شمالی وزیر ستان متاثرین کے دھرنے نے شہریوں کوخوار کر دیا

شمالی وزیر ستان متاثرین کے دھرنے نے شہریوں کوخوار کر دیا

  



پشاور(سٹی رپورٹر)پشاورمیں شمالی وزیرستان کے متاثرین کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے جاری احتجاج نے شہریوں کی ناک میں دم کردیا روزانہ پشاورپریس کلب سے اسمبلی کے قریب سوری پل چوک تک احتجاجی مارچ کے باعث ٹریفک گھنٹوں تک جام رہتی ہے بعض اوقات شدیداحتجاج پر مریضوں اور معذورافرادکے علاوہ خواتین کوبھی نہیں چھوڑاجاتا۔تقریباایک ماہ قبل شمالی وزیرستان کے جنگ سے متاثرہ افرادنے پشاورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کاآغازکیاکچھ دن تک مظاہرہ جاری رکھنے کے بعد وہ تقریباروزانہ دس اورگیارہ بجے کے درمیان سوری پل کے قریب احتجاجی مارچ کیلئے روانہ ہوجاتے ہیں اس دوران وہ ڈھول کی تاپ پرناچتے ہیں اور حکومت کیخلاف نعرہ بازی کرتے ہیں تاہم روزانہ پشاورپریس کلب سے سوری پل تک اس مارچ کے دوران وہ سڑکوں کو ہرقسم ٹریفک کیلئے بندکردیتے ہیں تقریباایک گھنٹے کے دوران وہاں تک پہنچتے ہوئے ان کے پیچھے گاڑیوں کی لمبی قطاریں جمع ہوجاتی ہیں احتجاجی مظاہروں کے دوران مختلف مریضوں اور خواتین نے ان سے درخواست کی کہ انہیں چھوڑاجائے لیکن انہیں چھوڑنے کی بجائے ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں جس کے متعلق مختلف شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کودرخواستیں دی ہیں۔مختلف اخباری نمائندوں سے رابطہ کرتے ہوئے شہریوں نے بتایاکہ احتجاج وزیرستانیوں کابنیادی حق ہے لیکن بی آرٹی کے باعث پہلے سے شہرمیں ٹریفک کی روانگی میں شدید مسائل درپیش ہوتے ہیں اس دوران وزیرستانیوں کی جانب سے پشاوریوں کو مزیدمشکلات سے دوچارکردیتاہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر