فروری‘ ریسکیوٹیمیں ان ایکشن‘ 6ہزار سے زائد لوگوں کو ایمرجنسی سروسز فراہم ماہانہ میٹنگ میں کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

فروری‘ ریسکیوٹیمیں ان ایکشن‘ 6ہزار سے زائد لوگوں کو ایمرجنسی سروسز فراہم ...

  



ملتان ( سپیشل رپورٹر  ) ریسکیو ملتان نے ماہ فروری میں کارکردگی کے حوالے سے اعداد وشمار جاری کردیے ہیں۔ جس کے مطابق ریسکیو ملتان نے مجموعی طور پر چھ ہزار (بقیہ نمبر27صفحہ12پر)

چھ سو (52) لوگوں کو ایمرجنسیز سروس مہیا کیں ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملتان ڈاکٹر ناطق حیات غلزئی نے ماہ فروری2020 کی ماہانہ میٹنگ میں ریسکیو 1122 کی آپریشنل اور پیشہ وارنہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122ملتان کا اوسطاً ریسپانس ٹائم7 منٹ سے کم رہا ہے۔ ماہ فروری میں 2280 ٹریفک حادثات‘68آگ لگنے کے واقعات‘ 173 لڑائی جھگڑے (کرائم)کی (ایمرجنسیز) دو ڈوب جانے کی ایمرجنسی, چار عمارت منہدم ہونے‘ اور3601 میڈیکل ایمرجنسیز جن میں دل کا دورہ‘ سانس کے مریض‘گانئی وغیرہ کے مریض شامل ہیں کو ریلیف فراہم کیا۔تینں ہزار سے زائد متاثرین کو ہسپتال میں منتقل کیا۔اور دو ہزار نو سو (52) کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دے کرفارغ کیا۔جبکہ تمام مختلف ایمرجنسیز میں 198 متاثرین جانبر نہ ہوسکے اورموقع پرہلاک پائے گئے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات غلزئی نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح شہریوں کو ایمرجنسی کی صورت میں بروقت ریسکیو سروسز مہیا کرنا ہے اورجس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کال پر بروقت ریسپانس کریں اور شہریوں کو ریلیف فراہم کریں۔ دوسراانہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے۔مزید برآں ماہ فروری میں (88) ہزار پانچ سو چھیانوے کالز موصول ہوئیں۔ جن میں صرف چھ ہزار چھ سو باون ایمر جنسی کالز تھیں اس لیے تمام شہری ذمہ داری کا ثبوت دیں اور صرف ایمر جنسی کی صورت میں ہی 1122ڈائل کریں اور غیرضروری طور پراس یمر جنسی نمبرمصروف نہ کریں مزید شہریوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ایمرجنسی نمبر 1122 کے غلط استعمال پر 6 ماہ قید اور 50ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ریسکیو کو کمیونٹی میں آگاہی مہم کے مثبت نتائج مرتب ہور ہے ہیں مختلف ایمرجنسیزمیں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ زیادہ تر حادثات لوگوں کی غفلت، لاپرواہی اور لاعلمی کے باعث رونما ہورہے ہیں جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کواپناتے ہوئے مختلف ایمرجنسیوں میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے جن میں روڈ ٹریفک حادثات،میڈیکل اوآگ لگنے کے حادثات کی ایمرجنسیز شامل ہیں۔ ریسکیو1122کی دن رات آگاہی مہم کے ذریعے ایمرجنسیز کو کنٹرول اور کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ریسکیو 1122 کی کمیونٹی سیفٹی ٹیمیں جو ریسکیورز پر مشتمل ہیں وہ ریسکیو سکاؤٹس کے ساتھ مل کر لوگوں میں حفاظتی تدابیر کے حوالے سے آگاہی دے رہی ہیں لیکن کوئی ایک فرد یا آرگنائزیشن معاشرے میں اکیلے تبدیلی نہیں لا سکتی اس کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا۔ جب تک ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنی سوچوں اور رویوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے ہم ان حادثات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ اگر ہم مہذب ملکوں اور قوموں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں حادثات اور بیماریوں سے پاک محفوظ معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہوگا۔انہو ں نے ریسکیو ر کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ اپنی گاڑیو ں اور آلات کو آپریشنل حالت میں رکھیں اور مریضوں کے ساتھ حْسن اخلاق سے پیش آئیں۔ دیگر شرکا ء میں ڈاکٹر کلیم اللہ،ایمرجنسی آفیسرانجینئراحمد کما ل، کنٹرول روم انچارج مدثر ضیاء، ریسکیو اینڈسیفٹی آفیسرز محمد ارشد خان،محمد آفتاب، سینئراکاونٹنٹ نذیر احمد شامل تھے۔

جائزہ

مزید : ملتان صفحہ آخر