ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے ٹھیکہ کی انکوائری نیب کے حوالے ،فوجی ہسپتالوں سے متعلق بھی جج ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب

ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے ٹھیکہ کی انکوائری نیب کے حوالے ،فوجی ...
ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے ٹھیکہ کی انکوائری نیب کے حوالے ،فوجی ہسپتالوں سے متعلق بھی جج ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے ملٹری ہسپتالوں کے فضلہ جات کو ٹھکانے لگانے سے متعلق پاکستان آرمی کے جج ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا فضلہ اٹھانے کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو فراہم کرنے کا معاملہ تحقیقات کے لئے نیب کو بھجوادیاہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کروڑوں کا ٹھیکہ میٹرک پاس بندے کو دے کر کسے نوازا گیا ؟نیب 15یوم میں ابتدائی رپورٹ پیش کرے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہسپتالوں کے فضلہ، نکاسی آب اور آلودہ پانی دریائے راوی میں پھینکنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی تو عدالتی معاون عائشہ حامدنے عدالت کو بتایا کہ ملٹری ہسپتالوں کے فضلہ جات سے متعلق تفصیلات مانگی گئیں ،مگر کوئی جواب نہیں آیا، انہوں نے کہاپنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے لگانے کے پلانٹس نصب کر دئیے جائیں گے،عدالتی استفسار پر چیف سیکرٹری نے بتایا کہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں سے فضلہ اٹھانے کا ٹھیکہ 2011 ءسے علی ٹریڈرز کمپنی کے پاس ہے جس پر عدالت نے معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے 15یوم میں نیب کو ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ، عدالت نے سیکرٹری ماحولیات اور سیکرٹری صحت کواس معاملے پرنیب کی معاونت کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ،عدالت نے ملٹری ہسپتالوں کے فضلہ جات کو ٹھکانے لگانے سے متعلق پاکستان آرمی کے جج ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کر لی ہے، عدالتی معاون عائشہ حامد نے دریائے راوی میں آلودہ پانی پھینکنے سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی، انہوں نے بتایا کہ 540ملین گیلن گندہ پانی روزانہ کی بنیاد پر راوی میں پھینکا جا رہا ہے،لاہور میں چار مختلف جگہوں پر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگاے جائیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 10سالوں سے حکومت میں ہونے کے باوجود یہ لوگ فلٹریشن پلانٹ نہیں لگا سکے، اب عدالت نے از خود نوٹس لیا ہے تو کہتے ہیں کہ فلٹریشن پلانٹ لگا دیتے ہیں، صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل کیوں نہیں رہیں، اب ذاتی تشہیر پر کروڑوں روپے کے اشتہارات جاری کئے گئے،چیف سیکرٹری صاحب آئیے آج ایک ہسپتال کا دورہ کرتے ہیں، آپ چاہیں تو بڑے کو بھی بلا لیں،عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ تاحال ٹریٹمنٹ پلانٹس کے حوالے سے فنڈز مختص نہیں کئے گئے ہیں۔اس کیس کی مزید سماعت 9 مارچ کو ہوگی۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور