تاویلات میں اُلجھ کر امن کا خواب منتشر نہ کریں

تاویلات میں اُلجھ کر امن کا خواب منتشر نہ کریں

  



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن سے پاکستان براہِ راست مستفید ہونے والا ملک ہے۔ طویل جنگ کے بعد افغانستان کے عوام بھی اب امن چاہتے ہیں۔ افغان قیادت کا یہ امتحان ہے کہ وہ کس قدر لچک دکھاتی ہے توقع ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے لئے استعمال نہیں ہو گی امریکہ طالبان معاہدہ اہم پیش رفت ہے اس سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ افغان قیادت کس حد تک تیار ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمونے کے لئے وہ لچک دکھانے پر تیار ہیں ان کا کہنا تھا کہ دوحہ میں امن معاہدے کے بعد انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کر کے ان کے سامنے چند نکات رکھے جن میں تجویز رکھی کہ ہمیں خرابی پیدا کرنے والے عناصر (سپائلرز) پر نظر رکھنا ہو گی، پومپیو کو بتایا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی پیشگی شرط نہیں ہے اور اس پر مذاکرات کے دوران بات ہو سکتی ہے۔

جو قوتیں افغانستان میں امن نہیں چاہتیں وہ آہستہ آہستہ کھل کر یا چھپ کر سامنے آئیں گی دیکھا جائے تو صدر اشرف غنی کے قیدیوں کی رہائی سے انکار کو بھی ان کے مخالفین، جن میں طالبان بھی شامل ہیں ایک ایسی کوشش قرار دے سکتے ہیں جس کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ دوحہ امن معاہدے کے دودھ میں مینگنیاں ڈالی جائیں۔ قیدیوں کی رہائی اس معاہدے کا قابل عمل حصہ ہے جو طالبان اور امریکہ کے درمیان طے ہوا ہے اب اگر اشرف غنی اس کی من پسند تاویل کرنا چاہیں گے تو اسے کیا نام دیا جائیگا؟ اگر کوئی اسے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا نقطہ ئ آغاز کہہ دے تو زیادہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ بعض مبصرین تو ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ افغان دھڑوں میں مذاکرات آسان نہیں ہیں اور سابقہ تجربوں کی روشنی میں کسی بھی رکاوٹ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اب قیدیوں کی رہائی سے انکار کو بنیاد بنا کر اگر طالبان بھی کوئی شرط رکھ دیں یا معاہدے کی کسی شق کی ایسی تاویل کرنا شروع کر دیں جیسی کہ اشرف غنی نے کی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں امن کا خواب آسانی سے شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں اور تاویلات کی کثرت سے یہ منتشر ہو کر رہ جائے گا۔ بعض قوتوں کی کوشش بھی یہی ہو گی کہ ایسا ہو جائے۔ اس لئے وہ تو پس منظر میں رہ کر شعلوں کو اپنے دامن سے ہوا دیتی رہیں گی، بھارت بھی ایک ایسا ہی کھلاڑی ہے جو امریکہ کی وجہ سے شاید کھل کر تو سامنے نہ آئے لیکن وہ پس منظر میں اپنا کھیل کھیلتا رہے گا، وزیر خارجہ شاہ محمود نے بالکل درست کہا ہے کہ ایسے عناصر پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو امن عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

افغان ملت کو اگر امن مطلوب ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ موشگافیوں کی بھول بھلیوں میں اُلجھنے اور متشابہات کے کانٹوں میں دامن الجھانے کی بجائے سیدھے اور صاف صراطِ مستقیم پر چلا جائے نیت نیک ہو گی تو یہ مشکل سفر بھی آہستہ آہستہ کٹ ہی جائے گا جس طرح خون کے دریاؤں سے گزر کر اٹھارہ سال بعد امن معاہدہ ہو گیا ہے اسی طرح ضروری ہے کہ آگے کا سفر بھی پایہ تکمیل تک پہنچے اگر افغان دھڑے اور ان کے رہنما آگے بڑھنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تدبیریں سوچتے رہیں گے اور جو معاہدہ طے پا چکا ہے اپنی ساری صلاحیتیں اس میں مین میخ نکالنے میں صرف کرتے رہیں گے تو امن کا راستہ کھوٹا ہوگا، اس وقت یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ افغان امن عمل کس کے مفاد میں ہے اور کون ہے جو یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں پہلے کی طرح خون بہتا رہے اگر ان دونوں گروہوں کی اچھی طرح شناخت کرلی جائے تو سفر بھی آسان ہو جائے گا اور منزل کھوٹی کرنے والوں سے بچنا بھی ممکن ہوگا، یہ چونکہ ایسے بازی گر ہیں جو ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“ اس لئے ان کی شناخت میں ابتدا میں کچھ مشکل تو ہو گی لیکن جب ان کے چہرے پہچان لئے جائیں گے تو منزل کی جانب بڑھنا آسان ہو جائے گا۔

یہ درست ہے کہ افغانستان میں طالبان کے مخالفین کی بھی کمی نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر طالبان کی افغانستان میں کوئی حیثیت نہ ہوتی تو امریکہ کو ان کے ساتھ مذاکرات کی چنداں ضرورت نہ تھی امریکہ نے اگر طالبان کی حقیقت کو تسلیم کیا اور ان کے ساتھ مذاکرات کے طویل ادوار کے بعد معاہدہ کیا تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ امریکہ نہ صرف افغانستان میں طالبان کی حیثیت کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کر چکا ہے بلکہ یہ بھی مان چکا ہے کہ ان کے بغیر وہاں امن کا کوئی تصور نہیں ورنہ امریکہ کے لئے کیا برا تھا کہ وہ جس طرح طالبان کو پہلے دہشت گرد تسلیم کرتا تھا اب بھی ہرچہ بادا باد کہہ کر اس روش پر گامزن رہتا اور معاہدے کے چکروں میں نہ پڑتا امریکہ میں اب بھی ایسے لوگ تو ہوں گے جو طالبان کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں لیکن خود صدر ٹرمپ کے بقول 99.9 فیصد امریکی معاہدے سے خوش ہیں اس لئے ایسے امریکیوں کی خوشی کو پائیدار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ معاہدے کی جو شقیں طے پائی ہیں ان پر صدق دلی کے ساتھ عمل کیا جائے۔امریکہ اپنے اتحادیوں کو بھی اس کی تلقین کرے۔

معاہدے کے بعد پاکستان کے اس موقف کی تصدیق ہو گئی ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اس کا بات چیت کے ذریعے سیاسی حل ہی ممکن ہے اگر فوجی حل ممکن ہوتا تو امریکہ کے پاس نہ تو فوج کی کمی تھی اور نہ ہی اسلحہ اور گولہ بارود کی، نیٹو کی فوجیں بھی اس کے شانہ بشانہ تھیں لیکن فوجی حل اٹھارہ سال تک نہ نکل سکا اور بالآخر امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا، امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تو اگلے مراحل کی کامیابی سے تکمیل بھی اب اسی کی ذمے داری ہے۔ خونریزی کے اٹھارہ انیس سال کے بعد اب مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں اور تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ افغان حکومت بھی اگر امن کی مخالف نہیں تو پھر اسے بھی امن دشمنوں کو پہچاننا ہوگا اور حکومت کی صفوں میں اگر کوئی ایسے لوگ موجود ہیں تو انہیں الگ کرنا ہوگا، افغان قیادت ماضی میں پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مارتی رہی ہے۔ کبھی پاکستان کے حق میں گرم جوشانہ بیان دے دیا اور کبھی ساری گرمجوشی کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر مخالفانہ بیان بازی شروع کر دی اس رویئے کو بھی اب خیر باد کہنا ہوگا۔ خطے کے ملکوں کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ افغانستان میں امن سے پاکستان سب سے زیدہ مستفید ہوگا باقی ملکوں کو بھی اپنا وزن امن کے پلڑے میں ڈالنا ہوگا اور جن قوتوں کا طرز عمل امن کے منافی نظر آئے ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ