مردان،عبدالولی خان یونیورسٹی میں پہلی دو روزہ عالمی کانفرنس

مردان،عبدالولی خان یونیورسٹی میں پہلی دو روزہ عالمی کانفرنس

  



مردان (بیورورپورٹ)عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے ڈیپارٹمنٹ آف اگرانومی کی پہلی عالمی کانفرنس گارڈن کیمپس میں شروع ہو گئی ہیں پہلی عالمی کانفرنس دوروز جاری رہے گی جس کا موضوع وجیٹیشن منیجمنٹ کے ذریعے استحکام ہے کانفرنس میں عراق کردستان اور ملک بھر سے سائنٹس شرکت کررہے ہیں کانفرنس کے پہلے روز مہمان خصوصی پرووائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرظہور الحق تھے انہوں نے کہا پاکستان بھر سے دیگر جامعات اور اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے مبارکباد کے مستحق ہے کیونکہ اس طرح کی کانفرنس میں ایگریکلچر سے متعلق جدید ترین تحقیقات اور اس ضمن میں آئندہ پیش آنے والے چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے عہدہ براء ہونے میں مدد ملتی ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی معیشت کی ترقی میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زراعت سے متعلق ریسرچ اور نت نئی تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر چہ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان نے زراعت کے شعبے میں کافی ترقی کی ہے لیکن اس کے باوجود ہماری فی یونٹ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کی پیداوار کی بہ نسبت بہت ہی کم ہے ۔اس کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ایک کسانوں کا جدید تحقیقات اور ریسرچ سے لاعلمی بھی ہے جبکہ یونیورسٹیز میں ہونے والی ریسرچ اکثر کسانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔اکیسویں صدی میں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے آثار نمودار ہوئے ہیں،وہاں پر زراعت کے شعبے میں بھی بے پناہ ترقی ہوئی ہے اور نئے نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں جن کی بدولت فی یونٹ پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ان میں سے فصلوں کے لیے قدرتی خوراک کا استعمال نہایت اہم ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں صنعتی اداروں سے روابط کو تیزکرے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس عالمی کانفرنس کی بدولت شرکاء کو اپنے تجربات اور صلاحیتیں ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرنے کا موقع ملے گا چیف آرگنائزر ڈاکٹر کوثر علی نے مقررین سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملکی ترقی اور خود کفالت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور کوئی بھی ملک زرعی ترقی میں جدت لائے بغیر خود کفالت کی منزل نہیں پا سکتا اور اسی نظریے کے تحت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ایگریکلچر کے شعبے نے کانفرس منعقد کیا جس میں آنے والے نوجوان سکالرز کو ریسرچ کا موقع ملا ہے آخر میں ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر حیات خان نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز سیملک میں ریسرچ کلچر کو فروغ ملے گی اور طلباء کے درمیان تعلیمی روابط مضبوط ہوں گی اور ہمیں ایک دوسرے کی تحقیق سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے گا۔اُنہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کی اس سال میں یہ چھٹی سرگرمی ہے۔ اس بات پر میں پورے ڈپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبر کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت یہ سب ممکن ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز سے ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی اور ہم اس کی روک تھام کے لیے بروقت ضروری اقدامات کرنے کے قابل ہوسکیں گے چیف آرگنائزر ڈاکٹر کوثر علی نے مقررین سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملکی ترقی اور خود کفالت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور کوئی بھی ملک زرعی ترقی میں جدت لائے بغیر خود کفالت کی منزل نہیں پا سکتا اور اسی نظریے کے تحت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ایگریکلچر کے شعبے نے کانفرس منعقد کیا جس میں آنے والے نوجوان سکالرز کو ریسرچ کا موقع ملا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر