سینیٹ الیکشن ، ن لیگ نےوفاق اور پنجاب ،پیپلز پارٹی نے سندھ ،تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں میدان مار لیا ،بلوچستان اور فاٹا میں آزاد امیدوار فاتح قرار

سینیٹ الیکشن ، ن لیگ نےوفاق اور پنجاب ،پیپلز پارٹی نے سندھ ،تحریک انصاف نے ...
سینیٹ الیکشن ، ن لیگ نےوفاق اور پنجاب ،پیپلز پارٹی نے سندھ ،تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں میدان مار لیا ،بلوچستان اور فاٹا میں آزاد امیدوار فاتح قرار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 15 امیدوار، پیپلز پارٹی کے 12 ، پی ٹی آئی کے 6، جمعیت علمائے اسلام (ف)پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2،2، ایم کیو ایم پاکستان، فنکشنل لیگ اور جماعت اسلامی کا ایک ایک جبکہ 10 آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔

پنجاب

 تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن 2018 کے نتائج سامنے آ گئے ہیں اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے میدان مارتے ہوئے 12 میں سے 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ ایک نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اور سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کامیابی حاصل کر کے بڑا اَپ سیٹ کر دیا ہے ۔پنجاب کی 7 جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں میں ہارون اختر خان ،ڈاکٹر آصف کرمانی ،وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک ،رانا محمود الحسن ،سابق آئی جی پنجاب رانا مقبول احمد خان ،مسلم لیگ ن برطانیہ کے رہنما محمد زبیر گل اور چوہدری محمد سرور شامل ہیں ۔ٹیکنو کریٹ کی 2 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں اسحاق ڈار اور حافظ عبد الکریم نے کامیابی حاصل کی جبکہ خواتین کی مخصوص سیٹوں پر حکمران جماعت کی حمایت یافتہ ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی اور نزہت صادق کامیاب قرار پائیں ۔اقلیتوں کی مخصوص نشست پر کامران مائیکل نے کامیابی حاصل کی ۔واضح رہے کہ پنجاب میں سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کا کلین سویپ کا دعویٰ پورا نہیں ہو سکا اور ایک نشست تحریک انصاف کے رہنما چوہدری محمد سرور لینے میں کامیاب ہو گئے ۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نےسینیٹ انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا۔

سندھ

سینیٹ الیکشن کیلئے سندھ سے بھی  تمام 12 سیٹوں کا نتیجہ مکمل ہو گیا ہے جس میں سے 10 سیٹیں پیپلز پارٹی نے حاصل کر لی ہیں جبکہ ایک سیٹ ایم کیو ایم پاکستان اور ایک ہی سیٹ مسلم لیگ فنکشنل کے حصے میں آئی ہے ۔سندھ کی 9 جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی ، مولا بخش چانڈیو ، امام دین شوقین ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ایاز مہر  ،قرۃ العین مری ،رخسانہ زبیری ، ایم کیو ایم پاکستان کے بیرسٹر فروغ نسیم اور مسلم لیگ فنگشنل کے سید مظفر شاہ شامل ہیں جبکہ سندھ سے  ٹیکنوکریٹ کی واحد نشست پر پیپلز پارٹی کے سکندر میندھرو کامیاب ہو گئے ہیں۔خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی  کرشنا کوہلی اور اقلیتی نشست پر نور لعل دین کامیاب ہو گئے ہیں ۔واضح رہے کہ سندھ میں سینیٹ انتخابات میں سب سے بڑا نقصان صوبے کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کو اٹھانا پڑا جنکی اندرونی لڑائیوں نے تین دہائیوں سے کراچی پر حکومت کرنی والی جماعت کو شکست فاش سے دوچار کیا ۔سینٰٹ انتخابات سے قبل ہی ایم کیوایم پاکستان میں شدید لڑائی دیکھنے میں آئی جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کا دھڑا الگ ہو گیا اور بہادرا آباد کے دھڑے نے خالد مقبول صدیقی کو اپنا کنویئنر بنا لیا لیکن اس لڑائی کے باعث جماعت اپنا ہی نقصان کروا بیٹھی ہے اور صرف  ایک ہی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سندھ کی 12 میں سے 10 نشستوں  پرپیپلز پارٹی نے کامیابی سمیٹی جبکہ ایک سیٹ فنکشنل لیگ کے مظفر شاہ نے حاصل کر لی تاہم ایم کیو ایم کے رہنما فروغ نسیم ووٹوں کی آٹھ بار ہونے والی گنتی کے باعث ٹیکنیکل بنیادوں پر کامیاب قرار پا گئے ہیں اور اس طرح متحدہ کے بہادرآباد دھڑے کا ایک کامیابی مل گئی ہے جبکہ فاروق ستار ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔

بلوچستان

بلوچستان کی 7 جنرل نشستوں میں سے 5 پر آزاد امیدوار جبکہ 2پر سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔ جنرل نشستوں پر آزاد امیدوار احمد خان، صادق سنجرانی، انوارالحق کاکڑ، کہدہ بابر، پشتونخواہ میپ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یوسف کاکڑ جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولوی فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے محمد اکرم سینیٹر منتخب ہوگئے۔

ٹیکنوکریٹس کی 2 نشستوں میں سے ایک پر نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور دوسری پر ن لیگ کے حمایت یافتہ نصیب اللہ بازئی کامیاب ہوگئے۔ خواتین کی نشستوں پر پشتونخوا میپ کی عابدہ عظیم اور آزاد امیدوار ثنا جمالی کامیاب ہوئیں۔

خیبر پختون خوا

خیبر پختونخوا کی 11سیٹوں میں سے 11 ہی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے ہیں جس کے مطابق صوبے سے جنر ل نشستوں سے پی ٹی آئی کے فد ا محمد،محمد ایوب اور فیصل جاوید کامیاب قرار پائے ہیں ،دوسری جانب جنرل نشست پر ہی مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ سید محمد صابر شاہ ،جے یو آئی ف کے محمد طلحہ محمود،جماعت اسلامی کےصوبائی امیر مشتاق احمد خان  اورپاکستان پیپلزپارٹی کے بہر مند کامیاب ہو گئے ہیں۔ٹیکنو کریٹ کی نشست پرپی ٹی آئی کی جانب سے محمد اعظم خان سواتی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار دلاورخان کامیاب ہوئے ،جبکہ خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کی مہر تاج روغانی اور پی پی پی کی روبینہ خالد کامیاب رہی۔

مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کی 11سیٹوں میں سے 5 پر تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی ہے ،2.2 سیٹوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ   اور پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی ایک ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ،انہیں سینیٹ الیکشن میں صرف 4 ووٹ ملے ۔

اسلام آباد 

وفاق کی دونوں سیٹوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار چھا گئے اور حال ہی میں مسلم لیگ ق چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے مشاہد حسین سید اور سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے صاحبزادے اسد جونیجو نے کامیابی حاصل کی ۔اسد جونیجو نے  اسلام آباد کی جنرل نشست سے  300 سو  میں سے 214 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے حریف پیپلز پارٹی کے راجہ عمران نے 45 اور تحریک انصاف کی کنول شازیب نے 32 ووٹ لئے۔مشاہد حسین سید اسلام آباد سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوگئے،مشاہد حسین 223 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوئے اور ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے راجہ شکیل عباسی کو 64 ووٹ ملے۔ 

فاٹا

فاٹا سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق چار سینیٹرز منتخب ہوگئے ہیں جن میں ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، شمیم آفریدی اور مرزا آفریدی کامیاب قرار پائے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق فاٹا کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے فاتح ارکان 7 ، 7 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔فاٹا سے 11 اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا تاہم ان میں سے 8 اراکین نے ووٹ ڈالے۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تحفظات کے پیشِ نظر ووٹ نہیں ڈالے۔

واضح رہے کہ پنجاب کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار، سندھ کی 12 نشستوں پر 33 امیدوار، خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار، بلوچستان کی 11 نشستوں پر 25 امیدوار، فاٹا کی4 نشستوں پر 25 امیدوار اور وفاق سے 2 نشستوں پر 5 امیدوارحصہ لیا۔

مزید : قومی /سیاست /Breaking News /اہم خبریں