رادھا کے ناچنے کا ارادہ

رادھا کے ناچنے کا ارادہ
 رادھا کے ناچنے کا ارادہ

  



پی ایس ایل کے میلے نے پوری قوم کی توجہ اس طرح اپنی طرف مبذول کرائے رکھی کہ ہفتہ رفتہ کے دوران وطن عزیز اور خطے میں بڑے بڑے واقعات ہو گزرے، مگر ہم ان کی طرف اتنے متوجہ نہ ہو سکے، جتنا عام حالات میں ان کا حق بنتا تھا۔ یہاں تک کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے جس طرح دنیا بھر کو سہما دیا ہے، اس حد تک اپنی قوم خوفزدہ نہیں ہوئی۔ پی ایس ایل بلا شبہ مقبول ترین کھیل کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کا میلہ ہے، جو توقع سے بڑھ کر کامیاب جا رہا ہے۔ اللہ کرے کہ اس کو کسی کی نظر بد نہ لگے اور یہ بخیر و عافیت انجام پذیر ہو۔ کراچی سے شروع ہونے والا یہ پانچواں میلہ ملک بھر کے باسیوں کے لئے اس حوالے سے خوشی کا باعث ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ وطن میں آئی۔ یہ پہلا میلہ ہے جو پورے کا پورا (پی ایس ایل) پاکستان میں ہو رہا ہے۔ دہشت گردی نے جہاں ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا وہاں ہمارے کھیلوں کے میدان سنسان کر دیئے تھے۔

بیرونی کھلاڑی اور ٹیمیں ہمارے ہاں آنے کے لئے تیار نہیں تھیں۔ مجبوراً کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لئے ہماری ٹیم کو کھیلنے کے لئے دبئی یا شارجہ جانا پڑتا تھا، حالانکہ کرکٹ ان ملکوں کا کھیل ہی نہیں ہے، یہاں تک کہ پاکستان کے نام پر ہونے والا کرکٹ میلہ، پی ایس ایل، بھی پاکستان میں نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلی بار پورا ٹورنامنٹ کھیلنے گورے کھلاڑی بھی پاکستان آئے ہیں تو قوم نے ان کا شایان شان استقبال کیا ہے۔ پوری قوم اس میلے سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اسی دوران قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان میں سمجھوتا ہو گیا۔ عالمی سطح کی اس اہم پیش رفت سے افغانستان میں 41 سال سے جاری جنگ اختتام کو پہنچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس جنگ کے بظاہر تین فریق تھے…… 28 ملکی اتحاد کا سرخیل امریکہ، افغان حکومت اور طالبان…… معاہدے پر دستخط کرتے وقت افغان حکومت غائب تھی۔ طالبان اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس سے مذاکرات کی بجائے انہوں نے اصل طاقت امریکہ سے ہی مذاکرات پر اصرار کیا اور کامیاب رہے۔ اس معاہدے کی رو سے امریکہ اور طالبان دونوں نے کامیابیاں سمیٹی ہیں، جنگ کا خاتمہ امریکہ اور طالبان دونوں کے مفاد میں ہے۔

امریکی صدر آمدہ انتخابات سے قبل یہ معرکہ سر کرنا چاہتے تھے تاکہ رائے عامہ میں اپنی پوزیشن بہتر بنا کر انتخابی کامیابی کی طرف بڑھ سکیں، وہ اس میں کامیاب رہے۔ طالبان قابض فوجوں سے اپنا ملک آزاد کرانا چاہتے تھے، اس کی جانب پیش قدمی ہو گئی، البتہ تیسرا فریق منظر نامے سے باہر ہونے کی سبکی مٹانے کے لئے جو کر سکتا ہے، وہ کر رہا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے قیدیوں کی رہائی کا نکتہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے آئندہ ہونے والے ”انٹرا افغان“ مذاکرات کا حصہ بنانے کا عندیہ دیا ہے، اس سے بھڑک کر اگر طالبان نے جنگ بندی توڑ دی تو معاہدہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ یہ بات افغان حکومت کے مفاد میں ہو تو ہو کسی اورکے مفاد میں نہیں ہو گی۔ اُدھر امریکی صدر نے بڑھک لگا دی ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکہ افغانستان میں تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کر ڈالے گا۔ ایران نے اگرچہ معاہدہ مسترد کر دیا ہے، تاہم اپنے بیان میں امن اور افغان عوام کی باتیں کی ہیں۔

موجودہ حالات میں شائد اس سے کوئی زیادہ فرق نہ پڑے، تاہم افغانستان کے اندر موجود دھڑوں کو ایک صفحے پر لا کر امن کے قیام کی کوششوں کے لئے زیادہ محنت کرنا پڑے گی……دوحہ معاہدے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بھارت کو شدت سے انتظار تھا، اربوں ڈالر کے اسلحہ کے معاہدے اور کھربوں روپے تجارت کے فیصلے متوقع تھے۔ بھارتی وزیراعظم نے احمد آباد (گجرات) دہلی کے سٹیڈیم میں بھرپور جلسے کا اہتمام کیا۔ امریکی صدر کی خوب چاپلوسی کی مگر ٹرمپ تو اپنی وضع کے آدمی ہیں انہوں نے بھری محفل میں پاکستان کی تعریفیں کر کے بھارتیوں کا مزا کرکرا کر دیا اور تجارتی معاملات غیر متوازن قرار دے کر مزید تجارتی رعایتیں دینے سے انکار کر دیا۔ بھارت کا سودا لینے کی بجائے اپنا سودا (اسلحہ) بیچ کر چلے گئے۔ اس دوران شہریت کے قانون کے خلاف اقلیتوں کے احتجاج سے پیدا ہونے والے مسلم کش فسادات دنیا بھر کی خبروں کا موضوع بن گئے اور وزیراعظم مودی اس دورے سے جو سیاسی فائدہ اٹھانا چاہ رہے تھے، وہ فسادات کی خبروں میں دب گیا۔

اسی دوران کرونا وائرس ایران سے ہوتا ہوا پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا گیا، چار کیس سامنے آ گئے، ان کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ ہوائی اڈوں اور سرحدی چوکیوں پر خصوصی پڑتال کا اہتمام کیا گیا۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ آمد و رفت محدود کر دی گئی۔ تفتان اور چمن پر سرحد بند کی گئی۔ اس سے انسانی مسائل تو پیدا ہوئے، تاہم وائرس کو پھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی برآمدات پہلے ہی خطرناک حد تک محدود ہو چکی ہیں، لے دے کر چین اور بھارت (کسی حد تک ترکی) ہی ایرانی پٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہے ہیں۔ ان میں ایل پی جی بھی شامل ہے۔ پاکستان میں ایرانی پٹرول اور مائع گیس سمگل ہو کر آتے ہیں۔ سرحد بند ہونے سے یہ سلسلہ رکا تو ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اچانک پچاس روپے کلو تک اضافہ ہو گیا۔ جو مائع گیس دو سال پہلے 90 روپے کلو مل رہی تھی وہ آہستہ آہستہ ڈیڑھ سو روپے (ڈالر کی قیمت چڑھنے کی وجہ سے) تک چلی گئی تھی، اب ایک ہی جست میں دوسو روپے تک پہنچ گئی۔

اب سوچیں کہ اگر سابقہ وزیر اعظم (شاہد خاقان عباسی) دور میں قطر کے ساتھ مائع گیس کا پندرہ سالہ معاہدہ نہ ہوا ہوتا تو اس کی قیمتیں کہاں پہنچ جاتیں؟ ہوٹلوں میں دال روٹی اور ٹرانسپورٹ کے کرائے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل ا وردیگر افسروں کو اس سودے کی کافی سزا مل چکی، اب اگر اس کی افادیت سامنے آگئی ہو تو ان کے لئے ”تمغہ کارکردگی“ تو بنتا ہے تاکہ آئندہ اصحاب اختیار معاہدے کرنے سے احتراز نہ برتنے لگیں ……متذکرہ ہفتے کے اختتام پر ایک اچھی خبر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی رہی، لیکن عالمی منڈی پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ وہاں جس تیزی سے تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، ہمارے ہاں کی گئی کمی اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ پڑول کی قیمت 5 کی بجائے 20 روپے فی لیٹر کم ہونی چاہئے تھی۔ جاتے جاتے یہ ہفتہ ریلوے حادثے کی خبر دے گیا۔ روہڑی کے پاس ہونے والے اس حادثے میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ قارئین فکر مند نہ ہوں، اس حادثے میں بھی وزیر ریلوے کا کوئی قصور نہیں۔ یوں بھی انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ ریلوے کے نئے روٹ ایم ایل ون کی تکمیل تک وہ استعفیٰ دینے والے نہیں …… نومن تیل ہو بھی جائے تو رادھا کے ناچنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مزید : رائے /کالم