اے سی سی اے کے زیراہتمام فیصل آباد کے مستقبل پر کانفرنس

      اے سی سی اے کے زیراہتمام فیصل آباد کے مستقبل پر کانفرنس

  



فیصل آباد(پ ر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) کے زیر اہتمام فیصل آباد میں ’پنجاب: پاکستان کا صنعتی اور ٹیلنٹ پاور ہاؤس‘ کے عنوان سے کثیر الفریقین کارپوریٹ نیٹ ورکنگ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مستقبل کے حوالے سے کاروباری اداروں کی تیاری پر بحث کی گئی تاکہ فیصل آباد کو عالمی مسابقت میں برقرار رکھا جا سکے اور اسے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نفع بخش بنایا جا سکے۔پاکستان میں صنعتی حب کے طور پر فیصل آباد تیکنکی انقلاب کے دہانے پر ہے اور یہاں موجود اِداروں کی مستقبل کے لیے تیار رہنے کی جس قدر ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں اہم فکری رہنماؤں اور پالیسی سازوں نے بحث میں حصہ لیا اور شمولیت، دیانت داری اور جدت کے سنہرے اْصولوں پر مبنی ترقی کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے چوتھے صنعتی انقلاب میں بطور خطہ برقرار رکھنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے مارکیٹ ہیڈ-بزنس ڈیویلپمنٹ اسد حمید خان نے کہا،’پیشہ ور اکاؤنٹنٹس کے عالمی ادارے کے طور پر اے سی سی اے ایک سپر کنیکٹر ہے جو اپنے ارکان، معیشتوں اور مجموعی طور پر معاشرے کے فائدے کے لیے اِس پیشے میں موجود روابط کاجائزہ لیتی ہے، سہولت فراہم کرتی ہے اور اُن میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرتی ہے۔اِس کانفرنس جیسی کانفرنسیں ہمیں اِس بات کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

کہ ہم مستقبل کے حوالے سے اپنی پیشہ ورانہ معلومات میں ایک دوسرے کو شریک کریں

اور اداروں کو آگے کی جانب سوچنے اور مستقبل کے لیے تیار رہنے میں مدد فراہم کریں۔‘

کانفرنس کے مہمان خصوصی سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کے چیئرپرسن، سینیٹر ولید اقبال تھے۔سینیٹر ولید اقبال نے فیصل آباد خطے کے مستقبل کے بارے میں ایک پرجوش تقریر کی اور اسے ’پاکستان کا مانچسٹر‘ کے طور پر برقرار رکھنے، عالمی اسٹیج پر پیش پیش رکھنے کے لیے کاروباری کمیونٹی کے کردار پر زور دیا اور اِس سلسلے میں سرکاری عزم کے بارے میں بتایا۔انہوں

نے پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز پر بھی زور دیا کہ وہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں اور شہر میں کاروبار کے لیے دستیاب آسانیوں میں اضافہ کریں۔

کانفرنس کے دوران مباحثوں کا مرکز جوموضوعات رہے اْن میں شمولیت کو یقینی بنانے کے علاوہ، پس منظر سے قطع نظر، ہر شخص کے لیے کارآمد معیشت کی تخلیق کے مواقع کو مساوی بنانا اور اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھتے ہوئے اعتماد کے بحرانی ماحول میں عالمی سطح پر کاروباری اداروں کے لیے اعتماد اور بھروسے کا قیام اور اپنے مینوفیکچرنگ کے شعبے کے

لیے مستقبل سے محفوظ اور حقیقی تبدیلی کی غرض سے جدت کی حوصلہ افزائی شامل تھے۔

کانفرنس میں اِس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ ہمارا مینوفیکچرنگ سیکٹر کس طرح جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کر سکتا ہے اور مستقبل کے لیے تیار ٹیلنٹ تیار کرسکتا ہے تاکہ عالمی سطح پر مسابقت میں کامیابی حاصل کر سکے۔اِس حوالے سے فیصل آباد ایوان تجارت و صنعت کے صدر، سکندر اعظم نے حاضرین کے سامنے اپنے خصوصی خیالات پیش کیے کہ ایوان کے

رُکن ادارے کس طرح اس تبدیلی میں رہنما کا کردار ادا کر ر ہے ہیں۔

کانفرنس سے اے سی سی اے کے ہیڈ آف بزنس ڈیویلپمنٹ-سینٹرل، محمد شاہد خان نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا،’فیصل آباد کا ہماری خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمایاں حصہ ہے اور اِس کا پیداواری شعبہ بڑے آجرین میں سے ایک ہے۔ اِس ضلع میں کام کرنے والے اداروں کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ اُن کی پائیداری کو یقینی

بنایا جائے اور روزگار کو مستقبل سے محفوظ رکھا جائے اور جب غیر معمولی ٹیکنالوجیز کے معاملہ ہو تو سب سے آگے رہا جائے۔‘

اِس کانفرنس نے مقامی کاروباری اداروں، فکری رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو بھی اس بات کا موقع فراہم کیا کہ وہ مل جل کر بیٹھیں اور ایک قابل عمل ایجنڈا تیار کریں تاکہ یہ خطہ اپنی حقیقی اقتصادی گنجائش سے فائدہ اٹھا سکے۔

ایونٹ میں شرکت کرنے والے دیگر رہنماؤں میں شرکت کی اْن میں انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پی) کے صدر، ضیاء المصطفیٰ، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے ریکٹر، ڈاکٹر تنویر حسین، صداقت لمٹیڈ کے ڈائریکٹر فنانس اینڈ پلاننگ، محمد اقبال غوری، اخوت فاؤنڈیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر، سید ریحان حسین، پتاما کیپٹل (Patamar Capital) کے سنگاپور ساؤتھ ایسٹ ایشیا انویسٹمنٹ لیڈ پارٹنر بیو سیل (Beau Seil)،دی میلینم یونیورسل کالج (ٹی ایم یو سی) کی سینئر مینیجر پروفیشنل کوالیفکیشنز اینڈ کیرئیر ڈیویلپمنٹ سینٹر، زُنیرہ ریاض، ماسٹر ٹائلز کے ہیڈ آف انٹرنل آڈٹ ارسلان انور، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف مینیجر فیصل آباد، سرفراز احمد

ندیم اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ڈپٹی کمشنر، الطاف حسین شامل تھے۔

کانفرنس کے انعقاد میں جن اداروں نے اے سی سی اے کو اعانت فراہم کی اْن میں اُخوت فاؤنڈیشن، برٹیش ہائی کمیشن کراچی، صداقت لمٹیڈ، خاص ہولڈنگ، لاہور گرامر اسکول،

ٹی ایم یو سی، SKANS اسکول آف اکاؤنٹنسی، ستارہ لیبلز، یونیورسٹی آف لنڈن، ایڈروئی اکاؤنٹنسی، OBOX اکاؤنٹنگ اور SOS سیکیورٹی شامل تھے۔

ایسو سی ایشن ا،سی نوعیت کی ایک اور کارپوریٹ نیٹ ورکنگ کانفرنس 13 مارچ، 2020ء کو ملتان میں بھی منعقد کرے گی۔

٭٭٭

For media enquiries, contact:

Rashid Khan

E: rashid.khan@accaglobal.com

Twitter @ACCANews @ACCA_PK

www.accaglobal.com

Syntax Communications

Faisal Mushtaq: 0321-2431568

Sheeraz Mohiuddin: 0333-2235774

About ACCA

ACCA (the Association of Chartered Certified Accountants) is the global body for professional accountants, offering business-relevant, first-choice qualifications to people of application, ability and ambition around the world who seek a rewarding career in accountancy, finance and management.

ACCA supports its 219,000 members and 527,000 students (including affiliates) in 179 countries, helping them to develop successful careers in accounting and business, with the skills required by employers. ACCA works through a network of 110 offices and centres and 7,571 Approved Employers worldwide, and 328 approved learning providers who provide high standards of learning and development.

Through its public interest remit, ACCA promotes appropriate regulation of accounting and conducts relevant research to ensure accountancy continues to grow in reputation and influence.

ACCA has introduced major innovations to its flagship qualification to ensure its members and future members continue to be the most valued, up to date and sought-after accountancy professionals globally.

Founded in 1904, ACCA has consistently held unique core values: opportunity, diversity, innovation, integrity and accountability. More information is here: www.accaglobal.com

مزید : کامرس