19 ویں اور بیسویں اہم ترین صدیاں

19 ویں اور بیسویں اہم ترین صدیاں
19 ویں اور بیسویں اہم ترین صدیاں

  


دنیا کی تاریخ تو اِتنی ہی پُرانی ہے جتنی کہ کائنات، لیکن معلوم تاریخ دس ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے۔ بقیہ لاکھوں اور اربوں سال کی تاریخ، اندازوں اور سائنسی قیاس آ رائیوں پر مبنی ہے۔ اس وقت ہماری دنیا کی 21 ویں صدی چل رہی ہے جو دراصل بیسویں صدی کی توسیع ہی ہے۔ اگرچہ تاریخ کی ہر صدی میں اِنسان نے تہذیب و تمدن اور علم کے حصول کے لئے قدم بڑھایا ہے، لیکن جو محیرالعقل ایجادات اور دریافتیں 19ویں اور 20 ویں صدی میں ہوئیں۔

وہ اِن صدیوں سے پہلے نہیں ہوئی تھیں۔ البتہ علوم، شاعری، سائنسی قوانین، مصّوری اور دوسرے فنونِ لطیفہ میں پچھلی صدیوں نے بہت کچھ دیا، لیکن ٹیکنالوجی ،سائنسی ایجادات اور ہنر مندی نے 19ویں اور بیسویں صدیوں میں دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا ۔ 19ویں صدی نے دراصل صنعتی اِنقلاب کی بنیاد یعنی سٹیم انجن کی ایجاد سے رکھ دی تھی۔

اس اِنقلاب سے قبل اِنسان اپنے کاموں کو انجام دینے کے لئے یا صنعتی پہیے کو چلانے کے لئے انحصار کرتا تھا اپنی قوتِ بازو پر یا جانوروں، ہوا اور پانی کی طاقت پر۔ بھاپ کے انجن نے صنعت کاری کی کایا ہی پلٹ دی۔ مواصلات آسان ہوگئیں۔ بھاپ کے انجن نے ہی امریکیوں کو ریلوے انجن ایجاد کرنے کی ترغیب دی۔

امریکہ کی Civil war شمالی امریکی ریاستوں نے اس لئے جیتی کہ وہ Locomotive ایجاد کر چکی تھیں جس کی وجہ سے شمالی ریاستیں اپنی فوجوں اور ہتھیاروں کی ترسل تیزی سے کر سکتی تھیں، جبکہ جنوبی ریاستیں ابھی گھوڑوں اور خچروں پر ہی انحصار کرتی تھیں۔ ٹیلیفون، تار گھر، پیٹرول سے چلنے والا انجن، لوہے کے بنے ہوئے بحری جہاز، یہ تمام مواصلات کے ہی ذرائع تھے جو 19 ویں صدی میں تجارتی طور پر اِستعمال ہونے شروع ہو گئے تھے۔

اِسی صدی میں بجلی اور بجلی کا بلب ایجاد ہوگئے۔ بجلی نے ہی ائیرکنڈیشنر اور فرج کو جنم دیا جس کی وجہ سے سمندری مچھلیوں کی تجارت100 گنا بڑھی۔ 19 ویں صدی میں فوٹو گرافی ایجاد ہوگئی۔ آگے 20ویں صدی میں جا کرفوٹو گرافی کی ایجاد بڑی ایجادوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

20ویں صدی کے آغاز میں ہوائی جہاز کی ایجاد امریکہ میں ہو ئی اور ہوائی جہاز بالاخر مواصلات کا تیز ترین ذریعہ بنا۔ پیٹرول کا internal combustion انجن موٹر کار کی ایجاد کا موجب بنا۔ آپ غور کریں کہ اِنسان کی بیشتر ترقی کا راز مواصلاتی ایجادوں میں مضمر ہے۔

خواہ سائیکل ہو یا ریلوے ہو یا لوہے کے بنے ہوئے بحری جہاز یا موٹر بائیک یا موٹر کار اور ہوائی جہاز ہو۔ اِن مشینوں کی کارکردگی بڑھانے کے لئے ٹیلیفون، تار گھر، بجلی اور فوٹو گرافی کی ایجادوں نے مواصلاتی نظام کو مزید بڑھاوا دیا۔ جو کِردار بھاپ کے انجن نے 19 ویں صدی میں ادا کیا وہی کردار 20ویں صدی میں نیوکلیئر پاور نے ادا کیا۔ بھاپ کی طاقت ہزاروں گنا زیادہ طاقت والے ایٹمی پلانٹ نے لے لی ۔ اِن میکینکل ایجادوں کی وجہ سے کیمیکل ٹیکنالوجی، ادویات، سرجری اور طب میں بھی بے تحاشہ ترقی ہوئی۔

ہر قسم کے درد کی دوائیاں اور بیکٹیریا سے پھیلنے والی شدید بیماریوں کا توڑ Antibiotic کی شکل میں اِن ہی دو صدیوں میں حاصل ہوا۔ ہر قسم کے بڑے آپریشن کے لئے بے ہوش یا سُن کرنے والی ادویات (Anesthetic)بھی اِن دو صدیوں میں ہی ایجاد ہوئیں۔ دنیا کا بہترین ادب ، شاعری اور موسیقی بھی اِن صدیوں میں میّسر آئیں۔ چونکہ سینما اور ٹیلیویژن اِن ہی صدیوں کی ایجاد ہیں اس لئے دنیا کے بہترین ایکٹر بھی بیسویں صدی میں نظر آتے ہیں۔

دُور کیوں جائیں اپنے برِصغیر کو ہی دیکھ لیں۔ 4 نوبل انعام لینے والے بیسویں صدی میں ہی نظر آتے ہیں۔ اردو زبان کے بہترین موسیقار اسی صدی میں پیدا ہوئے اور فوت بھی ہو گئے۔

اردو کے عظیم شاعر 19ویں صدی سے گننا شروع کردیں اور بیسویں صدی تک آ جائیں۔ غالب، بہادر شاہ ظفر، ذوق، مومن، جگر مرادآبادی، داغ دھلوی، جوش ملیح آبادی، علامہ محمد اقبال،حفیظ جالندھری، صوفی تبسم، ضمیر جعفری،فراق گور کھیوری، منیر نیازی، قتیل شفائی، احمد فراز، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، پروین شاکر، احمد ندیم قاسمی، جون ایلیا، فیض احمد فیض۔ نثر لکھنے والے بھی اِن ہی دو صدیوں میں ملیں گے۔

پاکستان بننے سے پہلے برِصغیر میں 1947 تک ہمیں کوئی بھی مسلمان سائنسدان ، انجینئر یا موجد نظر نہیں آتا، لیکن اللہ کی کرم نوازی سے پاکستان نے عظیم موجد، انجینئر اور دریافت کنندگان اس 20ویں صدی میں ہی پاکستان کی تشکیل کے بعد ہی میّسر آئے۔

ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر نسیم زہرہ )علمِ طبیعات کیمرج یونیورسٹی کی معلّم(ڈاکٹر رضی الدین، ڈاکٹر رفیع محمد چودھری نیوکلیئر فزکس کے اعلیٰ پائے کے سائنس دان ، نرگس مالو والا جنہوں نے کششِ ثقل کی لہروںGravitational waves کی دریافت کی، اس وقت امریکی NASA میں بہت اہم شعبے کی سربراہ ہیں اور امریکی مشہور یونیورسٹی MIT کے فزکس کے شعبے کی سربراہ بھی ہیں۔بفضلِ خدا ہم نیوکلیئر سائنسدانوں اور انجینئرز میں خود کفیل ہیں۔ میزائل ٹیکنالوجی کے انجینئرز اپنی مہارت میں بے مثال ہیں۔ یہ تمام انجینئرز اور اہلِ سانئس مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں۔

مشرقی موسیقی میں بھی بیسویں صدی نے کمال کی حدوں کو چھوا۔ برِصغیر کے بہترین موسیقار 20ویں صدی میں اپنے فن کا جادو جگاتے نظر آتے ہیں۔

نوشاد، غلام محمد، خورشیدانور، خورشید عطرے، نثا ر بزمی،OP نیّر، مدن موہن، خیام، ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن،شنکر جے شکن، کلیان جی آنند جی، راجیش روشن،روشن، لکشمی کانت پیارے لال، اے آر رحمن، نے کانوں کو مسحُور کرنے والی دُھنیں ایجاد کیں۔ اِن موسیقاروں کے ہنر کو شہرت کی چھاپ دی اِن دو صدیوں کے گانے والوں نے۔ ہم K.C Day سہگل، محمد رفیع، طلعت محمود، بڑے غلام علی خاں، بسم اللہ خاں،روی شنکر، اللہ رکھا طبلہ نواز، کشور کمار، مکیش، ایس ڈی برمن، لتا منگیشتر، آشا بھوسلے، منّا ڈے،شمشاد، ثریا، جگیت سنگھ، اختری بائی، بیگم اختر، روشن آرا بیگم، نورجہاں، مہندی حسن، غلام علی، نصرت فتح علی، ملکہ پکھراج، فریدہ خانم،بلقیس خانم،اقبال بانو، پٹھانے خاں، عابدہ پروین ۔ اِن موسیقاروں اور مغنیوں نے برِصغیر میں اُردو زبان کو عوام کی زبان بنانے میں بہت بڑا رول ادا کیا۔

مجھے ہندوستان کے جنوبی صوبہ جات میں اپنے بیرونِ ملک بینک کی ملازمت کی وجہ سے بہت آنے جانے کا اِتفاق ہوا۔ جن صوبوں میں ہندی یا اُردو بولنے والے سے حقارت سے پیش آیا جاتا ہو وہاں کے ریسٹورنٹس اور ڈھابوں میں ہندی اُردو گانے بجتے سنائی دیں گے۔ دنیا کا عظیم سیاسی فلسفہ بالشویزم )کمیونزم( 20 ویں صدی میں ہی جنم پذیر ہوا اور اِسی صدی کے آخر میں ختم ہو گیا۔

دنیا کی دو جنگیںِ عظیم بھی 20ویں صدی کی پیداوار ہیں۔ ایٹم بم کا پہلا اور شائد آخری اِستعمال اِسی صدی میں ہوا۔ دنیا کے غریب ملکوں پر سامراجیت بھی 19ویں صدی میں آئی ۔ برِصغیر میں برطانوی راج کا آغاز 1857 میں ہوا اور 1947 میں ختم ہوا۔

جو ترقی اس دنیا نے 19ویں اور20ویں صدی میں کرلی ہے اُ س کی اِنتہا ہمیں 21ویں صدی میں Internet کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ اَب اِنسان سائنس کے اُس حصے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں اِنسان کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔

آلات کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ دُور نہ جائیں اگلے پچاس سال میں اِنسان Social Animal نہیں رہے گا ،بلکہ روبوٹ کا محتاج ہو جائے گا۔ تنہائی ڈپریشن کی آخری حدوں کو چھُو لے گی۔ خود کشیاں عام ہو جائیں گی۔غالباً یہ کیفیت دنیا کے خاتمے کی ابتدا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...