کورونا وائرس،مریضوں کی تعداد عالمی اعداد و شمارسے کم ہے،ایران

کورونا وائرس،مریضوں کی تعداد عالمی اعداد و شمارسے کم ہے،ایران

  



کراچی (خصوصی رپورٹ)چین میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے دوران ہی، اسلامی جمہوریہ ایران نے اس کے پھیلاؤ کی شدت کے پیش نظر یہ بھانپ لیا تھا کہ یقینا یہ وائرس ایران تک بھی پہنچ سکتا ہے. چنانچہ اس کے خلاف موثر منصوبہ بندی کی گئی اور ضروری تیاری کر لی گئی. تاہم اس بات کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ کچھ دوسرے ممالک کو وائرس کی موجودگی کا پہلے اعلان کرنے دیا جائے لیکن ایسا نہ ہوا. اسلامی جمہوریہ ایران نے پارلمانی انتخابات کے اہم ترین مرحلے کے باوجود، وائرس کے شکار پہلے کیس کیسامنے آتے ہی فوری طور میڈیا کے ذریعہ اسے عوام کی آگہی کیلئے شایع کیا، کیونکہ صحت عامہ اور عالمی ادارہ صحت کے قوائد و ضوابط جو کہ بین الاقوامی صحت کے ضامن تصور ہوتے ہیں ہمارے لیے سب سے مقدم اصول ہے۔ اس طرح کی پالیسی بروقت اطلاع نہ ہونے اور حاشیہ آرائی کے اثرات سے ایران اور دوسرے ممالک کو بچا سکتی ہے۔چین میں اس بیماری کے پھیلتے ہی ایرانی وزیر صحت نے 21 جنوری 2020 کو مختلف اداراتی دائرہ کارکی حامل 12 کمپنیوں پر مشتمل کرونا کے خلاف ایک بیس بنایا. اس وجہ سے روزانہ کی بنیاد منظم اجلاس وزارت صحت میں منعقد کیے گیے جس میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی تازہ ترین صورتحال پر غور ہوا اور ہر روز دوپھر ایک بجے اس کی اطلاع عام کی گئی. ایران میں مبتلا ہونیوالوں کی تعداد عالمی اعداد و شمار کے مقابلے میں محدود ہے. وائرس کی تشخیص، علاج اور عوامی آگاہی کا عمل روزانہ کی بنیاد پر فوری اور باریک بینی سے انجام دیا جاتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی صحت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کے پیش نظر، جس میں رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی وبائی بیماری کے پھیلنے سے عالمی صحت کو لاحق خطرات پر ضروری اطلاعات کو شفاف طریقے سے دوسرے ممالک کو بہم پہنچائیں، ضروری اقدامات اٹھائے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر دوسرے ممالک خصوصا ہمسایہ ممالک سے بجا طور پر توقع رکھتا ہے کہ مذکورہ ذمہ داریوں کے پابند رہتے ہوئے متناسب اقدامات کے اصول اور تجارت اور رفت و آمد پر غیر ضروری اثرات سے بچاؤ کو ملحوظ رکھیں تا کہ بین الاقوامی قوانین کے عام اور قابل عمل بنانے میں مددگار ہوں،ایران نے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین اور ذمہ دار حکام کو ایران میں موجود میڈیکل، صحت اور علاج معالجہ کے وسائل اور توانائیوں کا جائزہ لینے کی دعوت دی ہے تا کہ ضروری مشوروں کے ساتھ ساتھ اس وائرس کی روک تھام کے دوسرے ممالک کے تجربات کا ایران کیساتھ تبادلہ کریں تا کہ اس طرح یہ اطمینان حاصل ہو کہ عالمی ادارہ صحت کے اسٹینڈرڈز ایران میں مکمل طور پر نافذ العمل ہیں. اس کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران دوسرے ممالک کی وزارت صحت کے ماہرین اور حکام کو اپنے ملک آنے کی دعوت دیتی ہے تاکہ ضرورت محسوس کرنے پر ایران میں میڈیکل، صحت اور علاج معالجہ کے وسائل اور توانائیوں کا مشاہدہ کر کے ضروری اطمینان حاصل کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ واضح اعلان ہے کہ کسی بھی طرح کے بین الاقوامی تعاون کیلئے تیار ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر