سینیٹ الیکشن!

سینیٹ الیکشن!
سینیٹ الیکشن!

  

آج پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے الیکشن  ہو رہے ہیں، تین صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے اراکین مل کر 37سینیٹروں کا انتخاب کریں گے۔ پنجاب میں تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ایوان بالا کے اراکین کی تعداد ان انتخابات کے بعد سو ہو جائے گی۔اس سے قبل ایوان بالا کے اراکین کی کل تعداد 104 تھی لیکن فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد سینیٹ میں آٹھ نشستیں کم ہو گئی ہیں اور فاٹا کے چار اراکین ریٹائر ہو گئے ہیں۔ تین سال بعد فاٹا کے باقی ماندہ چار اراکین بھی ریٹائر ہو جائیں گے اس کے بعد سینیٹ میں ممبران کی کل تعداد 96 رہ جائے گی جو اس ایوان کے قیام کے بعد پہلی بار ہو گا کہ اس کے اراکین کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔ سینیٹ کے رکن کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد آدھے ارکان ریٹائر ہوجاتے ہیں اور آدھے ارکان نئے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری اور ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی خواہش تھی سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ پر ہو جس کیلئے حکومت سپریم کورٹ بھی گئی لیکن  سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی کرانے کا فیصلہ جاری کیا گیا  اور پاکستان کا آئین بھی یہی کہتا ہے کہ سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا۔سینیٹ کے اراکین کیلئے صوبائی اسمبلیاں الیکٹورل کالج ہیں۔

 اسلام آباد کے دوسینیٹرز کا انتخاب پوری قومی اسمبلی کے ارکان کریں گے۔ پنجاب سے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر مسلسل پانچویں بار سینٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں جو ایک اعزاز کی بات ہے۔ پروفیسر ساجد میر کا سینیٹر منتخب ہونا مذہبی حلقوں کیلئے خوشی کی بات ہے کہ ایک ایسی توانا آواز پاکستان کے ایوان بالا میں موجود ہے جو نہ صرف ختم نبوت کے محافظ ہیں بلکہ ایک ایماندار قائد  ہیں، پچھلے تیس سالوں میں مسلسل سینیٹر منتخب ہونے کے باوجود جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ اپنے پرائے سب ان کی ایمانداری کے معترف ہیں۔ نوازشریف تین بار وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے اور پروفیسر ساجد میر کی رائے کو وہ بڑی اہمیت دیتے رہے اور اب بھی دیتے ہیں۔پروفیسر صاحب نے نواز شریف سے ذاتی نیاز مندی اور قربت کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کبھی کسی ناجائز کام کیلئے کسی کی سفارش کی جس کی وجہ سے میاں نوازشریف ہر بار سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر پرپروفیسر صاحب کو سینیٹر بننے کیلئے کہتے ہیں پروفیسر صاحب نے کبھی خود سے  ٹکٹ کی درخواست نہیں دی۔ پروفیسر ساجد میر کا تعلق سیالکوٹ کے ایک علمی گھرانے سے ہے اورا ن کے بزرگ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نہ صرف معروف عالم دین تھے بلکہ قیام پاکستان کی تحریک میں بھی انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ والدین کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ پروفیسر ساجد میر نے بھی دنیاوی اور دینی دونوں علوم میں مہارت حاصل کی۔پروفیسر صاحب انگلش لٹریچر میں ماسٹر ڈگری کے حامل ہیں  اور اس کے علاوہ دینی علوم پر بھی ان کی دسترس سے پوری دنیا واقف ہے۔  علامہ احسان الہی ظہیر کی شہادت کے بعد پروفیسر ساجد میر نے مرکزی جمعیت اہلحدیث کی بھاگ ڈور سنبھالی اور گزشتہ 27 برس سے وہ جماعت کے امیر منتخب ہوتے آ رہے ہیں جو اس بات کا مظہر ہے کہ جمعیت اہلحدیث کے کارکنان اور ذمہ داران ان کی شخصیت پر اعتماد کرتے ہیں اور پروفیسر صاحب نے بھی عام کارکنان اور ذمہ داران کے اس اعتماد کو ہمیشہ عزت بخشی ہے۔ پروفیسر ساجد میر جیسی شخصیات کا سینیٹر منتخب ہونا ایوان بالا کیلئے بھی ایک اعزاز ہے۔ ساجد میر جیسی شخصیت کا سینیٹر بننا  مذہبی حلقوں کیلئے دہری خوشی کا باعث ہے کہ ان جیسی شخصیات کے ہوتے ہوئے ایوان میں دین سے متصادم کوئی قانون پاس نہیں ہو سکتا اور دوسرا خلاف دین کام کی روک ٹوک کیلئے ایوان میں ایک ایسی شخصیت بھی موجود ہیں جو دین کی خاطر اپنے پرائے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ 

مزید :

رائے -کالم -