کورونا وائرس سے متعلق کونسی سنسنی پھیلائی جارہی ہے؟، جسٹس محمد علی مظہر

کورونا وائرس سے متعلق کونسی سنسنی پھیلائی جارہی ہے؟، جسٹس محمد علی مظہر

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاو اور ماسک کی قلت کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق کونسی سنسنی پھیلائی جارہی ہے؟سندھ ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سیکورونا وائرس کے پھیلاو اور ملک میں ماسک کی قلت کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی، اس دوران سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سندھ حکومت، وفاقی حکومت، وزارت صحت، پیمرا اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 مارچ کو فریقین کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔درخواست گزار کا اپنے موقف میں کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے نام پر سنسنی پھیلائی جارہی ہے، افراتفری کے ماحول میں ماسک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔جس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میڈیا کیسے خبریں نشر نہیں کرسکتا؟ میڈیا یہی تو بتا رہا ہے کہ کورونا وائرس کس ملک میں کتنا پھیل چکا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ کورونا وائرس سے متعلق کونسی سنسنی پھیلائی جارہی ہے؟ بس یہی تو بتایا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کتنا خطرناک ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماسک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ماتحت نہیں آتا، حکومت خود قلت پر قابو پاسکتی ہے، میڈیا کو خبریں نشر کرنے سے کیسے منع کرسکتے ہیں۔عدالت کا ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ میڈیا وہی رپورٹ کررہا ہے جو ہو رہا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر