انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے(2)

انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے(2)
 انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے(2)

  



اِدھر ایک طرف اسلام آباد میں پاکستان 26اور 27فروری (2019ء) کے درمیانی شب میں انڈین ائر فورس کے بالاکوٹ پر حملے کی شکست کی سالگرہ کا پہلا جشن منا رہا تھا تو اُدھر دوسری طرف دلی میں انڈیا بھی جوابِ آں غزل کی صورت میں بالاکوٹ پر حملے میں اپنی ”فتح“ کا راگ الاپ رہا تھا۔

میں NDTV پر 26فروری 2020ء کو انڈین ائر چیف بھادوریہ (Bhadavria) کا ایک طویل انٹرویو دیکھ اور سن رہا تھا جس میں موصوف نے بڑی ڈھٹائی سے بالاکوٹ کو جیش محمد کی ایک مستورگاہ (Hide-out) قرار دے کر ایک برس پہلے انڈین ائر فورس کے حملے کی ”کامیابی“ کو انڈین پائلٹوں کی تکنیکی اور پروفیشنل مہارتوں اور اپنے فضا سے فضا تک مار کرنے والے میزائلوں کی اثر انگیزی کا ”فقید المثال“ مظاہرہ قرار دیا تھا۔ پاکستان نے تو اگلے روز اپنی دستاویزی فلم میں انڈین مگ کو جلتا ہوا دکھایا، اس میں رکھے چاروں میزائلوں کی تصاویر بھی بمعہ نمبر وغیرہ ساری دنیا نے دیکھیں، اس مگ سے کود کر جان بچانے والے پائلٹ اَبھی نندن کو ایک نالے سے گھسیٹ کر نکالتے ہوئے پاکستانیوں کو بھی دکھایا گیا اور پھر اس پائلٹ کا وہ بیان بھی سنایا گیا جس میں اس نے پاک فضائیہ کی پروفیشنل مہارت کا اعتراف کیا۔ لیکن بھارت نے جب اپنے ائر چیف کا انٹرویو NDTV پر سنوایا تو اس میں سوائے بے بنیاد لفاظی کے اور کچھ نہ تھا۔ ائر چیف مارشل بھادوریہ نے اپنے پائلٹوں کو عین نشانے پر پہنچنے اور جیش محمد کے ٹھکانے کو برباد کرنے کا جھوٹ ایک بار پھر دہرایا اور اپنی فورس کی اس ائر سٹرائک کو یہ کہہ کر ”خراجِ تحسین“ پیش کیا کہ ہمارے سارے حملہ آور طیارے اور ہواباز بخیر و خوبی اپنا تفویض کردہ مشن مکمل کرکے واپس آ گئے تھے۔

اس انٹرویو کے علاوہ جو 26فروری 2020ء کو انڈیا میں کسی ائر بیس پر لیا گیا تھا، بھادوریہ نے نئی دہلی میں ایک سیمینار میں بھی شرکت کی جس کا ذکر میں نے گزشتہ قسط میں بھی کیا تھا۔ اس سیمینار کا عنوان تھا: ”نہ جنگ، نہ امن کی صورتِ حال میں ائر فورس کا رول“…… اس سیمینار میں البتہ ائر چیف نے یہ اعتراف کیا کہ 26فروری 2019ء کی شب جو طیارے بالاکوٹ پر حملے کے لئے بھیجے گئے تھے، ان میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا وہ ورشن نصب نہ تھا جو پاکستانی طیاروں کے میزائلوں میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے فرانس سے جو 36رافیل طیارے خریدے ہیں ان کی پہلی کھیپ مئی 2020ء میں انڈیا پہنچ جائے گی۔ ان کے ساتھ جو ائر ٹو ائر مار کرنے والے میزائل آ رہے ہیں اور جن کا نام میٹور (Meteor) ہے وہ بی وی آر (BVR) ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔

یہVisual BVR (Beyond Range) کا مخفف ہے جس کا مطلب ہے کہ اس میزائل کو فائر کرنے کے لئے ٹارگٹ کو ننگی آنکھ سے دیکھنے اور اس کا پیچھا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ]اس اصطلاح (BVR)کا اردو ترجمہ ”ماورائے دید“ کیا جا سکتا ہے[۔ حملہ آور طیارے کا راڈار میلوں دور سے اپنے فضائی ٹارگٹ (دشمن طیارے) کو اپنے طیارے میں لگے راڈار کی مدد سے دیکھتا ہے، اسے لاک آن کرتا ہے اور ”فائر“ کا بٹن دبا دیتا ہے۔ یہ ماورائے دید (BVR) میزائل خود بخود لاک آن شدہ ٹارگٹ کو جا لگتا ہے اور اسے چشم زدن میں برباد کر دیتا ہے۔ بھادوریہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسی میزائل سے 27فروری2019ء کو ہمارے دو طیاروں (مگ۔21 اور SU-30) کو نشانہ بنایا اور مار گرایا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ میزائل انڈین ائر فورس کے پاس نہیں تھے۔ اب یہ رافیل کے ہمراہ آئیں گے تو ان کی ماورائے دید رینج، پاکستانی میزائلوں سے زیادہ ہو گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ائر چیف نے یہ رونا بھی رویا کہ انڈین ائر فورس کو اگر یہ 36رافیل مل بھی گئے تو یہ ہماری مطلوبہ ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے۔ بھارتی فضائیہ کو 36نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ رافیل طیاروں کی ضرورت ہو گی۔ (یاد رہے کہ مودی کی گزشتہ حکومت نے اقتدار میں آکر کانگریس حکومت کی طرف سے دیئے گئے 216رافیل طیاروں کا سودا منسوخ کر دیا تھا اور ان کی جگہ صرف 36طیارے کافی سمجھے گئے تھے)یہ تو جب 27فروری 2019ء کو بھارتی طیاروں کو پاکستانی طیاروں نے اپنے میزائلوں سے تباہ کر دیا تو بی جے پی کو ہوش آیا کہ کانگریس کا فیصلہ درست تھا۔

ائر چیف مارشل بھادوریہ نے ایک اور بَڑ بھی ہانکی۔ (ان کو معلوم تھا کہ مودی سرکار رافیل کا بڑا آرڈر منسوخ کر چکی ہے اور میٹور (Meteor) ائر ٹو ائر میزائل کا انڈین ورشن DRDO(ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپ منٹ آرگنائزیشن)میں ہنوز زیرِ تکمیل ہے۔ گزشتہ برس اس ورشن کا اڑیسہ میں کامیاب تجربہ بھی کر لیا گیا ہے اور اس کا نام آسٹرا (Astra) رکھا گیا ہے۔ انڈیانے فرانس سے جو 36 رافیل خریدے ہیں ان کے ساتھ یہ Meteors تو آئیں ہی آئیں گے لیکن مودی حکومت کے سر پر Made In India کا جو سودا سوار ہے اس کے زیر اثر انڈیا نے فرانس سے میٹور میزائل، DRDO میں بنانے کا معاہدہ بھی کیا ہے اور اس کا ہندوستانی نام آسٹرا رکھا ہے۔

ہندو کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جن قوموں نے جنگ عظیم اول اور دوم میں اپنی ہزاروں لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر جدید ملٹری ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا ،جس کی فروخت سے ان کے اسلحہ ساز کارخانے چل رہے ہیں اور ہزاروں کاریگروں کا روزگار جن سے وابستہ ہے، وہ یہ فن کسی دوسرے ملک کو کیسے دے سکتے ہیں؟ امریکہ برسوں تک پاکستان کا دوست بنا رہا اور نان نیٹو اتحادی کا لقب بھی پایا لیکن کیا امریکہ نے پاکستان کو کسی ایک جدید ہلکے یا بھاری ہتھیار اور اسلحہ کے گولہ بارود (ایمبونیشن) کی سُن گُن بھی دی؟…… 1965ء کی جنگ میں ہم فتح کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن کامیاب کیوں نہ ہو سکے؟…… ہم نے 1971ء کی جنگ (مغربی محاذپر) کیوں ہاری؟…… 1999ء میں کارگل وار میں ایل او سی کے پار بیٹھی اپنی فوج کو واپس کیوں لانا پڑا؟…… کیا پاکستانی سولجر، کسی مغربی سولجرز سے عسکری علم و دانش میں کمتر ہے؟…… ایسا ہرگز نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ہنوز بعض سٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ جات اور ایمونیشن وغیرہ اپنے ہاں ڈویلپ نہیں کر سکا۔ چین ہماری مدد ضرور کر رہا ہے۔

لیکن کیا JF-17 یا الخالد ٹینک کی ٹیکنالوجی وہی ہے جو ایڈوانسڈ چینی لڑاکا طیاروں، ٹینکوں اور دوسرے ہتھیاروں میں استعمال ہو رہی ہے؟……ہم چین سے تقریباً 25،30 لانگ رینج توپوں کی رجمنٹیں خرید رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا چین ہمیں وہ ایڈوانسڈ ملٹری ٹیکنالوجی دے رہا ہے جو اس نے اپنے ”زورِ بازو“ اور ”جنگی تجربات“ سے حاصل کی ہے؟…… بایں ہمہ ہم چین کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمیں ایسی وار ٹیکنالوجی دے رہا ہے جو اب تک کسی مغربی ملک (امریکہ، برطانیہ، اٹلی، سویڈن وغیرہ) نے ہمیں نہیں دی۔

پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی برتر وار ٹیکنالوجی پر ان کی گرفت کا ادراک رکھتا اور ان کی برتری تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ترقی یافتہ ممالک کا حق ہے کہ وہ یہ ٹیکنالوجی ہم جیسے ترقی پذیر ملکوں کو دے کر اپنے ہاتھ نہیں کٹوا سکتے، اپنے کارخانے بند نہیں کروا سکتے اور اپنے ماہر کاریگروں (Skilled Man-Power) کو بے روزگار نہیں کر سکتے…… یہ بڑے ملکوں کی ”روٹی روزی“ کا معاملہ ہے…… لیکن ہندو بضد ہے کہ وہ جس ملک سے سینکڑوں بھاری ہتھیار خریدتا ہے، اس سے یہ معاہدہ کرنے پر بھی زور دیتا ہے کہ وہ ملک ان سینکڑوں ہتھیاروں میں چند درجن ہتھیار تو اپنے ہاں بنا کر انڈیا کو دے۔ لیکن باقی کے ہتھیار انڈیا کے کارخانوں میں بنائے جائیں اور انڈین کاریگروں اور دستکاروں کو بھی یہ فن سکھایا جائے…… میرا خیال ہے کہ ہندو سے بڑا بے وقوف اور کون ہو گا جو یہ توقع لگائے بیٹھا ہے کہ ترقی یافتہ اسلحہ ساز ممالک Made In Indiaکا سودا کرکے اسلحہ سازی کے وہ راز اس کے حوالے کر دیں گے جو ان ممالک نے تن من دھن کی بازی لگا کر حاصل کئے ہیں۔ لیکن ہندو ذہنیت ملاحظہ ہو کہ ائر چیف مارشل بھادوریہ نئی دہلی میں اس سیمینار سے خطاب کرکے یہی کہہ رہے تھے کہ ہم بہت جلد اپنے کارخانوں میں ماورائے دید (BVR)استرا میزائل بنا کر اسے ساری انڈین ائر فورس (IAF) میں انڈکٹ کر دیں گے…… اور پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے!

اس سیمینار سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی خطاب کیا اور فرمایا کہ: ”بالا کوٹ حملے نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو اپنے ہاں زیادہ دیر تک باقی نہیں رکھ سکتا۔ ہماری حکومت نے بالا کوٹ کے بعد اپنی وار سٹرٹیجی میں کئی بڑی (Major)تبدیلیاں کی ہیں تاکہ مستقبل میں حریف کا مقابلہ کر سکیں۔ حافظ سعید کی گرفتاری ہمارے لئے کافی نہیں۔ پاکستان کو اس فریب کارانہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا“…… راج ناتھ سنگھ کا یہ بھاشن پھر بھی ایک طرح کی انڈین حکومت کی مبنی بر منطق (Rational) صدائے بازگشت ہے۔ لیکن بھادوریہ نے تو یہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ: ”کارگل وار میں ہم ماورائے دید (BVR) ٹیکنالوجی میں پاکستان سے کہیں آگے تھے لیکن پھر ہم نے اپنی اس اسلحی برتری کو خود اپنے ہاتھ سے نکلنے کی اجازت دے دی اور اب گزشتہ 15برسوں سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اپنے حریف پر اس ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کریں۔!…… جب بالا کوٹ پر ہم نے سٹرائک کی تو ہمارے پاس یہ ٹیکنالوجی ”نہیں“ تھی۔ اور اب رافیل ہمارے پاس آ رہے ہیں تو بھگوان نے چاہا تو ہم اس کمی کو پورا کر لیں گے!“

انڈین ائر چیف کا یہ اعتراف، پاکستان کے لئے کتنا دل خوش کن ہے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور 27فروری 2019ء کی کامیابی نے اس برتری پر جو مہر تصدیق ثبت کی تھی، وہ مزید لہو گرمانے والی ہے!(ختم شد)

مزید : رائے /کالم