پشاور،اے این پی متنی کے عہدیداروں کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور،اے این پی متنی کے عہدیداروں کا احتجاجی مظاہرہ

  



پشاور (سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی متنی کے عہدیداران نے علاقہ کوہ دامان کی تحصیل کی حثیت برقرار رکھنے کے حوالے سے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بیرنز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں مطالبات درج تھے مطاہرے کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی متنی کے صدر گل نواز خان،جی ایس اسد خان اور کثیر تعداد میں دیگر ساتھیوں نے شرکت کی۔ ا س موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2ستمبر 2019کو ایک اعلامیہ کے ذریعے علاقہ کوہ دامان کے 8ویلج کونسلز کو تحصیل متنی میں شام کیا جبکہ کوہ دامان کے باقی تین کونسلز مریم زئی،شیر کیرہ،اور اضاخیل نے گورنر سے سے تحصیل متنی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 26ستمبر 2019کو کوہ دامان ڈگری کالج میں گورنر کی موجودگی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس مطالبے کو تسلیم کیا لیکن بدقسمتی سے اب تحصیل متنی کے وجود کو ختم کرکہ تمام کوہ دامان کو بڈھ بیر تحصیل میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس سے انتظامی بنیادوں پر ضلع پشاور کے چار تحصیلوں میں تقسیم سے حاصل ہونے والے فوائد محض خام خیالی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پشاور شہر کے گرد تین،چار کلومیٹر ز میں ہی تمام تحصیلوں کو بنانے کا راداہ کر چکی ہے تو بہتر ہوگا کہ ضلع پشاور جو صرف ایک تحصیل پر مشتمل تھا اسے اپنی حالت میں چھوڑ کر حکومتی خزانہ کو نقصان نہ پہنچائے مقررین کا کہنا تھا کہ کوہ دامان ضلع پشاور کا سب سے پسماندہ دور افتادء علاقہ ہے جیسے تحصیل کا درجہ برقررار رکھ کر محرومیوں کا ذالہ کیا جا سکتا ہے مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے اس سلسلے میں ہمار مطالبات نہ ماننے تو احتجاج کا دائر کار وسیع کیا جائے گا جسکی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی

مزید : پشاورصفحہ آخر