میڈیکل کی معیاری تعلیم کے لئے سپریم کورٹ کیا حکم جاری کرنے والی ہے ،چیف جسٹس نے بھری عدالت میں بتا دیا

میڈیکل کی معیاری تعلیم کے لئے سپریم کورٹ کیا حکم جاری کرنے والی ہے ،چیف جسٹس ...
میڈیکل کی معیاری تعلیم کے لئے سپریم کورٹ کیا حکم جاری کرنے والی ہے ،چیف جسٹس نے بھری عدالت میں بتا دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے میڈیکل کی معیاری تعلیم کے لئے ممکنہ عدالتی احکامات کے حوالے سے اپنی سوچ سے فریقین کو آگاہ کردیا ۔

اس معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بتایا کہ ہم آپ لوگوں پر اپنا ذہن آشکار کررہے ہیں ،عدالت چاہتی ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے ایک سینٹرلائزڈ پالیسی ہو اورہائیر ایجوکیشن کمشن کا بھی اس معاملہ میں ایک موثر کردار ہو ۔ہر صوبہ ایم بی بی ایس میں داخلوں کے لئے سینٹرلائزڈ سسٹم کے تحت طلبا سے امتحان لے جس کے بعد سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی میرٹ لسٹ بنے ۔طلبا کو بار بار امتحان اور درخواستیں دینے کے مرحلہ سے نہ گزرناپڑے ۔عدالت اس بابت بھی معاملہ کا جائزہ لے کر حکم جاری کرے گی کہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں قائم کرنے کا معیار کیا ہو اور ان سے الحاق شدہ کالجز کیسے قائم ہوں ،یہ تو عجیب بات ہے کہ یہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں خود ہی ایکسٹرنل اور انٹرنل امتحانات لیتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا حکم بھی جاری کریں گے جس کے تحت نئے میڈیکل کالجوں کی اجازت ہمارے جاری کردہ راہنما اصولوں سے مشروط ہوگی ،جو کالج ہمارے مقرر کردہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے انہیں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ،عدالت کے نوٹس میں لایا گیا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے حوالے سے کئی قانون اور آرڈیننس جاری ہیں جن سے ابہام پیدا ہورہا ہے ،اس پر عدالت نے کہا کہ ان تما م قوانین کا جائزہ لے کر ہم ایک نئے قانون کے لئے رہنما اصول فراہم کریں گے ۔چیف جسٹس نے عدالت میں موجود یوایچ سی کے وائس پرنسپل ،پی ایم ڈی سی کے نمائندوں اور دیگر فریقین سے کہا کہ ہم نے اپنی سوچ سے آپ لوگوں کو اس لئے آگاہ کیا ہے کہ آپ اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ہمیں تجاویز دیں ۔عدالت نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپریل تک اس معاملے کو نمٹا دیا جائے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور