ہسپتالوں میں خواتین لیٹ کر بچے کو جنم کیوں دیتی ہیں؟ پہلی مرتبہ شرمناک وجہ سامنے آگئی

ہسپتالوں میں خواتین لیٹ کر بچے کو جنم کیوں دیتی ہیں؟ پہلی مرتبہ شرمناک وجہ ...
ہسپتالوں میں خواتین لیٹ کر بچے کو جنم کیوں دیتی ہیں؟ پہلی مرتبہ شرمناک وجہ سامنے آگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین ہسپتال میں لیٹ کر بچے کو جنم دیتی ہیں حالانکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ”دوزانو بیٹھنے، دونوں پیروں پر اکڑوں بیٹھنے یا دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں پر جھکنے سے زچگی کا مرحلہ انتہائی آسان ہو جاتا ہے اور درد زہ کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔پھر اس کے باوجود خواتین صرف لیٹ کر ہی بچے کو کیوں جنم دیتی ہیں؟ اب اس سوال کا انتہائی شرمناک جواب سامنے آ گیا ہے ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ روایت فرانس کے بادشاہ لوئس چہار دہم نے ڈالی تھی۔لوئس چہاردہم کی حکومت 1643ءسے 1715ءتک قائم رہی۔ یہ بادشاہ اپنی جنسی بے راہ روی اور اس بے شرمی میں مہارت کے حوالے سے بہت شہرت رکھتا تھا۔اس نے کئی شادیاں کیں اور اس کی 22اولادیں ہوئیں۔

لوئس چہاردہم نہ صرف خواتین کے ساتھ جنسی تعلق سے تسکین حاصل کرتا تھا بلکہ انہیں بچہ پیداکرتے ہوئے بھی دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔اس شرمناک منظر کو اچھی طرح دیکھنے کے لیے بادشاہ حکم دیتا کہ اس کی بیوی یا لونڈی، جو بھی زچگی کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی تھی، سیدھی لیٹ کر بچے کو جنم دے تاکہ وہ بچے کی پیدائش کو پوری طرح دیکھ سکے۔چنانچہ اس بادشاہ کی یہ بے شرمی ایک روایت بن گئی اور خواتین نے سیدھے لیٹ کر بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ /تعلیم و صحت