یہ تصویر ایک بڑے عرب مسلمان ملک کے دارالحکومت کی ہے، اس کا ایک حصہ بالکل صحیح سلامت جبکہ دوسرا مکمل تباہ ہوچکا ہے، کونسا شہر ہے اور صرف آدھا ہی کیوں تباہ ہوا؟ حقیقت جان کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

یہ تصویر ایک بڑے عرب مسلمان ملک کے دارالحکومت کی ہے، اس کا ایک حصہ بالکل صحیح ...
یہ تصویر ایک بڑے عرب مسلمان ملک کے دارالحکومت کی ہے، اس کا ایک حصہ بالکل صحیح سلامت جبکہ دوسرا مکمل تباہ ہوچکا ہے، کونسا شہر ہے اور صرف آدھا ہی کیوں تباہ ہوا؟ حقیقت جان کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں شدت پسند تنظیم داعش کو شکست ہو گئی لیکن شامی عوام کے مصائب کم نہیں ہوئے، فریقین کی بمباری سے اب بھی ان کے جسموں کے چیتھڑے جوں کے توں اڑ رہے ہیں اور آئے روز وہاں سے ایسی دلدوز تصاویر سامنے آتی ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ شام کا دارالحکومت دمشق بھی تاریخ انسانی کا شاید واحد شہر ہے جو آدھا بالکل صحیح سلامت ہے اور آدھے کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔ اس کا مغربی حصہ، جو حکومت کے زیرتسلط ہے، وہ پرامن ہے، اس کی عمارتیں ایستادہ کھڑی ہیں اور شہری معمول کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن مشرقی حصہ، جو کرد باغیوں کے زیرقبضہ ہے، اس کی عمارتیں کھنڈر بن چکی ہیں، وہاں سے ایک ایک ہفتے میں سینکڑوں لاشے اٹھ رہے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بھاری تعداد شامل ہوتی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے اس مشرقی حصے کی آبادی 4لاکھ سے زائد ہے جس پر شامی حکومت اور اس کے اتحادی بلاامتیاز بموں کی برسات کر رہے ہیں، جن کا نشانہ زیادہ تر عام شہری ہی بن رہے ہیں۔ اس علاقے کی زیادہ تر آبادی تہہ خانوں میں مقید ہو کر رہ چکی ہے جہاں انہیں شدید فاقوں کا سامنا ہے۔زخمیوں سے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں لیکن ادویات میسر نہیں ہو رہیں۔ان ہسپتالوں میں زخموں سے چور معصوم، بلکتے بچوں کی تصاویر سامنے آتی رہتی ہیں لیکن عالمی طاقتوں کا مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہتی ہیں کیونکہ یہ عالمی طاقتیں بھی شام میں اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی نگران تنظیموں نے ایسے کئی شواہد دیئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کے مشرقی حصے اور شام کے کئی دوسرے شہروں میں تباہ کن کیمیکل کے حامل بم استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ایسے بچوں اور بڑوں کی تعداد روزافزوں ہوتی جا رہی ہے جنہیں کلورین کے حملوں کے باعث سانس کی بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں اور انہیں ہسپتالوں میں آکسیجن ماسک کے ساتھ زندہ رکھا جا رہا ہے۔ تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں شام کے مشرقی علاقے میں حکومتی افواج کی بمباری سے 500سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے جن میں 120سے زائد معصوم بچے شامل تھے۔

مزید : بین الاقوامی