکا ہو۔ جو دوسروں کو سبق پڑھانے سے قبل اپنے سارے سبق یاد کر چکا ہو۔ جس کا پیمانہ یکساں نہیں ، جس کو اپنا سبق یاد نہیں ، اس کا احتسابِ غیر خدا کے حضور اس کا اپنا احتساب شدید تر کر دے گا۔ کیونکہ قبر میں صرف دوسرے ہی نہیں جاتے ۔ ایک روز آدمی خود بھی قبر میں جاپہنچتا ہے. 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ