مسلمانوں پر حملے، برمنگھم میں ہندوستانی قنصل خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

          مسلمانوں پر حملے، برمنگھم میں ہندوستانی قنصل خانے کے سامنے احتجاجی ...

  



برمنگھم(آئی این پی)نئی دہلی میں ہندو انتہاپسندوں کے مسلمانوں پر آئے روز حملوں کیخلاف برمنگھم میں ہندوستانی قونصل خانے کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرہ میں نیودہلی کے متاثرہ خاندانوں کے اہل خانہ کے علاوہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین نے بی جے پی حکومت کے شہریت ایکٹ اوراقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف امتیازی قوانین کی منظوری اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں انسانیت سوز مظالم کی انتہاہوچکی ہے، اس لیے پوری عالم انسانیت کو بھارتی حکومت کے فاشسٹ قوانین اور ظلم و جبر کیخلاف بھرپور آواز بلند کرنی چاہیے۔ مظاہرین نے ہندوستانی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں آر ایس ایس کے فاشسٹ نظریات نریندر مودی کی ظالمانہ روش اور حکومتی سطح پر سیکولرازم کی مخالفت پراحتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پورے ہندوستان میں تعصب کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ مظاہرین نے برطانوی حکومت اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان میں جاری وحشیانہ مظالم کے ظالمانہ سلسلے کو بند کرانے کیلئے مداخلت کریں اور بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ہونیوالی نسلی ناانصافی کے سدباب کیلئے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں، اس موقع پر مظاہرین نے کتبے اور بینزر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ہندوستان اور مقبوضہ کشمیرمیں مظالم بند کرو،خالصتان کو آزاد کرو اور اقلیتوں کے حقوق دو کے نعرے درج تھے۔

نئی دہلی(شِنہوا)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 50ہوگئی ہے۔پولیس عہدیداروں کے مطابق فسادات سے متاثرہ شمال مشرقی علاقے سے مزید 3 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے ایک لاش گو کالپوری نہر اور 2 لاشیں باگی راتھی ویہاڑ نہر سے برآمد ہوئی ہیں۔عہدیداروں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 50ہوگئی ہے، شہر میں پھوٹنے والے فسادات کے باعث 350 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ شہر کے حالات قابو میں ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں پولیس اور پیراملٹری فورس کی بڑی تعدادتعینات رہے گی۔شہر کے شمال مشرقی علاقے میں فسادات کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ فسادیوں نے گاڑیاں نذر آتش کردیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور سکولوں سمیت مختلف عمارتیں جلا ڈالیں۔بہت سے لوگ، خاص طور پر مسلمان متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرکے حکومت کی جانب سے قائم پناہ گاہوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔پولیس نے فسادات کی تحقیقات کرنے کیلئے 2 خاص ٹیمیں تشکیل دی ہیں، عہدیداروں کے مطابق فسادات سے تعلق کی بنا پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دہلی فسادات

مزید : صفحہ اول