طالبان کا افغان فورسز پر دوبارہ حملوں کا اعلان، قیدیوں کی رہائی تک مذاکرات نہیں کرینگے، ذبیح اللہ، معاہدے پر عملی اقدامات دیکھیں گے، مائیک پومپیو، فوجیوں کو انخلاء کی تیاری کا حکم دیدیا،امر یکی وزیر دفاع

        طالبان کا افغان فورسز پر دوبارہ حملوں کا اعلان، قیدیوں کی رہائی تک ...

  



پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے باوجود افغان فورسز کیخلاف کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکا سے ہونے والے معاہدے سے قبل جو 7روزہ عارضی جنگ بندی کی گئی تھی اور کا دورانیہ اب ختم ہوچکا ہے لہذا افغان فورسز کیخلاف اپنی معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کررہے ہیں۔خیال رہے کہ افغان طالبان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان حکومت نے طالبان امریکا معاہدے کے مطابق طالبان کے 5ہزار قیدی رہا کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے جواب میں طالبان نے بھی بین الافغان مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی رو سے 10مارچ 2020 تک افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں اور طالبان ایک ہزار افغان فورسز کے اہلکاروں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔ طالبان نے کہا کہ جب تک ان کے 5 ہزار قیدی رہا نہیں کیے جاتے تب تک وہ بین الافغان مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے۔امریکا اور طالبان کے درمیان ہفتے کو ہونے والے معاہدے کے مطابق دونوں فریقین نے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر جنگی و سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے کے تحت 10 مارچ تک طالبان کے تقریبا 5 ہزار قیدیوں اور افغان حکومت کے تقریبا ایک ہزار قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے۔تاہم افغانستان کے صدر اشرف غنی نے، جو امریکا۔ طالبان مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ 'ہم بین الافغان مذاکرات کے لیے پوری طرح تیار ہیں لیکن اس کے لیے اپنے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 'اگر ہمارے 5 ہزار قیدی رہا نہیں کیے جاتے تو کوئی بین الافغان مذاکرات نہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ امریکا نے امید کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان میں مستقل سیاسی تصفیے اور سیز فائر کے لیے مذاکرات کا آغاز جلد ہوگا، تاہم مغربی سفارتکاروں اور تجزیہ کاروں کو آگے کے مراحل میں بھرپور چیلنجز نظر آرہے ہیں۔اشرف غنی نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قیدیوں کی رہائی کے لیے نہیں کہا ہے اور قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر جامع امن منصوبے کے حصے کے طور پر بات ہونی چاہیے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ '5 ہزار قیدیوں کی فہرست میں بیشتر وہ ہیں جنہیں امریکی فوج نے گرفتار کیا اور انہیں افغان حکومت کی جیلوں میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان میں سے اکثر بیمار اور بزرگ قیدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے سے قبل سات یوم تک کشیدگی میں کمی کا منصوبہ باضابطہ طور پر ختم ہوچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس طرح کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ لوگ کشیدگی میں کمی سے خوش ہیں اس لیے ہم ان کی یہ خوشی تباہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی ملٹری کارروائیاں اس سطح پر نہیں لے جائیں گے جس سطح پر یہ پہلے تھیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 'یہ سرگرمیاں اس سطح پر کبھی بھی پہنچ سکتی ہیں، ایک گھنٹے بعد، آج رات کو، کل یا دو روز بعد۔' خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد تحریری معاہدے کے نتیجے میں افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے قوی امکانات ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ طالبان کے ہاتھ امریکی فوجیوں کے خون سے رنگے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاغذ پر کیے گئے وعدوں پر اعتبار نہیں کریں گے، عملی اقدامات دیکھیں گے، زمینی حقائق ثابت کریں گے کہ طالبان معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں کہ نہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو کے دوران مائیک پومپیو نے کہا کہ کسی کو مغالطہ نہیں کہ افغانستان کی اندرونی سیاست میں اتفاق رائے حاصل کرنا آسان ہوگا لیکن ہم نے پہلے سے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔مائیک پومپیو کا افغان صدر اشرف غنی کے قیدیوں کی رہائی سے متعلق بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بیانات اہم نہیں، اقدامات اہم ہیں، افغان حکومت نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، ماضی میں بھی دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی اور امریکی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، امید ہے کہ دوحہ معاہدہ افغانیوں کی 40 سالہ مشکلات کے خاتمے کا باعث بنے۔امریکی صحافی کی جانب سے مائیک پومپیو سے سوال کیا گیا کہ آپ طالبان کو ماضی میں دہشت گرد قرار دیتے تھے، کیا آج بھی آپ انہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں؟ جس کے جواب میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت طالبان مستقبل میں دہشتگرد کارروائیوں میں حصہ نہ لینے کے پابند ہیں۔مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنا تعلق توڑ دیں گے، طالبان نے القاعدہ کو افغانستان سے نکالنے میں امریکا کے ساتھ تعاون کی حامی بھری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی چیز پر یقین نہیں کرتے، طالبان کو عملی اقدامات سے اپنے وعدوں کو پورا کرکے دکھانا ہوگا، معاہدے کا تعلق کسی پر اعتبار کرنے سے نہیں ہے، ہر چیز کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ کابل میں امریکی وزیر دفاع اور نیٹو سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں افغان حکومت نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، ہم امریکا کو محفوظ سے محفوظ تر بنانے میں صدر ٹرمپ کے احکامات پر عمل کررہے ہیں، کوئی خفیہ ڈیل نہیں کی گئی، تمام معاملات شفاف اور سب کے سامنے ہیں، تمام کانگریس اراکین معاہدے کی کاپی دیکھ سکتے ہیں، معاہدے کی جو دستاویز عوام کے سامنے لائی گئیں وہی مکمل معاہدہ ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا انٹرویو کے دوران مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شرائط کے تحت ہوگا، آنے والے دنوں میں انٹرا افغان ڈائیلاگ ہونے ہیں، امریکا نے افغانستان میں طالبان اور سیکیورٹی فورسز دونوں کو تشدد میں کمی لانے پر زور دیا ہے۔پومپیو نے مزید کہا کہ امریکی صدر کی طالبان سے ملاقات سے متعلق کچھ علم نہیں، طالبان رہنما نے ملاقات میں اتفاق کیا کہ وہ القاعدہ سے اپنے تعلقات ختم کردیں گے، طالبان رہنما نے یقین دلایا کہ وہ القاعدہ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں میں اعتماد سازی کے اقدامات پیدا کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، افغانستان میں بنائی گئی اہم بیس سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل شروع کرسکتے ہیں۔دوسری طرفچینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے حصول میں ایک مثبت قدم کے طور پر چین امریکہ- طالبان معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتہ کو کافی عرصے سے انتظار کئے جانے والے معاہدے پردستخط کئے جس میں طالبان کے افغان حکومت سے مزاکرات اور دہشت گرد گروپوں سے تعلقات منقطع کرنے کی صورت میں امریکہ کے بتدریج انخلا کا کہاگیا ہے۔معاہدہ پر دستخطوں کی تقریب میں کئی ایک علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور چین سمیت دیگر ممالک نے شرکت کی۔ترجمان ژا لی جیان نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ چین اس معاہدے کا خیر مقدم اور افغان زیر قیادت اور افغان ملکیتی وسیع اور جامع امن ومصالحتی عمل کی پرزور حمایت کرتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ افغانستان کی سرزمین پر دیرپا امن میں سہولت پیدا کرسکتا ہے۔ژا نے کہا کہ افغان صورتحال میں ہموار منتقلی کو یقنی بنانے اور دہشت گردتنظیموں کے ممکنہ فائدہ کے سیکیورٹی خلا سے بچنے کے لئے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا ہونا چاہئے۔اس کے ساتھ بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں تعمیر نو کے عمل میں اپنی شرکت اور مدد جاری رکھنا چاہئے۔ترجمان نے کہا کہ چین طالبان اور دیگر تمام فریقین سے جلد از جلد بین الافغان مزاکرات شروع کرنے کے لئے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے اور افغنستان میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لئے قابل قبول سیاسی وسیکیورٹی انتظامات کے لئے مزاکرات کا مطالبہ کرتا ہے۔

طالبان اعلان

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد امریکا نے افغانستان سے اپنی فوجیوں کے انخلاء کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اپنے اعلیٰ کمانڈر کو فوج کو نکالنے کے احکامات دے دیئے ہیں۔پینٹا گون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے طالبان سے کیے گئے وعدوں کے بعد ہم نے اپنے اعلیٰ کمانڈرز کو احکامات دے دیئے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کی تیاریاں شروع کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ انخلا کی تیاری شروع ہوئی کہ نہیں لیکن ہمیں افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد دس روز کے اندر اندر اپنی فوج نکالنے کی تیاری شروع کرنا ہونگی۔مارک ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ کابل میں امریکی کمانڈر جنرل سکاٹ ملر کے پاس اختیار ہے کہ وہ موجودہ قریباً 13 ہزار امریکی فوجیوں سے تقریباً 8600 فوجیوں کا انخلاء کرے۔امریکی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ہم نیک نیتی کا مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں اور اپنی فوج کو واپس بلانا شروع کر دیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ افغانستان میں تشدد کا خاتمہ ہو گا، جس کے نتیجے میں طالبان سمیت افغان گروپوں کے مابین 10 مارچ تک امن مذاکرات کا آغاز ہو گا۔

امرکی انخلاء

مزید : صفحہ اول