آپریشن ردالفساد میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

آپریشن ردالفساد میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
آپریشن ردالفساد میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

  

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ دنیا کی بڑی فوج کی کمان ایک ایسے پیشہ ور اور ذہین جنرل کے سپرد ہے، جن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ میری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جو بھی ملاقات ہوئی، ان کی گفتگو کامحور ملک و قوم کی سلامتی اور خوشحالی رہا۔جب انہوں نے 28نومبر 2016ء کو پاک فوج کا منصب اعلی سنبھالا تو اس وقت وطن عزیز متعدد بحرانوں کا شکار تھا، جن میں دہشت گردی سرفہرست تھی۔ دہشت گردی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیاہوا تھا اور ملک میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں بدنام ہوچکے تھے اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ ہی  تھے، جنہوں نے آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا۔چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل ہونے پر میڈیا بریفنگ دی اور آپریشن رد الفساد میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے قوم کو آگاہ کیا  جسے سن کر میرا سینہ چوڑا ہوگیا، کیونکہ آج ہم جو دہشت گردی  سے پاک  امن و امان اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس میں پاک فوج اور ایجنسیوں کے افسروں اور جوانوں کی انتھک محنت شامل ہے، جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ہمیں دہشت گردوں سے نجات دلوائی۔ آپریشن ردالفساد کو کامیاب بنانے پر پاک فوج اور ایجنسیوں کو میرا اور پوری قوم کا سلام۔جب آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔پاک فوج اور ایجنسیوں نے معلومات کی بنیاد اور عوام کی جانب سے ساتھ دینے پر کامیاب آپریشن کئے۔2017ء میں آپریشن ردالفساایسے وقت میں شروع ہوا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفراسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشنز میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد ملک کے طول عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار شہروں، قصبوں، مدارس، کاروباری مراکز، بچوں اور خواتین پر حملے کرکے زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے۔ چار برسوں کے دوران ملک کے طول عرض میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 3لاکھ 75ہزار آپریشن کئے گئے۔جس میں سی ٹی ڈی، آئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس، ایف سی، رینجرز سمیت تمام اداروں اور عوام نے بھرپور کردار ادا کیا۔ سندھ میں سب سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔ خیبر پختونخو میں 92ہزار سے زائد، بلوچستان میں 80ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔پنجاب میں 34ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوئے۔چار برسوں کے دوران پانچ ہزار سے زائد تھرٹ الرٹس جاری کی گئیں۔ آپریشن ردالفساد کے دوران خیبر 4آپریشن بھی کیا گیا،جس کا مقصد پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنانا تھا۔ 72ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ اور 5ملین سے زائد اسلحہ ملک بھر سے ریکور کیا گیا۔ 2017ء سے 2021ء کے دوران تقریبا 1850واقعات رونما ہوئے۔ پاک افغان سرحد پر 1684کراس بارڈر فائر ہوئے۔ ان تمام آپریشنز کے دوران 353دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔اس کے علاوہ سینکڑوں دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ ایف سی کے 58نئے ونگز قائم کئے گئے، جبکہ 15مزید ونگ بنانے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریبا 84فیصد مکمل کرلیا گیا۔پاک ایران بارڈر پر 43فیصد کام ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 497بارڈر پوسٹ اور بارڈر ٹرمینلز بھی تعمیر کئے جا چکے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں آپریشن ردالفساد کے دوران 72کلو میٹر سے زائد علاقے میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ کیا گیا۔ اس دوران 2سپاہی شہید ہوئے اور 119زخمی ہوئے۔ 42فیصد علاقے میں ابھی بھی بارودی سرنگیں ہیں جنہیں بہت ہی احتیاط کے ساتھ کلیئر کیا جا رہا ہے اور آپریشن کے دوران 48ہزار سے زائد مائنیز ریکور کی گئی ہیں۔ آپریشن ردالفساد کے دوران قبائلی اضلاع میں عوام کی حفاظت کے لئے بہت سے چیک پوسٹ قائم کی گئیں اور حالات نارمل ہو رہے ہیں۔ آپریشن شروع کرنے کے وقت 450چیک پوسٹ قائم کی گئیں تو اس وقت یہ اڑھائی سو چیک پوسٹ رہ گئی ہیں جو لوگوں کی حفاظت کیلئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز  نے ملک بھر میں 37ہزار 428 پولیس کے جوانوں کو تربیت فراہم کی اور آئندہ 6ماہ کے دوران مزید 4ہزار لوگوں کو تربیت فراہم کرکے قبائلی اضلاع کی پولیس فورس میں شامل کیا جائے گا۔ بلوچستان میں لیویز کے 3865اہلکاروں کو تربیت دی اور 3500سے زائد لیویز اہلکاروں کی ٹریننگ جاری ہے۔آپریشن کے دوران بہت سے لوگ لاپتہ ہوئے اور اس وقت 96فیصد لوگ اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ملٹری کورٹس بھی قائم کی گئیں۔ 717کیسز ملٹری کورٹس کو بھجوائے گئے۔ 344دہشت گردوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا ان میں سے 58کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ 106 دہشت گردوں کو عمر قید اور 195دہشت گردوں کو مختلف سزائیں دی گئیں۔ 78سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا گیا۔ پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہونے پر نہ صرف غیر ملکی سیاحت کے لئے یہاں آ رہے ہیں، بلکہ یہاں پر بھاری سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بھی کھل چکے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا اچھا امیج سامنے آ رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ امن و امان کی صورتِ حال اسی طرح بحال  رہے تو ہمیں اپنی افواج کا بھرپور ساتھ دیتے رہنا ہوگا۔ 

مزید :

رائے -کالم -