پولیو کا خاتمہ

پولیو کا خاتمہ

  



جذبے، عزم اور جہدِ مسلسل ہی سے ممکن ہے

ناصرہ عتیق

کورونا وائرس نے دنیا بھر کی توجہ اس وقت اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ عالمی سطح پر اس مرض کی دہشت نے حکومتوں اور لوگوں کے ذہنوں میں خوف، وسوسے اور الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔ اس حوالے ے الزام تراشیوں کے کھیل اور سازشوں کے نکتہ ہائے نظر کی ایک دھیمی گونج فضا میں مرتعش ہے۔ بہرحال کورونا وائرس پوری دنیا میں جس طرح نمودار ہوا ہے، کہا جاتا ہے کہ اسی طرح یکدم یہ خود بخود معدوم بھی ہو جائے گا۔لیکن پولیو ایسا مرض ہے کہ اُس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک انسانی معاشرہ ایک جہد مسلسل کے ساتھ اسے ختم کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ پاکستان اس وقت تن دہی سے اس خطرناک مرض کے سدباب کے لئے پورے عزم کے ساتھ کوشاں ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے ابتدائی برسوں میں چند امراض نے خاصی ابتری پھیلائی تھی۔ وجوہات تھیں کم علمی اور جہالت، حفظانِ صحت کے اصولوں سے عدم توجہ، صحت و صفائی سے بے اعتنائی، آلودگی اور کثافت۔ شروع شروع میں تپ دق نے خوب زور پکڑا تھا پھر چیچک اور ملیریا نے اپنی دہشت قائم کی تھی۔ تاہم وقت کی تبدیلی، شعور کی پختگی اور وسائل کی دستیابی نے ان جان لیوا امراض پر قابو پانے میں بہت مدد کی۔ ان بیماریوں کے تدارک سے سکھ کا سانس ملا تھا کہ اب دو بیماریوں، ورمِ جگر اور پولیو نے ملک کے طول و عرض میں خوف کی ایک فضا قائم کر دی ہے۔ یاد رہے کہ برصغیر میں پولیو ایک مدت سے سوکھے کے مرض کی صورت میں موجود تھا۔

پوری دنیا میں پولیو کی بیخ کنی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صرف تین ملک ہیں جہاں پولیو قابو میں نہیں آ رہا۔ یہ ملک پاکستان، افغانستان اور نائیجریا ہیں۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق پاکستان میں پولیو کے مریض سامنے آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے 12بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز 1988ء میں ہوا۔ تب ہر سال ایک ہزار بچے اس موذی مرض کا شکار ہوتے تھے۔ مخیر افراد اور اداروں نے اس مرض کے خاتمے کے لئے دل کھول کر عطیات دیئے، چنانچہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے گھٹ کر 37پر آ گئی۔

پولیو سے بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن لازمی ہے۔ دوائی کے دو قطرے ہیں جو بچے کو اپاہج ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ ایک موذی مرض ہے جس سے بچاؤ ضروری ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس مرض کی بیخ کنی کے لئے اس لئے متحرک ہے کہ وہ خود اس مصیبت سے دوچار ہو چکا ہے۔

پولیو ہے کیا؟ آیئے اس کے بارے میں کچھ جانکاری حاصل کرتے ہیں۔

پولیو مائلائٹس (Poliomyelitis) یا پولیو انتہائی متعدی بیماری ہے جو عموماً بچوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ اس کا مرض تپ دق اور ہیضے کی طرح پھیلتا ہے۔ یہ اعصاب اور عضلات پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والا دائمی معذور ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کی ویکسین اب بآسانی دستیاب ہے۔ بچوں کو اس ویکسین کا کورس ضرور کرانا چاہیے اس لئے کہ اس کا موثر اور کوئی علاج نہیں۔ پولیو ویکسین کی دریافت انسان دوستی، محنت اورجہدِ مسلسل کی ایک چشم کشا داستان ہے۔ امریکہ اس مرض کے تدارک کے لئے دنیا بھر میں اس لئے فعال ہے کہ یہ ملک خود اس کے وبائی عذاب سے گزر چکا ہے۔

…………………………

جنگ عظیم کے بعد آنے والے برسوں میں ترقی یافتہ دنیا میں پولیو کا مرض بچوں کے سفاک قاتلوں میں سے ایک تھا۔ابتدائی اثرات میں یہ فلو کی مانند لگتا تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ جراثیم زدگی کے ساتھ۔ موسم گرما میں یہ زور پکڑتا تھا۔ ایک بار تو یہ اس طرح پھیلا کہ انفیکشن کے گزر جانے تک خاندانوں کو قرنطینہ میں رکھنا پڑا تھا۔1952ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس مرض کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ 58 ہزار لوگ اس چھوت کا شکار ہو گئے۔ تین ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہو گئی، جبکہ 21ہزار لوگ ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو گئے۔

اس مرض کے نتائج اتنے شدید تھے کہ اسے دور جدید کا طاعون قرار دیا گیا۔ کئی بار تو یہ اس طرح پھیلا کہ والدین نے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا اور انہیں عوامی اجتماعات سے دور رکھا۔

جوناس سالک (Jonas Salk) 28اکتوبر 1914ء کو ایک آئرش یہودی گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ شروع ہی سے وہ ایک محنتی اور ہونہار طالب علم تھا۔سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سٹی کالج نیویارک میں میڈیسن کی تعلیم پانے کی غرض سے داخل ہوا۔ اس نامور یونیورسٹی میں کوئی ٹیوشن فیس نہیں لی جاتی تھی۔ جوناس کے ساتھی طلباء نے اسے ایک سخت پڑھاکو قسم کا لڑکا پایا۔ جوناس نے میڈیسن کی تعلیم کے بعد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنے کی بجائے طبی تحقیق میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ وہ بنی نوع انسان کی وسیع پیمانے پر خدمت کا جذبہ رکھتا تھا، لہٰذا اس نے میڈیسن کے ساتھ ساتھ بائیو کیمسٹری اور بیکٹریالوجی کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔

یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جوناس کو انفلوانزا پر تحقیق کی پیشکش ہوئی تاہم اس نے یونیورسٹی آف پٹسبرگ سکول آف میڈیسن میں اپنی تجربہ گاہ قائم کر لی۔

مارچ 1948ء میں نومولود بچوں کے فالج کے قومی ادارے کے ڈائریکٹر ہیری ویور نے جوناس سے کہا کہ وہ پولیو کی وجوہات دریافت کرنے میں اس کی مدد کرےّ تب تک پولیو کے تین تناؤ دریافت ہوئے تھے، جبکہ مزید کی امید تھی۔ کام محنت طلب تھا لیکن جوناس کو اپنی تجربہ گاہ کے لئے وقت اور رقم کی ضرورت تھی اس لئے اس نے حامی بھر لی۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پولیو سے آگاہی کی ضرورت چونکہ زور پکڑ چکی تھی اس لئے اس پر تحقیقات کے لئے عطیات بلاتامل ملنے لگے۔1952ء میں جوناس پولیو ویکسین کے ابتدائی مراحل کے لئے تیار تھا۔ پہلے پہل اس نے جانوروں پر تجربات کئے اور بالآخر اس نے ان مفلوج بچوں پر دوا آزمائی جو ڈی ٹی واٹسن ہوم میں زیر علاج تھے۔ 1954ء میں ابتدائی نتائج کے بعد ویکسین وسیع سطح پر تجربے کے لئے تیار تھی۔ چنانچہ ایک پرزور تحقیقی مہم چلائی گئی جس میں 18لاکھ بچوں اور 20ہزار ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔ تجربات کے بعد نتائج کے حصول کے لئے جوناس نے جان توڑ محنت کی جس کے نتیجہ میں 12اپریل 1955ء کو ویکسین کامیاب قرار دے دی گئی۔ ڈاکٹر تھامس فرانسس کو جو جوناس کا سابق سپروائزر اور تحقیق کا نگران تھا، کامیابی کے اعلان کا اعزاز حاصل ہوا۔ پورے ملک میں خوشیاں منائی گئیں اور جوناس سالک قومی ہیرو بن گیا۔

جونہی ویکسین کی کامیابی کی اطلاع مشتہر ہوئی، رقوم کی صورت میں عطیات کی بھرمار شروع ہوگئی اور جلد ہی 90لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دے دی گئی۔ یورپ نے فوری مانگ کے لئے امریکہ سے رابطہ استوار کر لیا۔

بلاشبہ جوناس سالک کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ جس نے کروڑوں زندگیوں کو دائمی معذوری اور مفلوجی سے تحفظ بخشا اور اسے جدید طب کا ہیرو بنا دیا۔

دنیا بھر کے ممالک پولیو کے خاتمے کے لئے ہر اقدام بروئے کار لانے کے لئے تیار ہیں۔ ادھر ہم ہیں کہ انسداد پولیو کی مہم کو ایک بھیانک روپ دے دیا ہے۔ پولیو کے ضمن میں ہونے والا منفی پراپیگنڈہ ان تخریب پسند افراد اور اداروں کی اختراع ہے جن کے مفادات اس مہم کی ناکامی سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ دراصل ذہنی طور پر بیمار ہیں کہ اپنے بچوں کی معذوری پر اپنے شیطانی منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی قوم نے خود کو پولیو کے عذاب سے بچا لیا، اب ہم اس گرداب سے نکلنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔

قابلِ صد ستائش ہیں وہ لوگ بالخصوص خواتین جنہوں نے انسداد پولیو کی مہم میں اپنی جانیں کھپا دی ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم دو یا تین افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ شہروں میں ان کی کاوش قدرے آسان ہے لیکن دیہاتوں، میدانوں اور پہاڑی علاقوں میں انہیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جان کا خطرہ الگ رہتا ہے۔ مگر آفرین ہے قوم کی ان بیٹیوں پر جوا س مرض کی بدصورتی سے مکمل آگاہی رکھتی ہیں اور بچوں کو پولیو ویکسین کے دو قطرے پلانے کے لئے دور دراز کے ہمت شکن اسفارطے کرتی ہیں۔

خوشی کی بات ہے کہ ایک عالمی تنظیم روٹری انٹرنیشنل پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے سنجیدگی اور ذمہ داری سے کام کررہی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے وہاں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگوا رہی ہے اور ہمت بندھاتی رہتی ہے ان پولیو ورکروں کا جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض منصبی یکسوئی سے ادا کر رہے ہیں۔روٹری انٹرنیشنل ایک عالمی فلاحی تنظیم ہے۔ اس کے رہنما اور کارکن خلوص نیت سے انسانیت کی خدمت میں سرگرمِ عمل ہیں اور پولیو کے تدارک کے ضمن میں بالخصوص اپنی توانائیاں کھپا رہے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک خاتون پولیو ورکر انار دانہ میری نظروں میں روشنی کا مینار ہے۔ یہ جفاکش خاتون ہر روز ایک سو سے زائد گھروں کے کواڑ کھٹکھٹاتی اور ان کے مکینوں کو پولیو کے مرض سے آگاہ کرتے ہوئے بچوں کو قطرے پلاتی ہے۔ اناردانہ صبح پانچ بجے اٹھتی ہے اور نماز اور ناشے سے فارغ ہو کر ٹھیک ساڑھے سات بجے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ اسے خطرے کا احساس رہتا ہے، اس کے باوجود اپنے کام میں تندہی سے جُتی رہتی ہے۔ انار دانہ کا کہنا ہے۔

”معاوضہ اگرچہ مجھے تاخیر سے ملتا ہے اور یہ بھی کہ زندگی گزارنے کے لئے پیسہ اہم ہے لیکن اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کی اچھائی اور بہتری کی خاطر میں گھر میں بیٹھنے والی نہیں ہوں۔ پولیو کا خاتمہ میرا مشن ہے اور میں اپنے وطن کو اس موذی مرض سے پاک دیکھنا چاہتی ہوں“۔

اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کے عوام اناردانہ کے جذبے اور عزم سے سرشار ہوں اور پولیو کے خاتمے کے ضمن میں کی جانے والی احتیاطی تدابیر میں پورے یقین کے ساتھ حکومت کا ساتھ دیں تاکہ بچوں کو اس مرض سے نجات دلانے میں کامیاب ہوں جو انہیں اپاہج بنانے کے لئے اپنا سر پھر اٹھا رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1