عدنان شینواری قتل، قومی مشران سے مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم

عدنان شینواری قتل، قومی مشران سے مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم

  



خیبر (بیورورپورٹ)عدنان شینواری واقعے کے خلاف دھرنا دسویں دن قومی مشران اور سیاسی اتحاد کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعدختم کردیا گیا ملک دریاخان کی قیا دت میں سیاسی اتحاد سے مذاکرات کرکے مطالبات حکومت کے اعلی حکام کے سامنے پیش کرینگے،سیاسی اتحاد کی جدوجہد اور دلیرانہ فیصلے رنگ لے آئی اور تمام اقوام کو ایک پیچ پر جمع کیا،ملک دریاخان کا دھرنے سے خطاب تقریبا گیا رہ دن پہلے پشاور ریگی میں سی ٹی دی مقابلے میں مبینہ طور پر جاں بحق عدنان شینواری سیاسی اتحاد اور ورثاء نے احتجاج شروع کیا تھا اور صبح نون بجے سے شام پانچ بجے تک احتجاجا پاک افغان شاہراہ گزشتہ دس دنوں سے بند کیا جا تا تھا اس دوران کئی بار انتظامیہ کے اعلی آفیسرز کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو ئے لیکن گز شتہ ورز خیبر کشران کمیٹی کے صدر شاکر آفریدی نے شینواری اور ذخہ خیل قوم کے مشران کو اکھٹا کرکے سیا سی اتحاد کے ساتھ مذاکرات شروع کئے قومی مشران ملک دریا خان،ملک عبدالرزاق آفریدی،ملک خالد خان آفریدی،ملک تاج الدین شینواری،ملک ماصل خان شینواری،ملک خطاب عرف بوڈھا معراج الدین اور دیگر سیا سی اتحاد کے ساتھ دودنوں تک مذاکرات کئے سیاسی اتحاد نے قومی مشران کو سامنے اپنے مطالبات پیش کئے قومی مشران نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ تمام مطالبات آئینی اور قانونی ہیں اعلی حکام کے ساتھ بیٹھ کر تمام مطالبات حل کرینگے جس کے بعد چراوزگئی کے مقام پر قومی مشران اور سیا سی اتحاد نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور پاک افغان شاہراہ ہر قسم آمد ورفت کیلئے کھول دیا گیا اس موقع پر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ملک دریا خان نے کہا کہ سیاسی اتحاد کی کوشش رنگ لے آئی جبکہ تمام اقوام کو ایک پیچ پر لانے میں بھی کامیاب ہو گئے سیا سی اتحاد نے آئین اور قانون اندر رہ کر ایک پرامن احتجاج کیا جبکہ ایک مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو گئے اس موقع پر سیاسی اتحاد کے مشران شاہ حسین شینواری،مفتی اعجاز شیوناری،مرادحسین آفریدی،ملکزادہ ندیم آفریدی ذاکر آفریدی اور دیگر نے کہا کہ قومی مشران ایک اہم موقع پر بہترین کردار ادا کیا دس دنوں تک انہیں دھمکیاں دی گئی اور مختلف پروپیگنڈے کئے گئے لیکن مفاد پرست لوگ کامیاب نہیں ہوئے انہوں نے کہا کہ ظلم پر خاموش نہیں ہونگے جبکہ وہ مجروموں اور ظالموں کا ساتھ بھی نہیں دینگے اگر حکومت کو کسی کوئی مسئلہ ہو تو قومی مشران اور سول انتظامیہ کے ذریعے حاضر کریں

مزید : پشاورصفحہ آخر