مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ برہم، وہ عدالتی معاون ہیں لیکن وزیراعلیٰ ہاﺅس میں گھسا رہتا ہے:چیف جسٹس پاکستان

مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ برہم، وہ عدالتی معاون ہیں لیکن ...
مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ برہم، وہ عدالتی معاون ہیں لیکن وزیراعلیٰ ہاﺅس میں گھسا رہتا ہے:چیف جسٹس پاکستان

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ،مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے ہر3ماہ بعد پانی کا لیبارٹی ٹیسٹ اور بوتلوں میں بند ناقص پانی فروخت کرنے والی تمام کمپنیوں کو بند کرنے کا حکم دے دیاہے،عدالت نے مضر صحت ہونے کی بناپر اجینو موتو (چینی نمک)کی فروخت پر پابندی عائد کر دی،عدالت نے ڈبہ بند دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔

اجینو موتو اور استعمال شدہ تیل کے خلاف ازخود کیس میں عدالتی معاون مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہروقت وزیراعلیٰ ہاﺅس بیٹھے رہتے ہیں ،انہیں وہاں سے بلائیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پانی، دودھ اور مرغیوں کے گوشت سے متعلق از خود کیسز کی سماعت کے دوران ڈی جی فوڈ پنجاب نورالامین مینگل نے جواب داخل کراتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں 1150 بوتل بنانے والی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، 1053 کام کر رہی تھیں ،97 کمپنیاں بند ہو چکی ہیں، 135 کمپنیوں کے پانی کے نمونوں کی رپورٹس آنے کا انتظار ہے،578 کمپنیوں کے رزلٹ ٹھیک آئے ہیں،340 کمپنیاں معیار پر نہیں اترتیں جنہیں بند کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ناقص پانی فروخت کرنے والی تمام کمپنیاں بند کر دیں جائیں، تمام کمپنیوں کے پانی کے معیار کو ہر 3ماہ بعد چیک کیا جائے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم اپنے بچوں کو ناقص پانی پینے کی اجازت نہیں دے سکتے،دوران سماعت اجینو موتو اور استعمال شدہ تیل کے خلاف ازخود کیس میں عدالتی معاون مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ مصطفی رمدے کو وزیر اعلیٰ ہاﺅس سے بلوایا جائے،وہ وہیں بیٹھے رہتے ہیں، اتنے اہم کیسز میں آج تک وہ معاونت کرنے نہیں آئے،عدالت نے مضر صحت ہونے کی بناپر اجینو موتو کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے،عدالتی حکم پر عدالتی معاون فیصل مسعود نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

انہوں نے بتایا کہ مرغیوں کے گو شت کے لئے گئے نمونوں میں جراثیم نہیں پائے گئے، مرغیوں سے متعلق جو مسائل آئے ہیں ،وہ گوشت سے متعلقہ نہیں، مرغیوں کو ذبح کرنے اور پیکنگ کے عمل کے دوران جراثیم پائے گئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توبڑی خوش آئند بات ہے کہ گوشت میں کوئی خرابی نہیں، صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے تو صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور