احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ کا آغاز،119سرکار ی جامعات میں 50ہزار وظیفے دیئے جائینگے: عمرا ن خان

احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ کا آغاز،119سرکار ی جامعات میں 50ہزار وظیفے دیئے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ) وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ 25 ہزار روپے سے کم آمدن والے افراد کو راشن کی خریداری میں حکومت معاونت کرے گی۔ذرائع کے مطابق فیصلے سے قبل وزیراعظم نے تمام محکموں سے بریفنگ لی اور آئندہ بجٹ میں راشن خریداری کے لئے رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت آٹا چینی دال اور گھی کی خریداری میں مدد کرے گی۔اس سلسلے میں وزارت خزانہ اور معاشی ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ اس ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی حکومتیں ایسے طبقے کا احساس نہیں کرتی تھیں۔ موجودہ حکومت ایسے سفید پوش طبقے کا سہارا بنے گی۔ وفاق اور صوبے مل کر فیصلے پر عملدرآمد کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے احساس انڈر گریجویٹ اسکالر شپ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت 119 سرکاری جامعات میں 50ہزار اسکالرشپ دی جائیں گی۔ پروگرام میں خواتین کے لے 50فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، کمزور طبقے کا احساس ہی ریاست مدینہ کا بنیادی اصول تھا۔ غریب کا احساس کرنے والا معاشرہ ہی مہذب کہلاتا ہے، میں اس پروگرام سے بہت خوش ہوں کیوں کہ میرا روڈ میپ ریاست مدینہ کا ماڈل ہے جو پوری دنیا کے لیے بہترین ہے، یہ پروگرام نوجوانوں کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے مہارتیں سیکھنے میں مدد فراہم کرے گا،ہنر مند پروگرام اور ہیلتھ کارڈ کا مقصد غریب طبقے کوسہولیات فراہم کرنا ہے۔ پنجاب میں 60لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دے چکے ہیں۔احساس انڈر گریجوٹ وظائف کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرہ ان لوگوں کا خاص طورپر خیال رکھتا ہے جو پیچھے رہ جائیں اور اصل معاشرے کی پہچان اس کے غریب لوگ ہوتے ہیں کہ وہ کیسے رہتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں نبی اکرمؐ نے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی جبکہ ریاست مدینہ بہت کمزور تھی اس وقت مدینہ کی ریاست کے پاس نہ پیسہ تھا اور نہ ہی وسائل تھے مگران کے پاس احساس تھا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم کمزور طبقے کو سب سے پہلے اوپر لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ دو چیز یہ ہے کہ جب جنگ بدر ہوئی اور قیدی پکڑے گئے تو اس وقت حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ جو بھی قیدی 10مسلمانوں کو پڑھا لکھا دے گا اس کو آزادی مل جائے گی، اس سوچ کی وجہ سے ریاست مدینہ نے ترقی کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایک چھوٹے سے طبقے نے وسائل پر قبضہ کیے رکھا اور چھوٹے سے طبقے کو اچھی تعلیم ملتی ہے جبکہ غریب طبقے کے لئے الگ نظام تعلیم رکھا گیا ہے جو غریب کو اوپر نہیں جانے دیتا۔انہوں نے کہاکہ نظریہ پاکستان یہ ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ جو معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں ان لوگوں کو آگے لائیں، جن طالب علموں کے پاس وسائل نہیں ہیں ہم ان کے لئے سکالر شپ پروگرام دے رہے ہیں اور ہر سال ان کو سکالر شپس دینگے جیسے جیسے وسائل بڑھتے جائیں گے ہم سکالرشپس بھی بڑھاتے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ فنڈز کی فکر نہ کریں یہ فنڈز بھی بڑھتے جائیں گے اور ہماری نوجوان نسل پر یہ فنڈز خرچ کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب طالب علموں کو ہم سکالر شپ دینگے تو وہ اپنے خاندانوں کو اوپر لے جائیں گے جس خاندانوں میں تبدیلی آئے گی اور جب خاندان تبدیل ہو گا تو پھر ملک خود بخود اوپر جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 70ہزار بچوں کو ہم ہنر سیکھا رہے ہیں، یہ بچے آنیوالے سالوں میں پاکستان کو اوپر لے جائیں گے، پاکستان کے پاس بہت وسائل ہیں، ہمارا ملک بہت ذرخیز ہے کیونکہ پاکستان کے پاس 12موسم ہیں، ہمارے ملک میں بہت زیادہ گیس ہے جسے نکالنے کیلئے ہمیں ہنر مند نوجوان چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ ہنر مند پروگرام کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو اوپر لے کرجارہے ہیں اس کے علاوہ ہیلتھ کارڈز پروگرام بہت اچھا ہے جس پر مجھے بہت خوشی ہے، ہم 60لاکھ خاندانوں کو یہ کارڈز دے چکے ہیں اور مزید لوگوں کو دینگے، کے پی کے حکومت تقریبا سب خاندانوں کو یہ کارڈز دے گی، ہم مزید پناہ گاہیں بنارہے ہیں جن میں لوگوں کو رہائش، ناشتہ اور کھانا مفت ملے گا۔انہوں نے کہاکہ غریب لوگوں کے پاس عدالت میں جانے کیلئے وکیل کے پیسے نہیں ہوتے ہم یہ مسئلہ بھی حل کرنے جارہے ہیں اور قانون بنا رہے ہیں کہ غریب کو وکیل ریاست فراہم کرے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے غریب اور بیوہ خواتین میں گائے، بھینسیں اور مرغیاں تقسیم کیں، اس کے علاوہ ہم غریب اور بے روزگار لوگوں کو رکشے بھی دینگے تاکہ ان کا روز گار چل سکے۔ایسے بہت سے پروگرام چل رہے ہیں جو سب میرٹ پر ہوگا، اس میں کسی کو سفارش کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ یہ سب میرٹ پر ہوگا۔ وزیرِ اعظم عمران خا ن نے ریلوے کے حوالے سے جانی نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اورکہاکہ پاکستان ریلویز کو فعال اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لئے ادارے کی تنظیم نو کی ضرورت ہے اس حوالے سے مشیر اصلاحات کی مشاورت سے ایک جامع پلان تشکیل دیا جائے، موجودہ حکومت کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے ریلوے کی ترقی نہایت ضروری ہے، موجودہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے منافع بخش اور فعال ادارہ بنایا جائے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان ریلوے کی تنظیم نو اور ریلوے سے متعلقہ معاملات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ریلوے کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ریلوے سے متعلقہ معاملات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی کیلئے وفاقی کابینہ کے فیصلے خوش آئند ہیں، فروری میں مہنگائی کی شرح میں جنوری کے مقابلے میں 2فیصد کمی آئی ہے، عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کر نے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی کیلئے وفاقی کابینہ کے فیصلے خوش آئند ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے مصنوعات پر سبسڈی کے مثبت نتائج آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں مہنگائی کی شرح میں جنوری کے مقابلے میں 2فیصد کمی آئی ہے، عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کر نے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان سے پیرپگارا نے ملاقات کی جس میں صوبہ سندھ کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پیر صدرالدین شاہ بھی ملاقات میں شریک تھے، پیر پگارا نے صوبہ سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے لئے گئے اقدامات کی تعریف کی، شرکاء نے کفالت پروگرام کے صوبہ سندھ میں دائرہ کار میں توسیع کی درخواست کی۔ عمران اسماعیل نے وزیراعظم کو سندھ کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ملاقات کی جس میں شیخ رشید نے سکھر میں ٹرین کی بس کو ٹکر اور ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ ذرائع کے مطابق ریلوے کے انفراسٹرکچر اور 152 نئے پھاٹک سے متعلق منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق سرکلر ریلوے کیلئے وزیراعلی سندھ سے ملاقات اور پیش رفت سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ سپریم کورٹ میں ریلوے کیس سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔ایم ایل ون منصوبے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔سعودی قیادت نے پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے وزیراعظم سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی امور، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ عمران خان نے بھارت میں ہندوتوا نظریات اور کشمیریوں کے مصائب کا ذکر کیا۔وزیراعظم نے معزز مہمان کو مقبوضہ کشمیر کی بدترین صورتحال سے آگاہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے معاشی تعلقات کو سراہا۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات پر اظہار خیال کیا۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری بشمول مسلم کمیونٹی کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کردارادا کرنے پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سعودی قیادت کا اہم پیغام وزیراعظم عمران خان کو پہنچایا جبکہ سعودی نائب وزیر دفاع نے سعودی قیادت کا پیغام وزیراعظم کو دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کو اقتصادی تعاون فراہم کیا، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول