ٹرمپ انتخابی مہم پر

ٹرمپ انتخابی مہم پر
 ٹرمپ انتخابی مہم پر

  



جین شینلے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے وہ بات کہہ دی جو ہم اپنی قوم کے سامنے کہتے ہوئے گزشتہ ایک سال سے شرما رہے ہیں،کیونکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ ہمارا بہت گہرا دوست ہے۔ شاید وہ پاکستان کے کسی دیہاتی سکول میں کبھی پڑھتا رہا ہو گا جین شینلے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک ایسا دانشور اور فلسفی ہے، جس نے امریکی ریاست کے اندرونی اورخاجی رویوں پر حقیقت پسندانہ تحریریں پیش کی ہیں۔اُس نے ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں ”انتہا پسند قوم پرستی کے نفاذ کے لئے متحد ہیں“……یعنی دونوں فاشسٹ اور جنگ پسند ہیں۔ٹرمپ کا ٹریک ریکارڈ یا ماضی مسلم دشمنی سے عبارت ہے۔اُس نے فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کے حلقہ اثر اور رقبہ حکومت کو کم کرنے میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا۔ اُس نے برسر اقتدار آتے ہی مسلم دہشت گردی کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور اس حوالے سے مودی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے۔اِس دوران مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا اور بھارت میں ہٹلر طرز کا متعصب قوم پرستانہ شہریت بل منظور کروایا۔آج اس شہریت بل کے خلاف پورے بھارت میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بھارتی دورے کے لئے پہلی منزل احمد آباد تھی۔ گجرات کا دارالحکومت،جس میں مودی نے بطور وزیراعلیٰ بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا مسلم کش فساد خود کرایا تھا،جس کے بعد مودی کو یورپی ممالک نے ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے دورہئ بھارت میں کشمیر کا ذکر کیا، اسی طرح جس طرح وہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔کشمیر کو پاؤں کا کانٹا بھی قرار دیا،لیکن سرکاری دورے میں انہوں نے مذہبی آزادی کے حوالے سے مودی کے نظریات کی تعریف کی۔ ہمیں اس وقت جب اُن سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر مسلمانوں پر جنونی ہندوؤں کے حملے جاری تھے، جب آر ایس ایس کے غنڈے مسجدوں کے میناروں پر چڑھ کر بھارتی پرچم لہرا رہے تھے، ٹرمپ نے کہا: ”وزیراعظم مودی مذہبی آزادی کے بہت بڑے پرچارک ہیں اور مذہبی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور مَیں ان کی دلیل سے متفق ہوں“…… ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ ریپبلکن ہمیشہ سے کشمیر کے معاملے پر بھارت سے متفق نہیں رہے، صدر ٹرمپ نے بھی اسی روایت پر عمل کیا۔

ٹرمپ کو معلوم ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی اس کے آئندہ انتخابی عمل میں ٹرمپ کارڈ ہے اور یہ ٹرمپ کارڈ پاکستان کے تعاون سے ہی چل سکتا ہے،لہٰذا اس کے لئے پاکستان کے بارے میں اچھی گفتگو کرنا مجبوری ہے، لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟پاکستان کو باقاعدہ کٹہرے میں کھڑا کر کے اس سے مطالبات کئے گئے ہیں۔پاکستان سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زمین دہشت گردوں کے سرحد پار حملوں کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا تو عالمی برادری کے سامنے اس خدشے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی زمین سے دہشت گرد حملوں کے امکانات موجود ہیں۔ درجنوں دہشت گرد تنظیموں کے نام بھی لئے جاتے ہیں، لیکن کشمیر میں مہینوں سے جاری کرفیو اور ریاستی دہشت گردی کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی سرکاری یا غیر سرکاری گفتگو میں موجود نہیں۔بھارت کے تاجروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح طور پر کہا: ”اگر مَیں جیت گیا تو تاجروں کے لئے امریکی مارکیٹ میں تیزی آئے گی اور اگر مَیں ہار گیا تو مارکیٹ ٹھپ ہو جائے گی“…… ٹرمپ تین ارب ڈالر کے جنگی ہیلی کاپٹر بیچنے کے علاوہ بھارتی سرمایہ کاروں سے اپنی انتخابی مہم کے لئے چندہ بھی حاصل کر سکیں گے۔موجودہ فرقہ وارانہ لہر کے ساتھ ٹرمپ کی ہمدردی امریکہ میں بسنے والی پچاس لاکھ بھارتیوں کی حمایت کا سبب بھی بنے گی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ٹرمپ، جس نے برسر اقتدار آتے ہی اسلامی دہشت گردی سے نپٹنے کا اعلان کیا تھا، اگر آئندہ انتخاب میں کامیاب ہوا تو یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے نئے مصائب کے آغاز کا دور ہو گا۔

مزید : رائے /کالم