کامران کیانی بھگوڑا، کیا ملزم کو پہلے سرنڈر نہیں کرنا چاہیے؟ ہائیکورٹ

کامران کیانی بھگوڑا، کیا ملزم کو پہلے سرنڈر نہیں کرنا چاہیے؟ ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کے امریکہ میں مقیم بھائی کامران کیانی کی ڈی ایچ اے سٹی اورآشیانہ اقبال ریفرنسز کیخلاف دائر درخواستوں پررجسٹرار آفس کا اعتراض برقراررکھتے ہوئے یہ درخواستیں خارج کردیں۔درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ ان ریفرنسز میں سے درخواست گزار کا بطور ملزم نام شامل کرنے سے متعلق نیب کا اقدام کالعدم کیا جائے،مسٹر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ یہ شخص 5 سال سے بھگوڑا ہے، کیا ملزم کو پہلے سرنڈر نہیں کرنا چاہیے؟فاضل بنچ نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ کامران کیانی سے کہیں کہ وہ خود پاکستان آکر درخواست دائر کریں، بطور پاکستانی شہری کامران کیانی کو اپنا وکالت نامہ وزارت خارجہ سے تصدق کروا کر درخواست کے ساتھ لگانا چاہئے تھا،وزارت خارجہ سے بغیر تصدیق ذاتی بیان کی بنیاد پر ریفرنس خارج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور نہیں کی جا سکتی،بیرون ملک مقیم کسی پاکستانی شہری کی وہاں کے نوٹری پبلک سے مصدقہ دستاویزات شواہد کے طور پر کیس کا حصہ توبنائی جا سکتی ہیں لیکن ان کی بنیاد پر درخواست دائر نہیں کی جاسکتی جب تک کہ متعلقہ سفارت خانہ نے ان کی تصدیق نہ کی ہو،بیرون ملک مقیم کامران کیانی کی درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض کیا تھا کہ یہ درخواستیں،وکالت نامے اور متعلقہ دستاویزات سفارت خانہ سے تصدیق شدہ نہیں ہیں،فاضل بنچ نے ان درخواستوں کی اعتراض کیس کے طور پر سماعت کی،کامران کیانی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جائیداد سے متعلق معاملے میں مختار نامہ اور دیگر دستاویزات کی تصدیق وزارت خارجہ سے کروانا لازم ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت ذاتی بیان اور وکالت نامہ نوٹری پبلک سے رجسٹرڈ کروا کر عدالت سے رجوع کیا سکتا ہے، رجسٹرار آفس نے وکالت نامے کے بیان حلفی کے وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ نہ ہونے کا اعتراض لگایا ہے،یہ اعتراض بلاجواز ہے،نوٹری پبلک سے مصدقہ دستاویز بھی وزارت خارجہ سے مصدقہ ہونے کے برابر حیثیت رکھتی ہیں،درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کی کمپنی کو آشیانہ اقبال کا ٹھیکہ نہیں دیا گیا تھا، نیب نے آشیانہ اقبال کا ٹھیکہ لینے کی مد میں 55 ملین روپے فواد حسن فواد کو دینے کابے بنیاد الزام لگایا ہے،درخواست گزار نے فواد حسن فواد کے بھائی وقار حسن کے راولپنڈی دی مال پلازہ میں 30 کروڑ 74 لاکھ 33 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی تھی، درخواست گزار کی کمپنی پرسابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی پسندیدہ کمپنی ہونے الزام بھی بے بنیاد ہے، آشیانہ اقبال سکینڈل کے ضمنی میں نیب کی جانب سے درخواست گزار کی نامزدگی کالعدم قرار دی جائے،ڈی ایچ اے فراڈ کیس کے حوالے سے درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار امریکی شہریت کیلئے خاندان سمیت8 مئی 2015ء سے پاکستان سے باہر ہیں،پاکستان سے امریکہ جانے کے بعد نیب نے 12 نومبر 2015ء کو درخواست گزار کے خلاف ڈی ایچ اے سٹی انکوائری شروع کر دی، احتساب عدالت میں ڈی ایچ اے سٹی کے دائر کئے گئے ریفرنس میں ملزموں کے خلاف کارروائی کر کے سزا دینے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، چیئرمین نیب کو کسی بھی ملزم کے خلاف سزا دینے کے الفاظ استعمال کرنے کا اختیار نہیں،یہ صرف عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزا دے، ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس میں کامران کیانی کو بدنیتی اور جھوٹ کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے، نیب نے درخواست پرڈی ایچ اے سٹی کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی گلوبیکو کمپنی کے 90 فیصد شیئر رکھنے کا الزام لگایا ہے، آئین پاکستان اور قوانین کے تحت کسی کمپنی کا شیئر ہولڈر ہونا کوئی جرم نہیں،گلوبیکو کمپنی کے تمام شیئرز ملزم حماد ارشد کو فروخت کر دیئے تھے، گلوبیکو کمپنی کے شیئرز فروخت کرنے کی مد میں حماد ارشد سے 120 پلاٹ خریدے، درخواست گزار کے خلاف احتساب عدالت میں دائر کیا گیا ریفرنس آئین کے آرٹیکل 4، 10(اے)، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، نیب کا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے دائر کئے گئے ریفرنس کو کالعدم کیا جائے۔

ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر