تبدیلی،صرف حکومت سے توقع کیوں؟

تبدیلی،صرف حکومت سے توقع کیوں؟
تبدیلی،صرف حکومت سے توقع کیوں؟

  



قریب قریب پونے دو سال کا عرصہ بیت چکا مگر اپوزیشن کے بغیر بھی تحریک انصاف حکومت کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے سے محروم رہی ہے، تحریک انصاف حکومت کے قیام سے قبل قائم ہونے والا اپوزیشن اتحاد ابتداء میں ہی منتشرالخیال اور ڈانواں ڈول تھا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کرپشن مقدمات میں الجھی ہوئی تھی، حکومت سے براہ راست تصادم پر دونوں بڑی جماعتیں آمادہ نہ تھیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اختلافات بھی واضح تھے، لے دے کر فضل الرحمٰن بچ رہے۔ انہوں نے آزادی مارچ اور دھرنے سے اپنی سی کوشش کی لیکن اپوزیشن کی دو نوں بڑی جماعتوں کی لاتعلقی کے باعث فضل الرحمٰن جیسے خالی ہاتھ اسلام آباد آئے ویسے ہی واپس چلے گئے، اب فضل الرحمٰن نے 5دیگر مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سے مل کر چھ جماعتی اتحاد تشکیل دیکر آئندہ ماہ سے حکومت مخالف ملک گیر تحریک کا اعلان کیا ہے، مگر اس اتحاد میں شامل جماعتوں میں جے یو آئی(ف)کے سوا کسی جماعت کے پاس سٹریٹ پاور نہیں، احتجاج میں ماہر اور تجربہ کار جماعت اسلامی بھی اس احتجاج کا حصہ نہیں، جبکہ اس اتحاد میں شامل تمام جماعتیں فرقہ پرست مذہبی یا قوم پرست لسانی جماعتیں ہیں، مولانا نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت ہی نہیں دی، ایسے میں اس اتحاد کو بھی اپوزیشن کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

تحریک انصاف حکومت اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے کسی ایسی اپوزیشن سے واسطہ نہیں پڑا جو سڑکوں پر آ کر حکومت کو ٹف ٹائم دے، البتہ اب تک ایوانوں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے حکومت کو مسائل سے دوچار کئے رکھا، قانون سازی میں بھی حکومت کو مشکلات کا سامنا رہا، تاہم کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر اپوزیشن اس حوالے سے تعاون کرتی رہی ہے، یوں یہ بات کہنے میں عار نہیں کہ ملک میں منظم متحرک اور فعال اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں اور حکومت اپنی اپوزیشن خود ہی ہے، تھوڑے عرصہ کے بعد حکومت کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا اقدام عمل میں آجاتا ہے جس سے حکومتی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور تنقید کے نئے در وا ہو جاتے ہیں، بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ معمول بن چکا، پنجاب میں اب قدرے انتظامی صورتحال بہتر مگر آئے روز وزراء کے قلمدان تبدیل،کسی کو کوئی قلمدان دیا ذمہ داری دی گئی یا عہدہ تو اسے اپنے محکمے یا ادارہ کے معاملات مسائل اور ٹیم کی جانکاری اپنی ٹیم کے چناؤ اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے وقت اور مہلت دینا ضروری ہے، ورنہ کسی بھی بزرجمہر کو ذمہ داری دے دیں کوئی بہتری لا سکے گا نہ تبدیلی کا تصور کیا جا سکے گا، ضروری ہے جس کو عہدہ دیا گیا ہے اس پر اعتماد بھی کیا جائے ورنہ کاروبار مملکت چلانا مشکل نہیں ناممکن ہو جائے گا۔

منتخب نمائندوں کو پالیسی سازی حکمت عملی سے دور رکھنا اور بلدیاتی اداروں کو فعال نہ کرنا اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہو نا بھی مسائل کو جنم دیتا ہے اور اس حکومت نے یہ سارے کام نہیں کئے، آج تک نیا بلدیاتی نظام تشکیل نہیں دیا جا سکا، منتخب نمائندوں جن کا کام قانون سازی ہے ان کی اکثریت قانون سازی کے عمل میں دلچسپی نہیں لیتے، بلکہ ان کو اس عمل سے دانستہ دور رکھا جاتا ہے، کسی کو تنقید، ترمیم، تجویز دینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی، نچلی سطح پر عوام کے مسائل اسی وجہ سے جوں کے توں پڑے ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے پالیسی سازی سے الگ تھلگ ہیں، بلدیاتی انتخابات آج بھی تعبیر سے عاری خواب ہے، ترقی یافتہ ممالک میں شہری اور دیہی ترقی میں مقامی حکومتوں کا اہم ترین کردار ہے،گلی محلوں کے نمائندے جو مسائل و مشکلات سے بذات خود آگاہ ہوتے ہیں ان کا بہترین حل تلاش کر سکتے ہیں، مگر ان کا آج تک انتخاب ہی عمل میں نہیں آیا تو ترقی کا خواب کیسے دیکھا جا سکتا ہے، پنچائت اور ویلیج کونسل کا شوشہ چھوڑا گیا، یہ ایک بہترین نظام ثابت ہو سکتا ہے، عوام کو فوری اور دہلیز پر انصاف فراہمی کیلئے یہ ایک آزمودہ نظام ہے، اس نظام کو فعال کرنے سے تھانوں اور کچہریوں پر کام کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے، وزیر اعظم کو عوامی مسائل کا ادراک ہے خود اعتراف کرتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے اس حوالے سے نظر انداز کیا، وہ ان مشکلات کا حل بھی پیش کرتے رہے ہیں مگر اب جب خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں تواس طرف سے لاتعلق ہو بیٹھے ہیں۔

پرانے مسائل اپنی جگہ اب بھی موجود ہیں اور آئے روز نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، اب کرونا وائرس نے سر اٹھایا ہے، اللہ پاک اس عفریت سے ہماری حفاظت فرمائے، اللہ پاک پر توکل بہت اچھی بات ہے مگر حفاظتی تدابیر کرنا ہمارا کام ہے، اگر چہ اس وائرس کی اب تک ویکسئین دریافت نہیں ہو سکی صرف احتیاط سے ہی اس وباء کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے، مگر ہم نے اس حوالے سے ابتدائی کام بھی نہیں کیا ہمیں انتظار ہے کہ خدانخواستہ کوئی اس موذی وائرس کا شکار ہو اور پھر کوئی اقدام کیا جائے، صرف آئسولیٹ کرنا کوئی تدبیر نہیں ضر ورت اس امر کی ہے کہ اس وائرس کو پاکستان کی حدود میں آنے سے روکا جائے، حیرت ہوتی ہے ان والدین پر جن کے بچے چین میں زیر تعلیم ہیں اور وہ ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس مرض کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں، اگر خدانخواستہ کوئی طالبعلم اس وائرس سے متاثر ہے تو چین میں کم از کم اس کا علاج معالجہ تو کیا جا رہا ہے، ویکسئین کی تلاش کا کام بھی وہاں جاری ہے، اس وقت سخت ضرورت متاثرہ ممالک سے آنے والوں کی سکریننگ کی ہے، آنے والوں کوانسانی آبادی سے دور رکھ کر آبزرویشن میں رکھا جائے، جس کسی میں علامات ظاہر ہوں ان کو مکمل طور پر تنہائی میں رکھ کر ان کو بہترین علاج ٹیسٹوں کی سہولت دی جائے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیساتھ متاثرہ مریض کی زندگی کو بچایا جا سکے،

اس موقع پر انسانی ہمدردی کی بہترین صورت یہ ہے کہ متاثرین کو آبادی سے الگ کر کے ان کا علاج کیا جائے تاکہ دوسرے محفوظ رہیں۔کوئی مانے نہ مانے کرونا عذاب الٰہی ہے، اللہ رب العزت کا قانون ہے جرائم انفرادی نوعیت کے ہوں اور کرنے والے پر ہی اس کے اثرات مرتب ہوں تو خدائی قانون حرکت میں نہیں آتا، شرعی قوانین کے سرسری مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایسے جرائم پر دنیا میں سزا رکھی گئی جن سے معاشرہ میں ابتری پھیلے، دوسروں کے جان مال آبرو غیر محفوظ ہو جائیں،باقی سارے گناہ آخرت کی جزا سزا پر چھوڑ دئے گئے، آج خدا کو نہ ماننے والے تورہے ایک طرف اللہ پاک پر یقین رکھنے والے بھی ایسے جرائم میں ملوث ہیں جن کی وجہ سے انسانیت انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بہت وائرل ہے ”ایک حاجی صاحب دکاندار کے پاس گاہک ماسک لینے آیا تو فرمایا کرونا اللہ کا عذاب ہے، گاہک نے قیمت پوچھی تو 100والے ماسک کی قیمت 1000روپے بتائی، ساتھ ساتھ اللہ کی نافرمانی پر لیکچر بھی جھاڑتے رہے،گاہک نے کہا حاجی صاحب منافع خوری بھی گناہ ہے تو فرمایا کاروبار میں کیسا گناہ ثواب“ سچ یہ کہ ہمیں بھی تنقید ہی آتی ہے، اس میں کیسا گناہ ثواب، عوام مر رہی ہے تو مرے، لوگ بھوک ننگ استحصال کا شکار ہیں تو ہوں ہمیں تو سب کچھ حکومت سے ہی کروانا ہے خود کچھ نہیں کرنا۔ خدارا، سوچیں خود کو بھی تبدیل کریں صرف حکومت سے امید نہ رکھیں۔

مزید : رائے /کالم