تبدیلی مگر کیسی ؟

تبدیلی مگر کیسی ؟
 تبدیلی مگر کیسی ؟

  



چارسو تبدیلی کی خواہش جاری ہے جسے بھی دیکھیں یہی کہہ رہا ہے کہ تبدیلی آگئی ہے لکھنے والے بھی یہی تحریر کرتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کیا آئی ہے ؟ چہروں کی تبدیلی ،ایک پارٹی کی جگہ دوسری پارٹی کی حکومت یا جزوی طور پر تیسری پارٹی کی شمولت اور ایک صوبے میں حکمرانی سے تبدیلی آگئی؟ نہیں بھئی ! تبدیلی یہ نہیں ہوتی تبدیلی تب آتی ہے جب جاگیردرانہ سرمایہ درانہ اور فرسودہ نظام کا خاتمہ ہو ، رشوت ستانی ،کرپشن لوٹ مار کی جگہ حقیقی اہلیت لے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق میسر ہوں امیرِ شہر کا دروازہ سب کےلیے کھلا ہو ، قول و فعل میں تضاد نہ ہو ، اقتدار سے پہلے اور بعدمیں سوچ ، رویہ اور اقدامات یکساں ہوں ۔اور ہاں ! تبدیلی تب آئے گی جب ملک کا نوجوان مایوس ہو کر خودکُشی پر مجبور نہیں ہوگا بلکہ اسے بہتر روزگار ملے گا امیر غریب سب کو صحت کی برابر سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔

ملک کے اندر قائم طبقاتی تقسیم ختم ہوگی لاقانونیت کا خاتمہ ہوگا اور شہریوں کو امن و امان میسر آئے گا ۔تھانہ کلچر تبدیل ہوگا عدالتوں سے انصاف بلکہ ہر وقت انصاف ملےگا اور ریاستی ادارے من مانی نہیں کریں گے ۔تبدیلی کے خواہاں ہم سب ہیں پاکستان جن حالات سے گزررہا ہے چند بیانات اور چند سطحی اقدامات سے تبدیلی آنے والی نہیں ۔قوم کا مسلہ صرف یہی نہیں جہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں ایک یا دو گھنٹے کمی کردی جائے یہ تو ایک ضرورت ہے مگر اصل ضرورت تو ملک میں ایسی بنیادی تبدیلیوں کی ہے جن سے آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو ادارے مضبوط ہوں بنیادی حقوق کی یکساں فراہمی ہو ۔سب سے اہم بات مگر یہ ہے کہ وطن عزیز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور خود مختار بنایاجایا ۔

ہماری سالمیت اور بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنی خود مختاری کو نمایاں اور اجاگر کریں اب جبکہ ملک میں اقتدارِنو کے تمام مراحل مکمل ہوئے  کافی عرصہ گزرچکا ہے نو منتخب وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے کابینہ کی تشکیل سمیت اپنی ترجیحات بھی متعین کرلی ہیں وہ میرٹ کا بول بالا چاہتے ہیں عوامی مسائل حل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں کہتے ہیں کہ مسائل کا چیلنج قبول کرتا ہوں مگر خیالی جنت نہیں دکھائوں گا ۔ہم نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کےلیے جامع منصوبہ بنالیا ہے ساتھ ہی اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا ۔

تحریک انصاف کی حکومت میں کسی کو کرپشن کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بدعنوانوں کا سخت محاسبہ کیا جائے گا اور تمام اہم ملکی اداروں کے سربراہان کا تقرر میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہوگا اہم ملکی اور بین الاقوامی اخبارات میں اشتہارات دے کر باصلاحیت پاکستانیوں کو کہیں گے کہ کہ انکا وطن انکو بلارہا ہے محترم وزیراعظم صاحب کی تقریریں انکی ترجیہات کی عکاس ہوتی ہیں انکی نیک نیتی پر قطعاً کوئی شک نہیں نہیں مگر اقتدار اختیار اور کابینہ کی مختلف سوچ رکھنے والے افراد بہرحال انسان کی نفسیات پر وقتاً فوقتاً اثرانداز ہونے لگتے ہیں وزیراعظم صاحب ملک کی تقدیر سنوارنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ خود وژنری قائد اور تبدیلی کی علامت ہیں اسلیے حقیقی تبدیلی بھی وہی لاسکتے ہیں ۔

اس بات سے قطع نظر ملک کے حالات حقیقی تبدیلی کے متقاضی ہیں تبدیلی اصولوں کو رائج کرنے کانام ہے موقع پرستی کا نہیں ۔سیاسی پارٹیاں اگر اپنے انتخابی منشوروں پر ایک نظر ڈالیں تو انہیں خود ندامت ہوگی ایسے میں تبدیلی کی خواہش کسی دیوانے کا خواب ہی لگے گی مگر خواہش پر پابندی تو نہیں ہے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ