صنعتی پالیسی سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے،عبدالکریم خان

صنعتی پالیسی سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے،عبدالکریم خان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)نئی صنعتی پالیسی کا مقصد صوبے میں صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں صوبے کی نئی صنعتی پالیسی کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صوبے کیلئے نئی صنعتی پالیسی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسمنٹ نے کیا تھا۔اس موقع پرخیبر پختونخوا بورڈ آف انویسمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن داود بٹ نے صوبے کی نئے صنعتی پالیسی30-2020 پر تفصیلی بریفنگ دی ور سرمایہ کارون پر واضح کر دیا کہ صنعتی ترقی کے لیے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنائیں گے سمینار میں صوبے بھر کے صنعتکارون،سرمایہ کاروں،بینکرز، چیمبر کے اہلکاروں، یونیورسٹی کے سکالرون، سمیت سٹوڈنٹس اور سول سوسائٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا بورڈ اف انویسمنٹ کی ٹیم کو مبارکباد دی اور سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو ہدایت کی کہ صوبے کی نئی پالیسی کیلئے اپنی سفارشات دیں تاکہ ان کو صنعتی پالیسی کا حصہ بنایا جاسکے معاون خصوصی نے سر مایہ کارون پر زور دیا کہ وہ صو با ئی حکومت کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھاکر صوبے میں سرمایہ کاری کریں تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکے کیونکہ خیبر پختونخوا کے ہر ضلع میں سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں اور ہمیں وسطی ایشیا کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔معاون خصوصی نے مزید کہا صوبے میں انڈسٹریل زونز میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کو شفاف بنایا جائیگا اور پلاٹ مافیا کے خلاف جلد کاروائی کرنے والے ہیں معاون خصوصی نے سرمایہ کارون پر زور دیا کہ وہ نئے ضم شدہ اضلاع میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ وہاں بے پناہ قدرتی وسائل ہیں۔ اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت مراعات کے علاوہ ہر قسم کی سہولیات دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ صنعتی پالیسی میں معذوروں کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ صوبے کے اس محروم طبقے کو بھی معاشی طور پر مستحکم کیا جاسکے اور صوبے کے ہر ضلع میں اکنامک ڈویلپمنٹ کونسل قائم کی جائے تاکہ ہر ضلع میں صنعتی ترقی کا جائزہ لیا جائے اور سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر