مسلمانوں کیخلاف منظم تشددپرایران اور بھارت میں کشیدگی،پاکستان کا موقف بھی آگیا

مسلمانوں کیخلاف منظم تشددپرایران اور بھارت میں کشیدگی،پاکستان کا موقف بھی ...
 مسلمانوں کیخلاف منظم تشددپرایران اور بھارت میں کشیدگی،پاکستان کا موقف بھی آگیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی وزیرخارجہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کیخلاف منظم تشددکی مذمت پرپاکستان بھی میدان میں آگیا۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ’ایران کے وزیرخارجہ کی بھارتی غنڈہ گردی کی مذمت خوش آئند ہے۔مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ تشدد نے دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ کوئی مہذب معاشرہ یا ملک ظلم وستم کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ آگے بڑھنے کا راستہ پرامن ڈائیلاگ اور قانون کی حکمرانی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مزید کہا کہ ”جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یک طرفہ اقدام، وادی میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، بھارت میں اقلیتوں پر جبرواستبداد سے لیکر دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام تک مودی کاہر فسطائی عمل تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر لکھا جائے گا“۔

انہوں نے کہا’مغربی دنیا کے علاوہ مسلمان ممالک کی جانب سے بے گناہوں کے قتل عام پر بھارتی جنونی حکومت کے خلاف متفقہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے آج کے ہٹلر کا ہاتھ روکنا ہوگا“۔

فردوس کے مطابق ’اقلیتوں خاص طور پر نہتے، بے گناہ عام مسلمان شہریوں کی نسل کشی کے خلاف آر ایس ایس کی پروردہ ہندتوا بھارتی حکومت کی مذمت میں دنیا ایک آواز ہوچکی ہے۔ ترکی کے بعد ایران کا بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام رکوانے کے مطالبہ سے مظلوموں کو حوصلہ ملا ہے‘۔

یاد رہے ایرانی وزیرخارجہ کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ”ایران بھارت میں مسلمانوںکیخلاف منظم تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے۔ایران بھارت کا کئی صدیوں سے دوست ہے ۔ ہم بھارتی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تمام بھارتی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اور ملک میں قوانین کی عملداری یقینی بناتے ہوئے معاملات کو مذاکرات اور قوانین کے مطابق حل طے کریں‘۔

ایرانی وزیرخارجہ کی جانب سے اس ٹویٹ پر بھارت جل بھن گیاتھا اور ایرانی سفیر کو طلب کرلیاتھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی