وزیراعلیٰ پنجاب اپنی جیب سے مہم چلائیں،کیا انتخابات سے 2ماہ قبل تشہیری مہم دھاندلی نہیں؟چیف جسٹس پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب اپنی جیب سے مہم چلائیں،کیا انتخابات سے 2ماہ قبل تشہیری مہم ...
وزیراعلیٰ پنجاب اپنی جیب سے مہم چلائیں،کیا انتخابات سے 2ماہ قبل تشہیری مہم دھاندلی نہیں؟چیف جسٹس پاکستان

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں حکومت کی تشہیری مہم کے لئے سرکاری خزانے سے خرچ کی جانے والی رقم کا ریکارڈ طلب کر لیاہے۔

لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے اشتہارات سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلی پنجاب تشہیرکے پیسے اپنی جیب یاپارٹی فنڈز سے ادا کریں، کیا انتخابات سے 2ماہ قبل تشہیری مہم قبل از وقت انتخابی دھاندلی نہیں؟عدالتی حکم پر سیکرٹری اطلاعات پنجاب نے عدالت میں رپورٹ پیش کی ،چیف جسٹس نے چینلز اور اخبارات کی تشہری مہم سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش نہ کرنے اور مبہم رپورٹ پیش کرنے پر سیکرٹری اطلاعات کی سرزنش کر دی،چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ بتایا جائے وزیر اعلیٰ کہاں ہیں؟ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو اپنی تشہیر کی اجازت کس نے دی؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکار کے پیسے پر اپنی پروجیکشن کیسے کی جا سکتی ہے؟ اشتہاروں میں ایک صاحب کی تو باقاعدگی سے تصویر بھی لگتی ہے، حکومت نے کارکردگی کیا دکھائی ہے جو اشتہاروں میں ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،بتایا جائے ایک اشتہار کے کتنے پیسے دے رہے ہیں؟ سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ ایک منٹ کا ایک لاکھ 80 ہزار الیکٹرونک میڈیا کو ادا کر رہے ہیں، قصور واقعے پر 9 چینلز کو اشہارات دیئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس قانون اور اختیار کے تحت کس کی ہدایت پر اشہارات دیئے جاتے ہیں،ایک دن میں 12 چینلز پر اشتہارات چلوائے جن پر 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے، چیف جسٹس نے سیکرٹری اطلاعات سے استفسار کیا کہ بتائیں اشتہارات کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب کی تصویر بھی چلی تھی ،سیکرٹری اطلاعات کی جانب سے جواب ہاں میں آنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ عوامی پیسے سے تشہیر کا حساب دینا پڑے گا۔کیا یہ قبل از انتخابی دھاندلی نہیں ہے ؟الیکشن قریب ہیں اور آپ وزیر اعلیٰ کی تصویر چلا رہے ہیں ،جواز پیش کیا جائے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تصویر کے ساتھ اشتہارات قومی خزانے سے کیوں چلائے گئے؟ اس سے قبل چیف جسٹس نے سیکرٹری اطلاعات سے کہا کہ جائیں اپنا ریکارڈ کھنگالیں اور بتائیں کہ کس کو کتنے اشتہاردیئے گئے ؟اس کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور