خیبر پختونخوا، حکومت، اپوزیشن کے مذاکرات ناکام، اسمبلی میں ایک بار پھر احتجاج

  خیبر پختونخوا، حکومت، اپوزیشن کے مذاکرات ناکام، اسمبلی میں ایک بار پھر ...

  



پشاور(این این آئی)حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی ناکامی کے باعث خیبرپختونخوااسمبلی میں ایک بار پھرحزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے ہتھوڑوں اور پتھروں سے ڈیسک بجائے،شدیدہنگامہ آرائی کے دوران ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہوگیا سپیکر نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ایوان کی کارروائی جاری رکھی۔پیر کے روز ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے صوبائی اسمبلی کااجلاس سپیکرمشتاق غنی کی زیرصدارت شروع ہوا تو تلاوت کے ختم ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے حکومت کیخلاف نعرہ بازی شروع کی متعدداراکین صوبائی اسمبلی اپنے ساتھ ہتھوڑے اورپتھرلیکرآئے تھے احتجاج کے دوران ہتھوڑے اور پتھرنکال کر ڈیسک بجائے گئے شدیداحتجاج کوجاری رکھتے ہوئے اپوزیشن کے بعض اراکین نے سیٹیاں بھی بجائیں لیکن سپیکر صوبائی اسمبلی نے کارروائی کوجاری رکھا عوامی نیشنل پارٹی کے نثارخان،شگفتہ ملک اوربہادرخان،پی پی کی نگہت اورکزئی،ایم ایم اے کی حمیراخاتون صوبائی اسمبلی میں موجودڈیسک کو ہتھوڑے مارتے رہے نگہت اورکزئی اورشگفتہ ملک نے ایک قدم آگے بڑھ کر سیٹیاں بھی بجائیں اس دوران لیڈیزپولیس اہلکار طلب کی گئی جنہوں نے خواتین اراکین سے ہتھوڑے اور سیٹیاں لینے کی کوشش کی تاہم پی پی کی رکن نگہت اورکزئی ڈھال بن کر سامنے کھڑی ہوگئی۔شدیداحتجاج کے دوران صوبائی اسمبلی میں پانی سے متعلق بل بھی ایوان میں پیش کیاگیاجس کے بعد سپیکر صوبائی اسمبلی نے اجلاس کو سولہ مارچ تک کیلئے ملتوی کردیا قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کیلئے ایک مرتبہ پھررابطہ ہوا صوبائی وزیرقانون سلطان محمد نے اپوزیشن لیڈراکرم درانی سے رابطہ کیاکہ حکومتی وفدان سے ملناچاہتاہے تاہم اکرم درانی نے ان کی ملاقات کوقبول کرنے کی بجائے جماعت اسلامی کے عنایت اللہ اور اے این پی کے سرداربابک کوان کے پا س بھیجا اپوزیشن نے مطالبہ کیاکہ وعدے کے مطابق ان کے حلقوں کو 35فیصدترقیاتی فنڈجاری کیاجائے لیکن حکومتی ارکان نے واضح کیاکہ اپوزیشن کے اراکین کو صرف ساڑھے تین کروڑدئیے جاسکتے ہیں جس پر اپوزیشن راضی نہیں۔

مزید : صفحہ آخر