یونانی پولیس کی پناہ گزینوں کے ساتھ جھڑپیں،آنسو گیس کا استعمال

یونانی پولیس کی پناہ گزینوں کے ساتھ جھڑپیں،آنسو گیس کا استعمال

  



استنبول(شِنہوا)یونان کی پولیس نے ترکی کے ساتھ اپنی سرحد کے گیٹ پر یورپ میں داخلے کے منتظر غیر قانونی تارکین پر آنسو گیس پھینکی،ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آبی توپوں کا استعمال کیا،یہ بات عینی شاہدین نے بتائی۔یونانی حکام کی جانب سے ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے باعث ترکی کے شمال مغربی صوبے ایدرنے میں سرحد پر ہزارووں پناہ گزین پھنس گئے ہیں۔سرکاری ایجنسی اناطولیہ کا کہنا ہے کہ یونانی پولیس نے اضافی خاردار تاروں اور مزید فوجی دستوں کی تعیناتی کے ساتھ پزارکولا سرحدی گیٹ پرسیکیورٹی اقدامات میں اضافہ کردیا ہے۔ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے اتوار کی شب اعلان کیاہے کہ اب تک 1 لاکھ سے زائد پناہ گزین ایدر نے سے یونان میں داخل ہو گئے ہیں۔مقامی نمائندگان کے مطابق زیادہ تر پناہ گزین یونان میں داخل ہونے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان بہنے والے دریائے ایوروس کو استعمال کررہے ہیں۔ترکی نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک فضائی حملے میں کم سے کم اپنے 33 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد گزشتہ ہفتے غیر قانونی پناہ گزینوں کے لئے اپنے سرحدی دروازے کھولنے کا فیصلہ کیاتھا۔ادلب میں شامی افواج کی بمباری سے فرار ہونے والے تقریباً 15 لاکھ شامی پناہ گزین شام کے ساتھ ترک سرحد پر جمع ہوگئے ہیں۔ترک حکومت اس سے پہلے متعدد بار اعلان کرچکی ہے کہ وہ پناہ گزیوں کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرے گی کیونکہ پہلے ہی ملک میں 37 لاکھ شامی باشندے پناہ لئے ہوئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر