نجی میڈیکل کالجوں کے داخلوں میں گھپلے ،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا

نجی میڈیکل کالجوں کے داخلوں میں گھپلے ،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا ...
نجی میڈیکل کالجوں کے داخلوں میں گھپلے ،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار،مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے نجی میڈیکل کالجوں میں فارن کوٹہ پر طلبا کے داخلوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی اے سے اس بابت تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔عدالت نے تمام نجی میڈیکل کالجز میں تعلیمی سہولیات اور معیار سے متعلق کالج انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔

چیف جسٹس نے خبر دار کیا کہ 9مارچ تک رپورٹ نہ آنے کی صورت میں متعلقہ میڈیکل کالج کو 2لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔ہسپتالوں کی حالت زار اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو مریض سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں جاتا ہے اسے پرچی کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے ۔پرچی کا چکر ختم ہونا چاہیے ،شعبہ حادثات میں ادویات کی فراہمی کی بجائے باہر سے ادویات منگوائی جاتی ہیں،ایک غریب آدمی اتنی مہنگی ادویات کامتحمل کیسے ہوسکتا ہے؟عدالت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی اور ایم ایس صاحبان کو قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فارن کوٹہ پر طلبا سے 18ہزار ڈالر کس قانون کے تحت سالانہ فیس کی مد میں وصول کئے جارہے ہیں؟فاضل جج نے عدالت میں موجود پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے مالکان کو مخاطب کرکے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے پاکستان بھیجتے ہیں تو انہیں اضافی فیس کے علاوہ دیگر اخراجات بھی برداشت کرنا ہوتے ہیں ۔ایک موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ معصوم طالب علموں کے ساتھ فراڈکی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت کو لائبہ نامی ایک طالبا کی طرف سے بتایا گیا کہ اس نے ایف ایس سی میں78.336فیصد نمبر حاصل کئے ۔وہ میرٹ پر پورا اترتی تھی لیکن اسے سنٹرل پارک میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں دیا گیا۔عدالت کے استفسار پر اس کالج کے مالک نے بتایا کہ یہ طالبا انٹرویو میں فیل ہوگئی تھی جس پر پی ایم ڈی سی کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ داخلہ کے وقت طلبا کا انٹرویو غیر قانونی ہے ،صرف رویہ جاتی زبانی ٹیسٹ لیا جاسکتا ہے ۔اسی طرح آمنہ عنایت ہسپتال کے حوالے سے بھی ایک بچی نے شکایت کی کہ اسے بھی میرٹ پر داخلہ نہیں دیا گیا ۔فاضل بنچ نے یو نیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر فیصل مسعود کو ان دونوں بچیوں کا انٹرویو لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور مذکورہ دونوں کالجوں سے کہا کہ اگر بچیاں میرٹ پر پورااترتی ہوئیں تو ان کے لئے نئی سیٹ کا حکم جاری کیا جائے گا اور آپ دونوں کالجوں پر 10،10لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کیا جائے گا۔سیالکوٹ میڈیکل کالج کے حوالے سے ایک طالب علم کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس سے کالج والوں نے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کا داخلہ کردیا جائے گا ،طالب علم سے 18لاکھ ڈالر پہلے اور4ہزار ڈالر بعد میں وصول کئے گئے ،اس طرح اس سے تقریباً 23لاکھ روپے پاکستانی وصول کرلئے گئے ،بعد میں پتہ چلا کہ اس کا فارن کوٹہ پر داخلہ ہوا ہے ۔اس پر سیالکوٹ میڈیکل کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ فارن کوٹہ کی 3سیٹیں ابھی بھی خالی ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کس قانون کے تحت اس سے 18ہزار ڈالر وصول کرلئے ہیں ؟آپ آئندہ تاریخ سماعت پر23لاکھ روپے کا چیک اپنے ساتھ لے کرآئیں جو ہم آپ سے لے لیں گے اور پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے ۔سیالکوٹ میڈیکل کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ اس طالب علم نے ہمیں ایک اخباری تراشہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پی ایم ڈی سی نے فارن کوٹہ پر داخلہ کی اجازت دے دی ہے ۔ینگ ڈاکٹر زایسوسی ایشن کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ فارن کوٹہ پر داخلے سے متعلق قواعد و ضوابط انتہائی مبہم ہیں ،پی ایم ڈی سی نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے ۔ایچ ای سی کے وائس چانسلر فیصل مسعود نے کہا کہ امیر لوگوں کے نالائق بچے بیرون ملک جاتے ہیں اور پھر واپس آکر فارن کوٹہ پر داخل ہوجاتے ہیں ،انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کوٹہ پر صرف ان طلبا کو داخلہ دیا جائے جنہوں نے بیرون ملک کم ازکم 10سال تک تعلیم حاصل کی ہو۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فارن کوٹہ پر ایسے طلبا کو داخلہ ملنا چاہیے جن کے والدین میں سے کم ازکم ایک کی غیر ملکی نیشنلٹی ہو ۔فاضل جج نے کہا کہ اس بابت بھی سفارشات تیار کرکے پیش کی جائیں ،عدالت میں سابق رکن اسمبلی طارق ثناءباجواہ ایڈووکیٹ کی طرف سے بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کا سیالکوٹ میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا اور8لاکھ روپے سالانہ فیس طے ہوئی جبکہ عدالت نے 6لاکھ42ہزار روپے فیس مقرر کی تھی ،ہم نے 3لاکھ روپے ادا کردیئے ہیں ،باقی فیس ادا نہ کرنے پر بیٹی کو دو دفعہ کالج سے نکالا گیا،اس پر کالج کے پرنسپل نے کہا کہ طارق ثناءباجواہ نے انہیں اٹارنی جنرل کے ذریعے دھمکایا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل تو شریف آدمی ہیں ،پرنسپل نے کہا کہ ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل نے فون کیا تھا کہ اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ اس بچی کی فیس معاف کردی جائے ۔عدالت نے طارق ثناءباجواہ کو حکم دیا کہ وہ بقایا3لاکھ42ہزار روپے فیس کالج کو ادا کریں ،اس کے علاوہ 8فیصد کے مساوی ہرجانہ بھی ادا کریں ۔طارق ثناءباجواہ نے کہا کہ کالج والے بتا دیں کہ کتنی فیس بنتی ہے ؟اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بتا دیتے ہیں کہ 8فیصد ہرجانہ کی مد میں آپ 4لاکھ روپے اضافی کالج انتظامیہ کو ادا کریں۔اس کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور