کالے یرقان کا حملہ‘ رحیم یار خان‘ وہاڑی میں 9افراد جاں بحق

      کالے یرقان کا حملہ‘ رحیم یار خان‘ وہاڑی میں 9افراد جاں بحق

  



رحیم یار خان‘ پکھی موڑ (بیورو رپورٹ‘ نامہ نگار) خاموش قاتل کے وار جاری ہیں جبکہ کالے یرقان میں مبتلا 4خواتین سمیت 7افراد دم توڑ گئے ہیں ظاہر پیر کی رہائشی 40سالہ ثمینہ بی بی‘ چنی گوٹھ کی 50سالہ رمضان بی بی‘ صادق آباد کی 62سالہ عائشہ بی بی‘ خانپور کی 55 سالہ وزیراں بی بی‘ کوٹ کرم خان کی 75سالہ بشیراں بی بی‘ راجن پور کا 62سالہ سجاد علی اور (بقیہ نمبر38صفحہ12پر)

جمالدین والی کا رہائشی 65سالہ محمدنو از کو کالے یرقان میں مبتلا ہونے پر ورثاء نے شیخ زاید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود تمام افراد جانبر نہ ہوپائے اور دم توڑ گئے۔ وہاڑی کے نواحی گاؤں چک 561 ای بی میں چار دنوں کے دوران دوافراد کالایرقان کی بیماری کے باعث لقمہ اجل بن گئے تفصیل کے مطابق چک نمبر 561 ای بی کی تقریبا 80 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے گاؤں میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ موجود ہے مگر اتائیت کے باعث گاؤں کی آبادی ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہو رہی ہے گزشتہ چار دنوں کے دوران دوافراد جن میں عبدالمجید رحمانی اور سیٹھ منیر احمد بھٹی جو کہ کالایرکان جیسی موذی مرض میں مبتلا ہوکر خالق حقیقی سے جا ملے جو کہ محکمہ صحت وہاڑی کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہاڑی کے سینئر صحافیوں کی میڈیا ٹیم جس کی قیادت مختار احمد بھٹی کر رہے تھے گاؤں میں آکر اپنے ساتھ لائے گئے میڈیکل ٹیکنیشنز نے تقریبا دس افراد کے ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کیے جن میں نو افراد ہیپاٹائٹس کا شکار نکلے حالانکہ یہشرے اس سے قبل دس افراد میں سے سات افراد کی تھی میڈیا ٹیم کے بار بار اصرار کے باوجود اہل دیہہ ان کا نام لینے سے گریزاں رہے مگر محکمہ صحت ان عطائیوں کے کلینک سیل کرنے کے باوجود مبینہ طور پر ان کے ساتھ ملی بھگت کر کے ایک دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور ان چور دروازوں کے ذریعیاتائی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں سیل کیے گے کلینک میں غیر قانونی کیے جانے والی پریکٹس کی مووی ڈپٹی ڈی ایچ او جواد قریشی کو بھیجی گئی تو اس نے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے مبینہ طور پر اس کو ناصرف مووی سینڈ کر دی بلکہ مبینہ طور پر مووی سینڈ کرنے والے صحافی کا نام اور ایڈریس دے کر مطلقہ صحافی کو خاموش کرانے کی ہدایت کی۔

حملہ

مزید : ملتان صفحہ آخر