وکلاء تنظیموں کے نئے عہدیدار اور کالے کوٹ کی حرمت

وکلاء تنظیموں کے نئے عہدیدار اور کالے کوٹ کی حرمت
 وکلاء تنظیموں کے نئے عہدیدار اور کالے کوٹ کی حرمت

  



وکلاء تنظیموں کی یہ بات بہت اچھی ہے کہ ان کے بروقت انتخابات ہوتے ہیں۔ آندھی آئے یا طوفان، مارشل لاء ہو یا جمہوریت، انہوں نے کبھی اپنے انتخابات کو ملتوی نہیں کیا۔ دوسری خوبی یہ بھی ہے کہ انتخابات شفاف ہوتے ہیں، کبھی ہارنے والوں نے جیتنے والوں پر دھاندلی کا الزام نہیں لگایا، البتہ ان انتخابات کی خامی یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، تب جا کر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کوئی انتخاب لڑ سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود ووٹ کی اہمیت ا ور جمہوری روایت کو جس طرح وکلاء نے اپنایا ہوا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ چند روز پہلے پنجاب بھر کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے انتخابات مکمل ہوئے ہیں، جن میں وکلاء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اب جبکہ وکلاء کے نئے عہدیدار منتخب ہو چکے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ ان سے چند گزارشات کی جائیں، اس امید پر…… ”شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات“…… کیونکہ مَیں سمجھتا ہوں وکلاء ہمارے معاشرے کی بہت اہم کمیونٹی ہے۔ سب سے مؤثر، بلند اور زور دار آواز انہی کی تصور کی جاتی ہے۔ اگر وکلاء معاشرتی سدھار میں اپنے کردار کی اہمیت کو جان جائیں اور اس پر عمل کریں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

وکلاء کو یہ تلخ حقیقت تسلیم کر لینی چاہئے کہ گزرا ہوا سال ان کی عزت و تکریم کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ چھوٹے موٹے واقعات تو ہوتے ہی رہے،لیکن پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے واقعہ نے وکلاء کو ایک ایسا طبقہ بنا کر پیش کیا، جسے تہذیب اور انسانی اقدار چھو کربھی نہیں گزریں۔ واقعہ اتنا سنگین تھا کہ خود وکلاء کے نمائندے اس کی کوئی توجیح پیش نہیں کر سکے۔ کالے کوٹ والوں کی غنڈہ گردی، ظلم اور دل کے مریضوں کے ساتھ سفاکانہ رویے کو ٹی وی چینلوں کے ذریعے گھر گھر دیکھا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ وکلاء سیاست کے ہاتھوں مجبور بار ایسوسی ایشن اور پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کی کال دے دی، گویا اس بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پی آئی سی میں جو کچھ ہوا، ایسا کرنا وکلاء کا حق تھا، کیونکہ ڈاکٹروں نے ان کے چند ساتھیوں سے بدسلوکی کی تھی۔ منو بھائی کہا کرتے تھے: ”اگر پوری دنیا بھی کچرا کھانے لگے تو کچرا حلال نہیں ہو جائے گا“…… وکلاء کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ اپنی کمیونٹی کی طاقت سے کچہری اور عدالتوں کو تالے لگا کر اگر اپنی بات منوا بھی لیتے ہیں تو عوام کی نظر میں ان کی عزت و تکریم میں اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ کمی آتی ہے۔ یہ سوال ہمیشہ وکلاء اور ان کے نمائندوں کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کالا کوٹ تو قانون و انصاف کی علامت ہے، پھر یہ قانون شکنی کا استعارہ کیوں بن گیا ہے، کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ کالے کوٹ والے نہ تو عدالتوں کو مانتے ہیں اور نہ اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ میری اگر کوئی شناخت ہے، لیکن مجھے اس کے الٹ حوالے سے دیکھا جاتا ہے تو یہ بات میرے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں ہونی چاہئے، وکیلوں کی طاقت قانون ہے، پھر وہ قانون کی دھجیاں اڑا کر کیسے عزت پا سکتے ہیں؟

میرے حلقہ احباب میں سینئر اور جونیئر وکلاء کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ مَیں نے انہیں ذاتی تعلقات میں بہت مہذب، صلح جُو اور دوستانہ پایا ہے، جو احترام دیتے ہیں اور انسانی قدروں کا خیال کرتے ہیں، مگر یہ کیا ماجرا ہے کہ یہی وکلاء جب اکٹھے ہوں تو اشتعال میں آ جاتے ہیں، عدالتوں کی کرسیاں الٹا دیتے ہیں، کوئی سائل سوال پوچھنے کی جرأت کرے تو مل کر پیٹ ڈالتے ہیں، کوئی افسر بات نہ مانے تو اس کے دفتر پر حملہ کر دیتے ہیں، ٹریفک وارڈن کسی خلاف ورزی پر وکیل کو روک لے تو وہ ساتھیوں کو فون پر بلا کر اس وارڈن کی ایسی تیسی کر دیتا ہے۔ کہیں ذاتی حیثیت میں جائیں اور کوئی بات نہ مانے یا پسند نہ آئے تو قانون کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اس سے دست و گریبان ہو جاتے ہیں، اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ ان سب باتوں سے کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کیا گیا ہے، کیا جا رہا ہے۔ قانون بے بس ہو جاتا ہے، مظلوم آہ بھر کر صبر کرتے ہیں، ادارے مصلحت کا شکار ہو کر کڑوا گھونٹ بھر لیتے ہیں …… یوں کہنا چاہئے کہ وکلاء ہر محاذ پر جیت جاتے ہیں، لیکن کیا وہ واقعی جیت جاتے ہیں؟ کیا اسے جیت کہہ سکتے ہیں، جو قانون اور لوگوں کے جذبات کو پامال کر کے حاصل کی جائے؟ کیا پنجاب کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کر کے فاتحانہ نشان بنانے سے وکلاء فتح یاب ہوئے یا ایک بہت بڑی ہزیمت اپنے نام لکھوا آئے؟ کوئی بھی کمیونٹی ہو، وہ رہتی کمیونٹی ہی ہے، معاشرہ نہیں بنتی۔ آپ اپنے جزیرے میں رہ کر سمندر کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ مجھے انہی دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی کچھ پوسٹیں بھی دیکھنے کا موقع ملا، جن میں وکلاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس بار ایسے کسی شخص کو ووٹ نہیں دیں گے جو وکلاء میں گھسے غنڈوں کی حمایت کرے گا۔ ہم صرف اسے منتخب کریں گے جو وکلاء کی عزت و تکریم میں اضافے کا باعث بنے۔ میرا خیال ہے یہ بہت مثبت سوچ ہے، اس پر عمل ہونا چاہئے، یہ وکلاء اور خود معاشرے کے لئے ضروری ہے۔

شاید وکلاء کو یاد ہوگا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید خان کھوسہ اپنی تقریروں میں یہ باور کراتے رہے کہ وکلاء جس سمت کو چل پڑے ہیں، اس سے انہیں روکنا پڑے گا۔ آصف سعید خان کھوسہ نے تو ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر حیدر عثمان کی اس لئے تعریف بھی کی تھی کہ وہ ایک سینئر قانون دان ہیں اور حالات و اقدار کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر وکلاء کو نئے آنے والے وکیلوں کی تربیت اور کردار سازی پر توجہ دینا چاہئے، کیونکہ وہ ان اعلیٰ اقدار سے محروم نظر آتے ہیں جو اس معزز پیشے کا اثاثہ ہیں، اس بار جو وکلاء انتخابات کے ذریعے عہدیدار منتخب ہوئے ہیں، ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کے سامنے دو راستے ہیں …… پہلا وہی ہے جو اس وقت مروج ہے اور ہر قیمت پر کسی بھی وکیل کی زیادتی اور شر انگیزی کا دفاع کرنے پر مبنی ہے۔ ایسا تو صرف جنگل میں ہوتا ہے کہ شیر شیر کی حمایت کرے اور لومڑی لومڑی کا ساتھ دے، چاہے زیادتی کسی کی بھی ہو۔ انسانی معاشرے میں تو یہ جنگل کا قانون نہیں چلتا، یہاں تو فیصلے قانون و انصاف کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ کوئی جج کسی وکیل کے کہنے پر ضمانت نہ لے یا تاریخ نہ دے تو وہ ساتھیوں کو بلا کر ہنگامہ کھڑا کر دے۔ اس کے بعد بار ایسوسی ایشن اس کی حمایت میں ہڑتال کا اعلان کر کے حوصلہ افزائی کرے۔ بار کونسل کے ضابطے آخر کس دن کے لئے بنائے گئے ہیں؟ ایسے وکلاء کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی جو اپنے کردار و عمل سے وکلاء کمیونٹی کے لئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں؟ اچھائی کی امید ہمیشہ رکھنی چاہئے، معجزے کسی وقت بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید 2020ء میں یہ معجزہ ہو جائے کہ نئے عہدیداروں کی بدولت کالے کوٹ کی حرمت اور عوام کی نظر میں اس کا احترام بحال ہو۔ کالا کوٹ شرافت، دیانت، ایمانداری اور قانون کی سب سے بڑی علامت بن جائے۔

مزید : رائے /کالم